کرسٹوفر کرسٹی کی فن و شخصیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Dr Shahid M shahid

میرے لئے یہ بڑے اعزاز و استحقاق کی بات ہے کہ مجھے ایک ایسے نوجوان کی فن و شخصیت کے حوالے سے قلم اٹھانے کا موقع ملا جو اپنی ذات میں یکتا و منفرد، دلچسپ اور روح پرور، روشن خیال، علم و ادب سے معمور، فلاح انسانیت کا قائل، مثبت سوچ کا حامی، قومی درد سے لبریز، جہالت کے خلاف جنگ لڑنے والا، شیطانی قوتوں سے نبرد آزما ہونے والا سپاہی، اپنے قول و فعل میں بے مثال، عوامی امنگوں کا ترجمان، صحت و صداقت کا قائل، روحانی خواب و خیال دیکھنے والا، جو اپنی ذات میں تفسیر و تعبیر کے خواب سجائے بیٹھا ہے۔

ایک منطقی اور فلسفی سوچ سے معمور شعور و آگاہی کا عصا لیے ہوئے بھاگ رہا ہے اس کے قدموں کی آہٹ ایک منزل کا تعاقب کر رہی ہے۔ اس کی سوچ میں تبدیلی کے نعروں کی ایک بازگشت ہے جو کانوں میں سرگوشیاں کرتی ہوئی برقی لہروں سے معمور دل و دماغ میں ایسا کرنٹ پیدا کر کے فکری توانائی کا عمل تیز کرتی ہے۔

جہاں طوفان اور اندھیاں انسان کو اٹھا کر پھینکنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ لیکن وہ مسلسل دباؤ کے رخ کے خلاف صدائے احتجاج ہے کہ اے میری قوم کے جوانوں تمہارے ہاتھ کی ریکھاؤں میں مقدر کا عروج و زوال ہے

اپنے ہاتھ کی ریکھاؤں میں اپنے مقدر کا ستارہ دیکھو اور اپنی آنکھوں سے جہالت کے ککرے اتارو

تمہاری بینائی تمہارا مقدر دکھائے گی اور اپنے خیالات کو اتنا مضبوط بناؤ کہ جہالت کی دیواریں خودبخود مسمار ہو جائیں گی تمہارے خون کی گرمی تمہاری رگوں میں ایسی گردش پیدا کرے گی جہاں جذبات امید کا سہارا بن جائیں گے تم جس چیز کو ‏ ہاتھ لگاؤ گے وہ سونا بن جائے گی۔

اٹھو اس نور سے منور ہو جاؤ جس کی روشنی سے زمانہ منور ہوتا ہے صبح کے پہروں میں اٹھ کر اس کی آواز سنو جو تمہارے اندر آفاقی صداقت کا پرچار پیدا کردے تاکہ تم حالات و واقعات کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکوں تم جانتے ہو جو بجلی آسمان سے گرتی ہے اس کی گرج اور خوف سے لوگوں کے دل تھرتھرا جاتے ہیں۔ تمہارے رعب و دبدبہ میں آسمانی بجلی کی گرج اور تھرتھراہٹ ہونی چاہیے تاکہ وہ جہاں سے گزرے لوگوں کو اس کی ہیئت و حرکت کا احساس ہو جائے۔

تمہارے دلوں سے احساس کمتری کی فضا ختم ہو جائے جس کے ڈر اور خوف نے تمہیں زندگی کی آزمائشوں میں جکڑ رکھا ہے او ر ان رسیوں اور بندھنوں کو توڑ ڈالیں جس کے جال میں تم قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہو۔

یہ خوف اور ڈر تمہارا اصلی دشمن ہے لیکن تمہارے اندر ضمیر کی طاقت ہے جو ایک منٹ میں فیصلہ سنائے گی۔ کاش آج تم عہد و پیماں کے عادی بن جاؤ کیونکہ وقت پر کیا ہوا ایک فیصلہ تمہاری زندگی بدل کر رکھ دے گا۔

تم جان لو کے تم وہ سپاہی ہوں جنہیں روح کا عصا دیا گیا ہے، تاکہ تم اسے جہاں مارو وہ جگہ خشک ہو جائے تاکہ تم اپنی قوم کو غلامی سے نجات دلا سکوں لیکن یہ تب ہو گا جب تمہارے اندر ایمان کی قوت ہوگی۔ تم جس چیز کو حکم دو گے وہ گر جائے گی تم پانیوں پر چل سکتے ہو بشرطیکہ تمہارے اندر موسی جیسا ایمان ہو،

تم ہوا کو ساکن بنا سکتے ہو، تم معجزات دیکھا سکتے ہو،

تم روحوں کو جیت سکتے ہو، تمہارے کردار سے گلابوں جیسی خوشبو آ سکتی ہے تاکہ جو تم سے ملے وہ تمہارا گرویدہ ہو جائے۔

تمہاری عدم موجودگی اس بات کا شدت سے احساس پیدا کردے کہ تم دنیا کے چراغ ہو۔ تم اس روشنی کے تحت بلائے گئے ہو جس کی چمک کبھی ماند نہیں پڑتی بلکہ تمہاری زندگی سے خارج ہونے والی روشنی الفا بیٹا اثرات جیسی ہو۔ تمہاری سوچ اور وسائل اپنی قوم کی کایا پلٹ سکتے ہیں بشرطیکہ تمہارے اندر مصمم ارادہ موجود ہو۔

میں فاضل دوست کرسٹوفر کرسٹی کو جہالت کے خلاف جنگ لڑنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ وہ اپنی قوم و ملت کا ایسا درخشندہ ستارہ ثابت ہو جس کی روشنی اور چمک سے بہتیرے فیضیاب ہوں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments