الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا عالمی استعمال اور پاکستانی انداز


الیکٹرانک ووٹنگ مشین بنانے والے برانڈ راپیڈیو RAPIDEV، بارے بات چیت گزشتہ تقریباً چھ ماہ سے ہر روز ہماری ٹیلی وژن سکرینوں کی زینت بنی ہوئی ہے، آزاد و منصفانہ انتخابات کے لیے اسے واحد دستیاب اکسیر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

راپیڈیو ڈی ایم سی سی پانچ برس قبل دبئی میں انکارپوریٹ ہوئی، اس کمپنی کی واحد برانچ اسلام آباد میں راپیڈیو پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے کام کر رہی ہے۔ ابھی تک یہ کمپنی ای وی ایم کے لیے کوئی بولی دینے یا کوئی ٹھیکہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔

کوئی واجد گلستان صاحب ہیں جو مبینہ طور پر اس کمپنی کے فرنٹ مین اور مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں اور ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ صاحب دفاعی سامان تیار کرنے والے ادارے نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کام کارپوریشن (این آر ٹی سی) کے ڈپٹی مینیجر ہیں۔ دفاعی سامان بنانے والی اس کمپنی کے مدار المہام ایک ریٹائر جنرل صاحب (سیکرٹری دفاع) ہیں جس کے اعلیٰ انتظامی عہدوں پر اس وقت پاکستان آرمی کے دو ریٹائر بریگیڈئیر اور تین ریٹائر کرنل صاحبان موجود ہیں۔ این آر ٹی سی، ملٹری ڈرونز سے لے کر واکی ٹاکی اور بوقت ضرورت وینٹی لیٹر تک ہر شے تیار کرنے کا دعویٰ رکھتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، گلستان نامی شخص نے اپنی انجنئیرنگ کی ڈگری، کسی اور یونیورسٹی سے نہیں بلکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بذریعہ ورچوئل لرننگ 2005۔ 2010 کے دوران حاصل کی تھی۔

گلستان، نیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (این ایس ٹی سی) پارک، اسلام آباد کے بنیاد گزاروں میں سے ایک ہیں، اس پارک کا انتظام نسٹ (نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی) چلاتی ہے۔ مذکورہ یونیورسٹی آرمڈ فورسز نے قائم کی۔ این آر ٹی سی اور این ایل سی جیسے ادارے این ایس ٹی سی پارک کے بڑے تعاون کنندگان ہیں۔ اس گھرانے کی تکمیل میں اب کسی لوازم کی کوئی کسر باقی نہیں بچتی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر، اگر کسی ستم ظریف نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے مخفف ای وی ایم کو ”الیکشنز بذریعہ ملٹری“ (Elections Via Military) قرار دیا تو اس میں حیران ہونے کی کوئی بات نہیں۔

اس مشین کے ذریعے سے انتخابات سے جڑے تنازعات اور شفافیت کو مدنظر رکھ کر، دنیا بھر میں اکتیس ( 31 ) ممالک نے ای وی ایم کو مختلف مدارج پر ٹیسٹ کیا۔ ان ممالک کی اکثریت نے اس مشق کے بعد اس طریقہ انتخاب کو مسترد کر دیا۔

2018 ء میں ”اکنامک ٹائمز“ کی ایک رپورٹ کے مطابق ”اس وقت اکتیس ممالک ای وی ایم کو استعمال یا اس کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ صرف چار ممالک ایسے ہیں جہاں ملک بھر میں یہ مشین استعمال ہو رہی ہے، گیارہ ممالک کچھ حصوں میں اس مشین کو استعمال کر رہے ہیں۔ پانچ ممالک میں اس کے پائلٹ پراجیکٹ چلائے جا رہے ہیں۔ پائلٹ چلانے والے تین ممالک نے اس کا استعمال منقطع کر دیا ہے جبکہ گیارہ ملکوں نے، جنہوں نے پائلٹ چلایا، الیکٹرانک ووٹنگ کے خلاف فیصلہ کیا ہے۔ “

برطانیہ، تمام جمہوریتوں کی ماں، میں ابھی تک کاغذ کے ووٹ کے ذریعے سے ہی ممبران پارلیمان (ایم پیز) کا انتخاب کیا جاتا ہے اور امریکہ میں 2020 کے بائیڈن انتخابات میں صرف 25 %ووٹ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے ڈالے گئے جب کہ 75 %ووٹ کاغذی بیلٹ کے ذریعے، پاکستان کی طرح، ڈالے گئے۔

انڈیا اور برازیل وہ دو نمایاں ملک ہیں جنہوں نے اپنے آخری قومی انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین ٹیکنالوجی استعمال کی، یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ان ممالک میں گزشتہ 25 برس اس ٹیکنالوجی کا تجرباتی استعمال کیا جا رہا تھا۔

اب تک دنیا میں علانیہ قائم 176 جمہوریتوں میں سے دس فیصد سے بھی کم نے اپنے ہاں ای وی ایم ٹیکنالوجی کا مختلف مدارج میں ٹیسٹ کیا ہے۔ انڈیا اور برازیل جیسے ممالک نے اپنے ہاں اگر یونیورسلی ان مشینوں کا استعمال لاگو کیا ہے تو اس سے پہلے دہائیوں تک انہوں نے اپنے ہاں ان مشینوں کے تجربات اور ٹرائلز کیے ہیں، جس کے نتیجے میں سامنے آنے والی خامیوں اور ضروری تبدیلیوں کا ایک سلسلہ وار طویل عمل انہوں نے اپنی منتخب کردہ ٹیکنالوجی پر نافذ کیا۔ برازیل نے دہائیوں تک تجربات کرنے کے بعد ملکی سطح کے انتخابات میں جو مشینیں استعمال کیں وہ ابتدائی مشین کا بارہواں ورژن ہیں، جن میں سلسلہ وار تبدیلیاں کی گئیں۔ تاہم ہمارے وزیر اعظم، عمران خان صاحب کا ارادہ ہے کہ وہ 2023 ء میں ہونے والے قومی و صوبائی انتخابات میں براہ راست ان مشینوں کا استعمال کریں۔

پاکستان کے سوا آج تک دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جس نے براہ راست اس ای وی ایم ٹیکنالوجی کو اپنے ہاں ہونے والے قومی سطح کے انتخابات میں استعمال کرنا چاہا ہو۔ پاکستان جلد بازی میں بغیر ضروری غور و فکر کیے ہوئے ان مشینوں کے استعمال کی جو کوشش کر رہا ہے وہ کلہاڑے کی تیز دھار سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

پاکستان کی موجودہ تیاریوں کو دیکھتے ہوئے، جو ای وی ایم کے استعمال کے لیے کی جا رہی ہیں، یہ بات ناقابل فہم ہے کہ کیوں ایک ایسی ٹیکنالوجی کے استعمال میں اتنی سرعت دکھائی جا رہی ہے جو اپنے محدودات کی وجہ سے دنیا کے صرف چار ممالک، اسٹونیا، انڈیا، برازیل اور فلپائن میں رائج ہے۔ ہمارے ہاں ایسا کوئی بھی قدم انتخابات کے قانونی جواز پر شکوک کے بادل مزید گھنے کر دے گا، ہمارے ہاں تو پیپر بیلٹ سے ہونے والے کسی انتخاب سے، ماسوائے 1970 والے انتخابات کے، لوگ مطمئن نہیں ہوئے۔

الیکشن سیکیورٹی کے حوالے سے انڈیا میں استعمال ہونے والی ای وی ایم میں 273 سیکیورٹی پروٹوکولز/ٹیسٹ کیے گئے جب کہ برازیل میں ان مشینوں کو استعمال میں لانے سے قبل ایسے ترانوے ٹیسٹ کیے گئے۔ کیا ہمارے ہاں کسی کو علم ہے کہ ہم جو الیکٹرانک مشینیں استعمال کرنے جا رہے ہیں ان کو ایسے کتنے ٹیسٹوں میں سے گزارا جا چکا ہے؟

برازیلی ای وی ایم کے حوالے سے یو ایس ایڈ کی کیس سٹڈی کے مطابق وسیع پیمانے پر ہونے والی انتخابی ایکسرسائز کے لیے پولنگ بوتھ پر نصب کیے جانے سے پہلے ہر ای وی ایم یونٹ کی ٹیسٹنگ اور اس کی باقاعدہ رینڈمائزیشن کی وجہ سے بیرون سے مشین ہیک کرنے کا خطرہ نسبتاً کم ہے۔ حقیقی خطرہ اس اندرونی ہیکنگ سے ہے جو سورس کوڈ اور ان ای وی ایم میں استعمال ہونے والے سافٹ وئیر میں درپیش ہوتا ہے۔

آئی بی ایم، یونی سس اور ڈائیبولڈ پروکومپ نے جو ماڈل جمع کرائے انہوں نے برازیلی الیکشن کمیشن (ٹی آر ای) کی جانب سے مقرر کردہ 96 ٹیسٹ پاس کیے تھے۔ تاہم انڈیا میں یہ ای وی ایم مقامی سطح پر الیکشن کمیشن آف انڈیا نے بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ اور الیکشن کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ کے ساتھ مل کر بنائی ہیں۔ ان ای وی ایم کے انڈسٹریل ڈیزائنرز، آئی آئی ٹی بمبئی میں قائم انڈسٹریل ڈیزائن سنٹر کے فیکلٹی ممبران اور Nedap ہیں۔ متعدد یورپی ممالک کو ای وی ایم ٹیکنالوجی مہیا کرنے والی ایک ولندیزی کمپنی۔ سے وابستہ ہیں۔ کیا حکومت پاکستان نے ای وی ایم ٹیکنالوجی و مشین مہیا کرنے والی مذکورہ بالا 5 کمپنیوں میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی رابطہ قائم کیا ہے؟

آخری بات کہ کیا ہماری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے پاکستان کے حوالے سے، الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ مشاورت کے بعد ، کوئی خصوصی معیارات مقرر کیے ہیں جن معیارات کو پہنچنے والی مشینیں پاکستان میں استعمال کی جائیں گی؟ یہاں یہ بات یاد دلا دینے میں کوئی ہرج نہیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 2010 میں چھ مختلف اداروں کی تیار کردہ ای وی ایم کی جانچ کرنے کے بعد اس طریقۂ انتخاب کو مسترد کر دیا تھا۔

ایک اور پہلو انتخابات کو ای وی ایم ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کی لاگت کا ہے۔ انڈیا میں استعمال ہونے والی مشین کی لاگت تقریباً تین سو اسی امریکی ڈالر فی سیٹ، کے مساوی ہے جبکہ یورپی اور امریکی مینوفیکچرر جس ای وی ایم مشین سیٹ کی پیش کش کر رہے ہیں اس کی لاگت تقریباً چار ہزار امریکی ڈالر فی سیٹ کے مساوی بنتی ہے۔

آج پاکستانی الیکشن کمیشن نے حکومت پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ 800,000 ای وی ایم مشینوں کا بندوبست کر دے، اس کے علاوہ ان مشینوں کو رکھنے اور ڈیٹا سنٹر قائم کرنے کے لیے تین ایکڑ چھتا ہوا احاطہ درکار ہے۔ اگر پاکستان نے کسی یورپی مینوفیکچرر کا انتخاب کیا تو اسے الیکشن کمیشن کی ڈیمانڈ پوری کرنے کے 3.2 بلین امریکی ڈالر (تین ارب بیس کروڑ امریکی ڈالر) درکار ہوں گے۔ ایک ایسا ملک جو اپنے زر مبادلہ کا چالیس فیصد تیزی سے بڑھتے ہوئے افراط زر میں بہا رہا ہے، اس کے علاوہ اسے سنجیدہ نوعیت کے مالی مسائل بھی درپیش ہیں اور وہ آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کے حصول کے لیے جوجھ رہا ہے، ایسے ملک کے لیے اتنا بڑا خرچ برداشت کرنا کیسے ممکن ہو گا؟ اس پر طرہ یہ کہ ان مشینوں کے استعمال کے لیے قانون سازی کرنے کے لیے تمام پارلیمانی اقدار کو روند کر اس کا بل ایوان میں پیش کیا گیا۔

کوئی بھی ایسی ای وی ایم مشین جو راپیڈیو نے یا این آرٹی سی نے بنائی وہ اس معیار کی نہ ہوں گی کہ پاکستان کی مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتیں اسے قبول کر سکیں اور یوں ان کا استعمال کوئی اتنا آسان کام بھی نہیں دکھائی دیتا۔

راپیڈیو اور این آر ٹی سی یا کسی بھی نجی ادارے کی بنائی ہوئی ای وی ایم مشین کیسے قابل قبول ہو سکتی ہے جب کہ ان اداروں کے کریڈٹ پر پاکستان میں استعمال کی جانے والی کوئی نوٹ گننے والی قابل اعتماد مشین، جعلی نوٹوں کی نشاندہی کرنے والی کوئی مشین یا کوئی اے ٹی ایم تک نہیں ہے؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عمران باجوہ

مصنف کو تحقیقی صحافت کے لیے اے پی این ایس کی جانب سے ایوارڈ مل چکا ہے۔

imran-bajwa-awon-ali has 13 posts and counting.See all posts by imran-bajwa-awon-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments