اجتماعی بھلائی کا المیہ (مکمل کالم)


ایک شخص نائی کی دکان پر بیٹھا شیو کروا رہا تھا کہ اچانک اس کے برابر والے شخص نے اخبار پڑھتے ہوئے اطلاع دی کہ ’دس کروڑ سال بعد سورج ٹھنڈا ہو جائے گا۔ ‘ یہ خبر سنتے ہی شیو کروانے والے نے ہڑبڑا کر چہرے سے صابن صاف کیا، تولیے کو پرے پھینکا، نائی کو دھکا دیا اور تیزی سے دکان سے نکلنے لگا مگر پھر اچانک اسے کچھ خیال آیا اور اس نے رک کر خبر پڑھنے والے سے پوچھا ’کیا کہا تم نے؟‘ دوسرے شخص نے جواب دیا ’یہی کہ سورج دس کروڑ سال بعد ٹھنڈا ہو جائے گا۔ ‘ یہ سن کر پہلا شخص واپس اپنی کرسی پر بیٹھتا ہوا بولا ’شکر ہے ورنہ میں تو سمجھا تھا کہ شاید دس لاکھ سال بعد ٹھنڈا ہو جائے گا۔‘ بے شک یہ لطیفہ پرانا ہے اور اس کی داڑھی مونچھ تو کیا بھنویں بھی سفید ہو چکی ہیں مگر گلوبل وارمنگ کے بارے میں یہ لطیفہ انسانی سوچ کی بالکل صحیح عکاسی کرتا ہے۔

کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جو فقط ہماری ذات تک محدود ہوتے ہیں اور ان سے دوسرے لوگ متاثر نہیں ہوتے۔ مثلاً اگر کوئی شخص سگریٹ پیتا ہے تو وہ اپنے ذاتی پھیپھڑوں کا نقصان کرتا ہے، ہو سکتا ہے کہ کچھ سال بعد کوئی ڈاکٹر ایسی دوا ایجاد کر لے جس کی مدد سے پھیپھڑوں کے اس نقصان کو کم کر کے انسان کی عمر بڑھائی جا سکے تاہم اگر ایسا نہ بھی ہوا تو سگریٹ صرف اسی انسان کے لیے مہلک رہے گا جو اس کے کش لگائے گا۔ دوسری نوعیت کے مسائل اجتماعی ہوتے ہیں جنہیں بہترین انفرادی کوششوں سے بھی حل نہیں کیا جا سکتا۔

گلوبل وارمنگ ایسا ہی ایک مسئلہ ہے جس نے پورے کرہ ارض اور اس کے ساڑھے سات ارب باشندوں کو متاثر کیا ہوا ہے، کوئی اکیلا شخص یا سائنس دانوں کا کوئی گروہ اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتا۔ یہ مسئلہ جس قدر سنگین ہے، ہم انسان اس کی اتنی ہی کم پروا کرتے ہیں اور اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ ہم سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیاں اس قدر سست روی سے رونما ہوتی ہیں کہ ایک ڈگری درجہ حرارت کا اضافہ بھی سو سال بعد کہیں جاکر ہوتا ہے لہذا یہ کوئی ایسی پریشانی کی بات نہیں، ہمارے بچے، ان کے بچے اور آگے سے ان کے بچے بھی اگر دو ڈگری زیادہ والی زمین میں رہ لیں گے تو کوئی قیامت نہیں آ جائے گی۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ ہر انسان اپنے ذاتی مفاد کے تابع ہو کر سوچتا ہے جس کی وجہ سے وہ گلوبل وارمنگ کوایک خطرہ سمجھنے کے باوجود کوئی عملی قدم اس لیے نہیں اٹھاتا کہ ایسا کرنا اس کے فوری مفاد میں نہیں ہوتا یا پھر اس کے ’ریڈار‘ پر انفرادی نوعیت کے زیادہ سود مند اہداف ہوتے ہیں۔ اس سوچ کو ’اجتماعی بھلائی کا المیہ‘ کہتے ہیں۔ ایک امریکی ماہر ماحولیات نے اس کی مثال یوں دی تھی کہ فرض کریں کہ کچھ کسان اپنے مویشیوں کو ایک چرا گاہ میں چرنے کے لیے چھوڑ جاتے ہیں، چرا گاہ کے وسائل محدود ہیں اس لیے کسانوں نے اپنے طور پر مویشیوں کے چرنے کے کچھ اوقات مقرر کر رکھے ہیں۔ مگر ضرورت سے زیادہ ایک سیانا کسان منافع کی لالچ میں اپنے مویشیوں کی تعداد میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے، چونکہ چرا گاہ سب کی مشترک ہے اس لیے سیانے کسان کا نفع تو بڑھ جاتا ہے مگر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چرا گاہ بنجر ہو کر تمام کسانوں کے لیے بیکار ہو جاتی ہے۔

جس زمانے میں ہم اسکول جایا کرتے تھے ان دنوں سردیوں کا یونیفارم غالباً 15 اکتوبر سے لاگو ہو جایا کرتا تھا۔ اب یہ صورتحال ہے کہ 15 نومبر کو بھی ائر کنڈیشنر بند نہیں ہوتے۔ اسی طرح سردیوں کی مدت تو کم ہوئی مگر ساتھ ہی سردی کی شدت میں اضافہ ہوا تو ہم سمجھے کہ گلوبل وارمنگ محض ڈھکوسلہ ہے کیونکہ اگر دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ سردی کی شدت بڑھ جائے۔ اسی طرح جب ہم یہ خبریں پڑھتے کہ یورپ کے فلاں ملک میں برف باری کے ریکارڈ ٹوٹ گئے تو دل کو بے حد تسلی ہوتی کہ اگر کہیں گلیشیئر پگھل بھی رہے ہیں تو خیر ہے، یورپ میں روزانہ نئی برف بن رہی۔

مگر یہ زمانہ جاہلیت کی باتیں تھیں۔ پاکستان میں گزشتہ بیس برس میں رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں پر کی جانے والی ایک تحقیق سے پتا چلا کہ ان بیس برسوں میں ملک میں ہر سال ایک دن کی گرمی کا اضافہ ہوا ہے یعنی بیس برس میں موسم گرما کے بیس دن بڑھ چکے ہیں۔ اسی طرح بارشیں جو پہلے سال کے 90 دن ہوا کرتی تھیں اب ان کا دورانیہ سکڑ کر 70 دنوں تک محدود ہو گیا ہے مگر ان 70 دنوں کی بارشوں کی شدت 90 دنوں کی بارشوں سے زیادہ ہے۔

سرما کی بارشیں جو پہلے نومبر سے فروری تک ہوا کرتی تھیں اب وہ مارچ/اپریل میں چلی گئی ہیں۔ سردیوں کی بارشیں کم اور گرمیوں کی بارشیں بڑھ گئی ہیں۔ یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے گزشتہ چند برس میں ہوا ہے۔ یہ سموگ (گرے دھند) جس نے ہماری زندگی کو عذاب بنا رکھا ہے، چند سال پہلے تک اس لفظ سے یہاں کوئی آشنا ہی نہیں تھا اور اب یہ حال ہے کہ بچہ ماں کے پیٹ سے باہر آتے ہی پوچھتا ہے کہ آج ائر کوالٹی انڈیکس کتنا ہے!

موسمیاتی تغیرات کیوں ہو رہے ہیں، یہ جاننے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی سائنس کو سمجھا جائے۔ زمین میں کچھ گیسز ایسی ہیں جن کی زیادتی کرہ ارض کی فضا کے لیے نقصان دہ ہے، جیسے کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین وغیرہ۔ سورج کی روشنی جب زمین تک پہنچتی ہے تو گیسوں کا یہ مجموعہ روشنی کی حدت کو زمین کی فضا سے باہر نکلنے سے روکتا ہے اور یوں زمین پر درجہ حرارت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسے گرین ہاؤس ایفیکٹ بھی کہتے ہیں۔ صنعتی انقلاب کے بعد سے لے کر اب تک فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں تین گنا سے زیادہ کا اضافہ ہو چکا ہے۔

فضا میں گرین ہاؤس گیسز میں اضافے کی وجہ سے زمین کے درجہ حرارت میں خطرناک حد تک بڑھاوا ہوا ہے۔ گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا پر برف پگھل رہی ہے۔ جس کی وجہ سے ان کا اضافی پانی سمندروں میں آ رہا ہے جس سے سمندروں کی سطح بڑھ رہی ہے اور ساحلی علاقوں میں خوفناک طوفان آ رہے ہیں۔ زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے صرف گرمی نہیں بڑھتی بلکہ موسموں کی شدت میں بھی اضافہ ہوتا ہے، آئے روز کے طوفان، سیلاب، شدید برف باری اور خشک سالی اس کا ثبوت ہے۔

موسموں کی شدت کی وجہ سے غذائی پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے، فصلوں کی کاشت مشکل ہو جاتی ہے، جانوروں اور پودوں کے لیے سازگار ماحول باقی نہیں رہتا اور پانی کی فراہمی کی قلت ہو جاتی ہے۔ یہ تمام تبدیلیاں لوگوں کی صحت پر بھی براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔ شہروں میں بڑھتی ہوئی حدت سموگ میں اضافے کا سبب بنتی ہے جس کی وجہ سے کئی بیماریاں جنم لیتی ہیں جن میں پھیپھڑوں کا سرطان بھی شامل ہے۔ (ماخذ:نیشنل جیوگرافک) ۔

دنیا میں اگر کوئی ایک مسئلہ ہے جس سے نمٹنے میں انسان ناکام ہوا ہے تو وہ گلوبل وارمنگ ہے اور اس کی وجہ اس مسئلے سے جڑے اعداد و شمار ہیں جو درست طریقے سے موسمیاتی تغیرات کی سنگینی کو اجاگر نہیں کرتے۔ مثلاً جب ماہرین ماحولیات بتاتے ہیں کہ 1906 کے بعد سے اب تک دنیا کا درجہ حرارت ایک ڈگری بڑھ چکا ہے تو اس سے عام آدمی تو کجا اچھا بھلا پڑھا لکھا انسان اندازہ نہیں کر پاتا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ اس ایک ڈگری اضافے کا مطلب طوفان، خوفناک بارشیں، خشک سالی، غذائی پیداوار کی کمی، بیماریاں اور ساحلی شہروں کا ڈوبنا ہے۔

دنیا نے اگلے سو برس کے لیے اپنا ہدف ڈیڑھ ڈگری مقرر کیا تھا کہ درجہ حرارت کو اس سے آگے نہیں جانے دینا مگر اب اس ہدف کا حصول بھی ممکن نظر نہیں آتا اور لگ رہا ہے جیسے بات دو ڈگری درجہ حرارت تک پہنچ جائے گی۔ بظاہر یہ نصف ڈگری کا فرق ہے مگر اس نصف ڈگری کی وجہ سے دنیا کے اربوں باشندے متاثر ہوں گے۔ گزشتہ سو سال میں ایک ڈگری نے جو فرق ڈالا ہے وہ ہمارے سامنے ہے، یہ بات اب دس لاکھ، دس ہزار یا سو سال کی نہیں رہ گئی، اب یہ چند سال کی بات ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 337 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments