ایمرجنسی کا پلان بی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج وہ گھر سے ہی بوجوہ دیر سے نکلی تھی۔ مزید تاخیر، راستے کی ٹریفک اور ہجوم نے کر دی۔ گاڑی پارکنگ میں لگائی۔ اور تیز قدموں سے اسکول کے دروازے پر پہنچی۔ مردوں اور عورتوں کی الگ الگ قطاریں ہونے کی بجائے ہر بندہ اپنی تربیت خود دکھا رہا ہوتا ہے۔ عام دنوں میں بھی اپنی باری کا انتظار کرنا اور لائن میں لگنا اکثر لوگوں پر گراں گزرتا ہے لیکن آج تو منظر ہی اور تھا۔

اسے قطار میں کافی آخر میں جگہ ملی تھی۔ اور مقررہ وقت سے اوپر ہونے کے باوجود بچے باہر نہیں آ رہے تھے۔ پورے ملک میں اس اسکول کی بڑی اور کافی زیادہ شاخیں ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ایسے با اثر اسکول، حکومت میں اپنے مہرے اور چالیں رکھتے ہیں۔ اور بوقت ضرورت ان کی پوزیشن بدلنے کے ماہر ہوتے ہیں۔

واپس سچویشن میں آئیں تو آج گیٹ کے باہر، معمول کے برعکس نہ کوئی چوکیدار تھا، نہ انتظامیہ میں سے کوئی۔ بلکہ ہر روز تو سینئر مسٹریس اور ان کی معاون بھی حاضر ہوتی ہیں۔ لیکن آج تو کوئی بھی موجود نہ تھا۔ اور کووڈ کی احتیاط کے تحت، باہر والوں کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی۔ جب پندرہ منٹ اور گزر گئے، تو میرے پیچھے والی خاتون نے کہا کہ کوئی مسئلہ ہے۔ اور فوراً ہی اونچی آواز میں تھوڑے فاصلے پر کھڑی ماؤں سے پوچھا (وہ چھوٹے بچوں کو جلدی لینے آتی ہیں اور پھر بڑوں کے لئے منتظر ہوتی ہیں ) تو انھوں نے بتایا کہ آج مائیک خراب ہے۔

بس اتنا پتہ چلنا تھا کہ ہر کوئی دروازے پر چڑھ دوڑا۔ چوکیدار نہ گیٹ کھولے، نہ اندر جانے دے۔ اور اندر سے کوئی باہر آ کر، یہ نہ بتائے کہ فنی خرابی ہو گئی ہے اور آج ہم اس طرح سے بچے باہر بھیجیں گے۔ درمیان میں ایک دفعہ ایک صاحب آ کر، خواتین سے اسٹوڈنٹس کارڈ لے گئے اور دروازے کے پیچھے غائب۔ چلو پہلے تو بچوں کا لینا مشکل تھا اور اب تو کارڈز بھی ندارد۔ ساتھ میں ڈرائیورز اور مردوں نے بھی دھاوا بول دیا۔ والدین کی تلخ باتیں الگ۔ لمحوں میں ایسا ہجوم اور حالت ہو گئی کہ الحفیظ، الامان۔

اس میں ایسے رش میں جانے کی ہمت کافی کم ہے۔ وہ تو شادی بیاہ، میٹنگز اور ایسی دوسری تقریبات میں بھی سب سے آخر میں کھانا ڈالنے والوں میں ہوتی ہے۔ اس لئے بیزاری اور فکر سے ایک طرف ہو کر کھڑی کوئی حل سوچنے لگی۔ اور نتیجتاً اسکول کوآرڈینیٹر کو فون کر دیا۔ پہلی دفعہ اٹینڈ نہ ہوا۔ پانچ منٹ بعد پھر ملایا۔ جس پر انھوں نے کہا کہ وہ شہر سے باہر کسی تربیتی کورس میں شرکت کے لئے گئی ہوئی ہیں۔ لیکن وہ کچھ کرتی ہیں۔

دس منٹ اور انتظار کی نظر ہوئے لیکن بچے باہر نہ آئے۔ پھر چھوٹے بیٹے کی استاد کو کال کی اور کہا کہ دونوں بچوں کو باہر بھجوا دیں۔ خیر کچھ لمحوں میں چھوٹے بیٹے باہر آئے لیکن بڑے کی کوئی خیر خبر نہیں۔ پھر کال کر کے درخواست کی اور یوں بڑے والے نظر آئے۔ روز کا دس منٹ کا کام پونے گھنٹے میں با مشکل پورا ہوا۔ اور وہ پارکنگ میں گاڑی میں آ سکی۔

بچے گاڑی میں سوار ہوئے اور کار چل پڑی۔ حسب معمول بچوں کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا۔ باتیں، شرارتیں، مستیاں، خوش گپیاں لیکن وہ آج نہ ان کی طرف متوجہ تھی نہ پارکنگ اور ٹریفک کے مسائل اسے تنگ کر رہے تھے۔ ذہن اسی افراتفری میں پھنسا تھا، جس کو وہ پیچھے چھوڑ آئی تھی۔ بار بار یہ چیز اسے پریشان کر رہی تھی کہ ایک مائیک خراب ہونے پر ملک کے مہنگے اور نامی گرامی اسکول کے یہ حالات تھے، تو پورے ملک کے رنگے برنگے تعلیمی اداروں کی کیا توفیق ہو گی؟

اسے اس بات کا افسوس ہو رہا تھا کہ کوئی بھی ایمرجنسی کسی بھی وقت ہو سکتی ہے لیکن انتظامیہ کی غیر حاضری اور گیٹ کے باہر منتظر لوگوں سے بات نہ کرنا اور نہ بتانا، مسئلے کو بہت پیچیدہ بنا رہا تھا۔ کسی اسکول نمائندے کا وہاں موجود ہونا ضروری تھا۔ اس کے لئے یہ بات بڑی تکلیف دہ ہو رہی تھی کہ نا مساعد حالات میں مثبت، سنجیدہ اور اجتماعی رویے کشتیوں کی نیا پار لگاتے ہیں۔ جس کا اس دن والدین اور ڈرائیورز کی بات چیت میں فقدان تھا۔

گھر ہوں، یا کسی بھی قسم کے ادارے ہوں، ان کے معمولات اور ان میں پیش آنے والے چھوٹے بڑے حادثات، ایمرجنسیز اور واقعات اور ان پر دیا جانے والا رسپانس انفرادی اور اجتماعی رویوں کا عکاس ہوتا ہے۔ کسی بھی قوم کی تنظیم، باہمی اتحاد، عقیدوں پر یقین، ان کی ذہنی، جسمانی، انتظامی تیاریوں اور صلاحیتوں کا ثبوت ہوتا ہے۔ اور بدقسمتی سے آئینے میں ہماری شبیہ کافی دھندلی ہے۔ ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے روز کی روزی روٹی اور دو جمع دو کر کے یہ فرض کیے بیٹھے ہیں کہ راوی ہمیشہ چین ہی لکھے گا۔ تقدیر سدا مہربان ہی رہے گی۔ دن کے اجالے مستقل رہیں گے۔ زمین ہر وقت سونا اگلے گی اور آسمان کی چاندنی لازوال ہو گی۔

اسی لئے تعطل، نامہربان وقت، ناگہانی لمحوں سے نبٹنے کو ہمارے پاس گھریلو، ادارتی اور قومی سطح پر کوئی پلان بی نہیں ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments