خواتین پر تشدد کے خلاف آگاہی کی سولہ روزہ مہم کا آغاز


خواتین پر تشدد کے خلاف اور صنفی امتیاز کے خلاف سولہ روزہ مہم کا آغاز ہو گیا ہے جو کہ دس دسمبر (انسانی حقوق کا دن) تک جاری رہے گی تاکہ خواتین کے بارے میں منفی سوچ کو کم کرنے کے لیے آگاہی دی جائے اور خواتین کو زندگی کے ہر شعبہ میں شرکت کا مناسب مواقع فراہم کیے جائیں سال 2021 کا تھیم سلوگن یہ ہے اقوام متحدہ کے ادارے یو این وومن کے مطابقEnd Violence Against Women Now! ”i Orange the World: یعنی اورینج دی ورلڈ اب خواتین کے خلاف تشدد، استحصال کا خاتمہ ہو، ۔

یہ سولہ روزہ مہم 10 دسمبر انسانی حقوق کے دن تک جاری رہے گی چونکہ خواتین کے حقوق بھی انسانی حقوق سے جڑے ہوئے ہیں اس مہم میں خصوصی طور پر مردوں کو آگاہی دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے کیونکہ خواتین پر تشدد کے مرتکب مرد ہوتے ہیں۔ ایک طرف خواتین پر تشدد اور صنفی امتیاز کے خلاف دن اور مہم چلائی جا رہی ہے تو دوسری طرف پاکستان میں خواتین پر تشدد کے واقعات مین اضافہ ہو رہا ہے۔ اخبار میں چھپنے والے ہولناک واقعات ہم سب کیلے لمحہ فکریہ ہیں۔

ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق خواتین پر تشدد تہذیب یافتہ ملکوں اور دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے دنیا بھر میں ہر چھ میں سے ایک عورت کو مرد کے تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں تقریباً خواتین پر تشدد و زیادتی کے 11 واقعات روزانہ رونماء ہوتے ہیں، جو صرف رپورٹ ہوتے ہیں اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اوسط زیادتی کے واقعات ایک ماہ اور ایک سال میں کتنے واقعات ہوتے ہیں کرونا کی وجہ سے لاک ڈاون کے دوران خواتین پر تشدد میں 200 فیصد اضافہ ہوا جو کہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور اس کا تسلسل اب بھی جاری ہے۔

پاکستان میں دل ہلا دینے اور انسانیت سوز واقعات جو میڈیا پر فوکس ہونے کی وجہ سے ان کے ملزمان پکڑے گئے ہیں جبکہ ملک میں اس سے زیادہ ظلم و زیادتی کے خواتین کے ساتھ سنگین واقعات ہو رہے جو فوکس نہیں ہوتے مگر ان کی نوعیت و شدت زیادہ ہے۔ ان کو لکھتے ہوئے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں قلم رک جاتا ہے مگر ظلم کے خلاف آواز بلند بھی کرنی ہے ایسے درجنوں اور سینکڑوں واقعات ہیں جو رونما تو ہوتے ہیں مگر رپورٹ نہیں ہوتے خواتین اور ان کے خاندان عزت بچانے کیلے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔

پاکستان کی آبادی 22 کروڑ سے بھی تجاوز کر گئی ہے اور نصف سے زائد آبادی یعنی تقریباً 11 کروڑ خواتین پر مشتمل ہیں جو کہ اپنے حقوق کے لیے کوشاں ہیں اسلام میں خواتین کو جو عزت و مقام دیا ہے وہ کسی دوسرے معاشرے اور مذہب میں نہیں ہے ماں، بہن، بہو کے کردار واضح متین کیے گئے، ماں کے قدموں تلے جنت ہے، بیٹی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، بہو گھر کو امن کا گہوارہ بناتی ہے۔ اسلام میں خواتین کو وراثت کا مکمل حصہ اور حقوق پر بہت زور دیا گیا ہے مگر صورتحال ہمارے سامنے ہے بلکہ اسلامی روایات و ہدایات کو پس پشت ڈال کر خواتین کو جائیداد سے محروم اور حقوق پر ڈاکا ڈالا جاتا ہے جائیداد ہتھیانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں اور بعض اوقات خواتین کی جائیداد پر قابض ہونے کے لیے انہیں قتل بھی کر دیا جاتا ہے، پاکستان میں خواتین پر تشدد میں اضافہ اور ان کے حقوق کی صورتحال کچھ اچھی نہیں ہے، 11 کروڑ میں سے ڈیڑھ کروڑ سے زائد خواتین اس وقت اپنے بنیادی حق یعنی شناختی کارڈ سے محروم ہیں ان خواتین کو تاحال قومی شناخت نہیں دی گئی۔

اگرچہ حکومت پاکستان نے اس حوالے سے غیر معمولی اقدامات کر رکھے ہیں اور نادرا سینٹر پر خواتین کے شناختی کارڈ کے لیے خصوصی مفت رجسٹریشن کی جا رہی ہے مگر دیہی خواتین کیلے شناختی کارڈ کے مرکز دور دراز ہونے کی وجہ سے وہاں نہیں پہنچ پاتی۔ بچیوں کی پیدائش کی رجسٹریشن، کمپیوٹرائزڈ نکاح نامہ اور موثر کمپیوٹرائزڈ طلاق کے مسائل خواتین میں سب سے زیادہ ہے، اس وقت 12 ملین بچیاں سکولوں سے باہر ہیں یعنی وہ تعلیم کے دائرے میں نہیں ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین پائیدار ترقی کے 4 شعبوں سے محروم ہیں جن میں کم عمری کی شادی کا نہ رکنا، تعلیم تک رسائی میں رکاوٹ، صحت و علاج معالجہ کی سہولت کا فقدان اور روزگار کے فیصلے میں عدم شمولیت شامل ہے کسی بھی معاشرے کی ترقی میں خواتین کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستانی مرد اور خواتین میں ان کی آمدن اور مقام کی وجہ سے واضح خلیج پائی جاتی ہے، ایسے پسماندہ ترین علاقوں میں تعلیم کے اداروں کا قیام ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے بچیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے۔

خواتین پر تشدد کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اگر ہم شہری اور دیہی خواتین کا موازنہ کریں تو یہ حقائق سامنے آتے ہیں شہری خواتین کو زیاد آگاہی حاصل اور معلومات ہیں جبکہ دیہی خواتین تشدد اور صنفی امتیاز کا زیادہ شکار ہیں، اور اپنے حقوق سے محروم ہیں۔ دیہی علاقوں میں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر نہیں یا ان تک رسائی حاصل نہیں اسی طرح علاج معالجہ کے حوالے سے میلوں سفر کرنا پڑتا ہے روزگار نہ ملنے سے خواتین پریشان ہیں گزشتہ ماہ 16 اکتوبر کو دیہی خواتین کا دن بھی منایا گیا، دیہی خاتون صبح سے لے کر شام تک مزدور کی طرح کام کرتی ہے مگر اس کو اس کی محنت کا جائز حق بھی نہیں دیا جائے، اور دہی خواتین تشدد کا زیادہ شکار ہیں ملک میں خواتین پر ظلم و تشدد کے واقعات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں گھریلو تشدد، مارپیٹ، زیادتی، قفل، خواتین پر تیزاب پھینکنے، جائیداد سے محرومی، اغواء، خودکشی کے واقعات کی لاتعداد ہے۔ جن میں چند رپورٹ ہوتے ہیں اور میڈیا کے سامنے آ جاتے ہیں۔ سندھ اور بلوچستان میں ونی کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں جنوبی پنجاب کا علاقہ بھی خواتین پر تشدد کے حوالے سے سرفہرست ہے۔

ایک غیر سرکاری ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات بڑھ گئے ہیں ہوئے جاتا ہے، جن میں تشدد، استحصال، زیادتی، تیزاب گردی و دیگر شامل ہیں سسرالیوں کے ہاتھوں خواتین کو زندہ جلانے اور تشدد کے واقعات عام ہیں۔

روزانہ اخبارات میں 5 سے 6 واقعات خواتین کے قتل، اغوا، زیادتی یا پھر خودکشی کے ہوتے ہیں معصوم بچیوں کو اغواء کر کے قتل کر دیا جاتا ہے اور ملزمان کا پتہ بھی نہیں چلتا، ضلع وہاڑی کے کئی علاقے ایسے بھی ہیں جہاں بچیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی، ملک کی پائیدار ترقی کے لیے خواتین کی ہر شعبہ میں فیصلہ سازی میں شمولیت ضروری ہے عورتوں کے حقوق پر کام کرنے والے غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے بنائی گئی ”ہم قدم“ موبائل اینڈرائیڈ ایپلیکیشن بارے بھی آگاہی دی جا رہی ہے تاکہ خواتین اپنے حقوق اور ایمرجنسی کے وقت استعمال اور معلومات کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

Facebook Comments HS