بڑھتا قرض


وطن عزیز کی معیشت عالمی مالیاتی اداروں کے قرض اور ”دوست ممالک“ کی امداد کی دائمی محتاج ہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وطن عزیز کا معاشی نظام جن خطوط پر استوار ہے اس میں قرض کے حصول کے بغیر کار مملکت چلانے کی سکت ہی موجود نہیں۔ موجودہ حکومت کا انتخابی منشور مگر یہ تھا کہ غیر ملکی قرضوں سے قوم کو نجات دلائی جائے گی۔ خان صاحب اقتدار میں آنے سے قبل اکثر فرمایا کرتے تھے کہ حکمراں اپنے اللوں تللوں کے لیے ملکی خودمختاری عالمی مالیاتی اداروں کے روبرو گروی رکھتے ہیں ملکی وسائل پر انحصار اور غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی لاکر قرض کی لعنت سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

اس منزل کے حصول کے لیے ضرورت اس امر کی تھی کہ تحریک انصاف اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ملکی وسائل پر انحصار کی سنجیدہ کوشش کرتی اور غیر ضروری سرکاری اخراجات میں حقیقی کمی لانے پر کماحقہ توجہ دیتی۔ اسی طرح وہ آئی ایم ایف اور دوسرے مالیاتی اداروں کے شکنجے سے قوم کو نجات دلانے کا اپنا وعدہ پورا کر سکتی تھی۔ بد قسمتی سے مگر اقتدار سنبھالنے کے ابتدائی دنوں میں، سرکاری گاڑیوں اور وزیراعظم ہاؤس کی بھینسوں کی نیلامی جیسے نمائشی اقدام کے سوا موجودہ حکومت نے بھی سرکاری آمدن میں اضافے پر توجہ دی اور نہ ہی غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی کی کوئی کوشش کی۔

یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت میں ملکی قرضہ جی ڈی پی کے نوے فیصد کے قریب پہنچ چکا ہے۔ رواں سال ماہ اکتوبر میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے وزارت خزانہ سے پاکستان کے ستمبر 2021 تک بیرونی اور اندرونی قرضوں کے کل حجم کی الگ الگ تفصیلات طلب کی تھیں۔ جواب میں سینیٹ میں وزارت خزانہ کی جانب سے فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق جون 2018 تک پاکستان کے اندرونی و بیرونی مجموعی قرضوں کا بوجھ 25 ہزار ارب روپے تھا جو مسلسل اضافے کے بعد اگست 2021 میں 41 ہزار ارب روپے ہو چکا ہے۔

وزارت خزانہ کی سینیٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق حکومت قرضوں پر سود کی مد میں 7 ہزار 460 ارب روپے ادا کر چکی ہے۔ اسی تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ 3 سال کے دوران قرضوں پر سود کی مد میں 50 فیصد ادائیگی کی گئی۔ موجودہ حکومت کی وزارت خزانہ کی طرف سے سینیٹ میں جمع کرائے گئے بیان کے مطابق اگست 1947 سے لے کر جون 2018 تک تمام حکومتیں 25 ہزار ارب روپے قرضے کا بوجھ چھوڑ کر گئی تھیں جبکہ عمران خان صاحب کی حکومت نے صرف 3 سال کے عرصے میں قرضوں میں مجموعی طور پر 16 ہزار ارب روپے کا مزید بوجھ لاد دیا ہے۔

قرضوں میں حالیہ تشویشناک اضافے کی بابت سوال کیا جائے تو یقیناً یہی رٹا رٹایا جواب ملے گا کہ قرضوں میں اضافے کی وجہ امریکی ڈالر کے مقابلہ میں پاکستانی کرنسی کی انتہائی درجے کی تنزلی اور گزشتہ حکومتوں کی جانب سے لیے گئے قرض پر سود کی ادائیگی ہے۔ سوال یہ مگر پیدا ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے جب اقتدار سنبھالا اس وقت ڈالر کی قیمت 125 روپے تھی، تین سال میں اس کے 177 روپے تک پہنچنے کی کیا وجہ ہے؟

مخالفین یہ اعتراض بھی کر سکتے ہیں ہر حکومت پرانے قرض پر سود کی ادائیگی کرتی رہی ہے لہذا یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ محض تین سال میں ملکی قرض میں سولہ ہزار ارب روپے اضافے کا جواز قرار دیا جا سکے۔ ہر حکومت ہی سود کی مد میں ادائیگیاں کرتی ہے اس کے باوجود جی ڈی پی کی شرح میں ہر دور میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہوتا رہا۔ پوری دنیا میں میگا پراجیکٹ ہمیشہ قرضے سے ہی پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں اور گزشتہ ادوار میں ترقیاتی منصوبے ہمیشہ جاری رہے جس کی وجہ سے ملکی قرض میں ضرور اضافہ ہوا مگر کم از کم عوام کا روزگار جاری رہا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب کون سا کارنامہ انجام دیا گیا جس کے لیے اتنا قرض لینا پڑا؟ موجودہ دور حکومت نے کوئی میگا پراجیکٹ بھی شروع نہیں کیا۔ پہلے سے جاری ترقیاتی کام بھی حکومت نے بند کر دیے پھر بھی قرض میں صرف تین سال میں ریکارڈ اضافہ ہو گیا ہے۔

سیاسی مخالفت سے قطع نظر کرنے کے باوجود نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ حکومت میں لیے گئے بیرونی قرض کی شرائط بھی انتہائی حد تک توہین آمیز ہیں۔ پہلے تین سال تک آئی ایم ایف قرض کی اقساط کے لیے ہماری ناک سے لکیریں نکلواتا رہا اور اب سعودی عرب سے حاصل کردہ قرض کا معاہدہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان اور سعودی فنڈ برائے ڈویلپمنٹ کے مابین ہونے والے اس معاہدے کی رو سے 3 ارب ڈالر پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کے اکاؤنٹ میں رکھے جائیں گے جن پر سالانہ چار فیصد سود لاگو ہو گا اور پاکستان اس رقم کو خرچ کرنے کا مجاز نہیں ہو گا۔

مذکورہ معاہدے سے متعلق کسی تنازع کی صورت میں معاملہ سعودی قانون کے تحت زیر سماعت لایا جائے گا۔ معاہدہ کی شرائط کے مطابق کسی وجہ سے پاکستان دیوالیہ قرار پا جائے تو سعودی عرب کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ پاکستان کے کسی بھی بین الاقوامی اثاثے کو ضبط کر کے اپنی رقم وصول کر سکتا ہے۔ پچھلے قرض کی شرح سود 3.2 فیصد تھی مگر حالیہ قرض میں سود کی شرح میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ معاہدے کی ایک اور شرط یہ ہے کہ پاکستان سعودیہ کے مطالبہ پر 72 گھنٹوں میں اس کی رقم واپس کرنے کا پابند ہے اور اگر کسی وجہ سے پاکستان ایسا نہ کر سکا تو سعودی عرب اسے دیوالیہ قرار دینے کا حق رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف کی رکنیت ختم ہونے کی صورت میں بھی سعودی عرب پاکستان کو دیوالیہ تصور کر سکتا ہے۔

مکرر عرض ہے کہ قرض لینا کوئی انوکھا کام نہیں بشرطیکہ قرض کی رقم سے جی ڈی پی گروتھ میں بھی اضافہ ہو اور ملک میں کاروبار کا پہیہ چلتا رہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے مگر ملک پر قرض کا پہاڑ تو لاد دیا ہے لیکن اس کی معاشی ٹیم کی نا اہلی کی وجہ سے ملکی تاریخ میں پہلی بار جی ڈی پی گروتھ بجائے اضافے کے مائنس ہو گئی تھی۔ جس رفتار سے قرض میں اضافہ ہو رہا ہے وہ مجموعی قومی پیداوار سے زیادہ ہے اور ملکی معیشت میں اب اتنی سکت نہیں رہی کہ ہم یہ قرض واپس کر سکیں۔

حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت کا حال سب کے سامنے ہے کورونا وائرس کے بعد اگر عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے قرض کی ادائیگی کی مدت میں کچھ مہلت نہ ملتی تو پاکستان کے لیے بہت مشکل حالات ہو سکتے تھے۔ کورونا میں جہاں دنیا بھر کاروبار بند ہوا تھا وہیں ہمیں معیشت کو ٹریک پر لانے کے مواقع بھی دستیاب ہوئے لیکن اس صورتحال سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ جس کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر دیوالیہ پن کے کنارے پہنچ کر ہمیں آئی ایم ایف اور سعودی عرب کی توہین آمیز شرائط پر سر تسلیم خم کرنا پڑا۔

تین سال گزرنے کے بعد اب کوئی ابہام نہیں رہا کہ موجودہ حکومت کے پاس کوئی معاشی پالیسی ہے اور نہ ہی سفارتی محاذ کی سمجھ بوجھ۔ سوال لیکن یہ ہے کہ کوئی دوسری حکومت آ کر معیشت میں فوری بہتری لا سکتی ہے تو بدقسمتی سے اس کا جواب بھی نفی میں ہے۔ ملکی معیشت جس نہج پر پہنچ چکی ہے اس میں بہتری لانے کے لیے ملکی نظام میں بنیادی تبدیلیاں نا گزیر ہیں ورنہ خدشہ ہے کہ خاکم بدہن بہت جلد قرضوں کا سود ادا نہ کرنے کی وجہ سے ہم دیوالیہ ہو جائیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments