پنجگور بارڈر کا ٹوکن سسٹم اور بے روزگاری


پنجگور بلوچستان کے مغربی ایرانی سرحد سے ملتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت اور بکریاں چرانا ہے۔ پنجگور کا نام پاکستان بر میں یہاں کی کھجور کی وجہ سے مشہور ہے لیکن حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے یہاں کے زمینداروں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بارش کی کمی اور اچھے ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے زراعت سے لوگوں کی ضروریات پورے نہیں ہو رہے۔ 2017 کے مردم شماری کے مطابق پنجگور کی آبادی 316,385 افراد پر مشتمل ہے۔

اتنی بڑی آبادی کے لئے سرکار کی جانب سے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ یہاں سرکاری ملازمت کی کمی کی وجہ سے بے روز گاری میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے، بے روزگاری سے تنگ آ کر لوگ بارڈر پر مزدوری کرنے پر مجبور ہوچکے۔ ہیں اس وقت یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش بارڈر کے کاروبار سے جڑا ہے۔ ایران سے پٹرول اور دیگر ضروریات کے سامان لاکر یہاں بھیجتے ہیں اس سے لوگوں کی ضروریات بھی پوری ہوتی تھی اور ان کا روزگار بھی تھا۔ مزدوری کر کے لوگ اپنے بچوں کو اعلی تعلیمی دینے کے لئے ملک کے دوسرے پڑے شہروں میں بھیج دیتے ہیں۔ لیکن وفاقی حکومت کے ایک نوٹس سے یہاں بسنے والے افراد کی امید پر پانی پھیر دیا جاتا ہے۔ وفاقی حکومت کے کہنے پر بارڈر کو سیل کر دیا گیا، یہاں کا کاروبار بند ہو گیا، جس کی وجہ سے بلوچستان بھر کے لاکھوں افراد بے روز گار ہو گئے اور لوگوں کے لاکھوں روپے کی گاڑیاں فضول ہو گئے۔

ایف سی بلوچستان کی جانب سے بارڈر کے کاروبار کے لئے ایک ٹوکن سسٹم شروع کر دیا گیا تھا۔ اس کا طریقہ کار یہ تھا کہ گاڑی مالکان اپنے گاڑی کے نمبر اور شناختی کارڈ وہاں جمع کر کے ایک اسٹیکر وصول کرتے تھے۔ ہر گاڑی کا بارڈر جانے کا نمبر ماہ میں ایک بار آتا ہے اور وہ جا کے باڈر سے تیل لا سکتا ہے۔ علاقائی لوگوں کے مطابق ہزاروں لوگوں کو ٹوکن بھی نہیں مل سکے جس سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہو کے گھر میں بیٹھنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

بے روز گار لوگ مختلف وقتوں میں احتجاج اور ہڑتال کرتے رہتے ہیں کے ہمیں بارڈر پر کام کرنے دیا جائے۔ بارڈر یونین کے مطابق کچھ با اثر شخصیات کو ٹوکن مل چکا ہے اور پانچ پانچ لاکھ پر یہ ٹوکن فروخت ہو رہے ہیں اور اس وقت چند لوگ صرف بارڈر پر کاروبار کر رہے۔ ہیں غریب لوگ بے روزگار بیٹھے ہوئے ہیں وہ ہر وقت مطالبات کرتے رہتے ہیں کہ سب کو کاروبار کرنے دیا جائے تاکہ مزدوروں کو بھی روزگار مل جائے۔

حکومت بلوچستان پہلے سے روزگار دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ ان کو ایک امید کی کرن نظر آئی جب بلوچستان کے وزیر اعلی جام کمال مستعفی ہوئے۔ بلوچستان کے نئے وزیر اعلی قدوس بزنجو بنے۔ عام لوگوں کا قدوس بزنجو سے مطالبہ تھا کہ وہ باڈر میں کاروبار کھولنے میں ضرور کوشش کریں گے چونکہ قدوس بزنجو کا حلقہ بھی ہے اور انہوں نے اور ان اور پنجگور کے کچھ علاقوں سے ووٹ بھی لئے تھے۔

وزیر اعلی بننے کے بعد بزنجو صاحب کا یہ بیان سامنے آیا کہ وہ باڈر کے مسئلے پر وفاقی حکومت سے بات چیت کر کے باڈر کھول دیں گے۔ کچھ دن بعد وزیر اعظم عمران خان کا بھی بیان سامنے آیا کے باڈر کو کاروبار کے لئے کھول دیا جائے گا مگر ٹوکن سسٹم کا خاتمہ اب تک نہ ہوسکا ہے۔ 29 نومبر 2021 کو وزیر اعلی قدوس بزنجو نے تربت دورے میں اعلان کیا کہ باڈر میں ٹوکن سسٹم ختم کیا جائے گا اور شناختی کارڈ دیکھ کر بارڈر پر جانے دیا جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا واقعی میں ہر آدمی کو کاروبار کرنے دیا جائے گا یا غریب کو اس کی غربت کی وجہ سے زندگی بھر روزگار سے دور رکھا جائے گا؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شاہ میر بلوچ کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments