مہنگائی سے پستے عوام اور سیاسی جماعتوں کی بے نیازی
ادارہ شماریات کی رپورٹیں ہوشربا ہیں ان سے واضح معلوم ہو رہا ہے کہ ملک میں مہنگائی میں کمی اور معاشی بہتری کے امکانات دور تک موجود نہیں وفاقی حکومت ’وزراء اور مشیران و ترجمان صرف بیانات کے ذریعے معاشی ابتری کو بہتری کی جانب لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کا المیہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد سے کوئی معاشی نظریہ استوار نہیں کر سکی اسد عمر معاشی ٹیم کے سپر سٹار تھے جو آٹھ ماہ بعد ہی وزارت خزانہ سے فارغ ہو گئے ان کی جگہ عبدالحفیظ شیخ بھی ملکی معیشت کو بہتر کرنے میں ناکام رہے اور چلتے بنے ان کے بعد حکومت شوکت ترین کو لے آئی لیکن ابھی تک وہ بھی کوئی کارنامہ سرانجام نہ دے سکے لیکن اس کے باوجود حکومت مہنگائی سے پسے طبقات کا احساس کرنے کو تیار نظر نہیں آ رہی ہے۔
حالات یہ ہیں کہ عوام کو پاکستان دنیا کے مقابلہ میں سستا تریں ہونے کی نوید سنائی جا رہی ہے لیکن بازار میں خریداری کرنے والا فرد آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں سن کر پریشان ہو جاتا ہے۔ حکومت واضح کرے کہ اس کی معاشی پالیسی کیا ہے اہداف کیا ہیں ان اہداف کو حاصل کرنے کے لئے طریقہ اور حکمت عملی کیا ہے مہنگائی کو ختم کرنے کے لئے کیا پالیسی ہے برآمدات کیسے بڑھائی جائیں گی حکومت اگر ان امور پر پالیسی نہیں دے سکتی تو قوم کو غلط بیانات اور اعداد و شمار سے گمراہ کرنے کی تو کوشش نہ کی جائے۔
کورونا وائرس کے ابتدا سے اب تک اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی بے حسی سے تو ایسا محسوس ہو رہا ہے حکومت عوام دشمن پالیسی پر عمل پیرا ہے شاید انہیں عوام کے دکھ درد سے کوئی سروکار نہیں عوام کے لئے ہر گزرتا دن مشکل تر ہوتا جا رہا ہے مہنگائی نے تو لاکھوں‘ کروڑوں لوگوں کو بھوک سے درچار کر دیا ہے اور یہ سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے۔ روز افزوں مہنگائی میں اضافہ ملک کی عوام کو کس مقام پر لے کر جائے گا کسی کو کچھ معلوم نہیں غریب آدمی کیا کرے یہ بتانے کی تو ضرورت نہیں ہے کہ عام آدمی کے لئے زندگی گزارنے کے لئے بنیادی مسائل کا حل نہ ہونا سوہان روح بنتا جا رہا ہے۔ ملک میں ریکارڈ مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل حد درجہ تشویش ناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں حکومتی ترجمانوں کی ایک فوج ظفر موج ہے جو چینل اسکرینوں پر آ کر عوام کو لولی پاپ دے کر مزید ان کے زخموں پر نمک پاشی کر رہی ہے۔
ملکی سیاست کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو سیاسی حالات سے بے یقینی ’مایوسی اور انتشار کے سائے بڑھتے جا رہے ہیں ملک میں موجود سیاسی قوتیں صرف اپنی خود غرض سیاست کے ذریعے ایک دوسرے کو پچھاڑتی نظر آ رہی ہیں ایسے ایسے نکات پر بحث جاری ہے جن کا عوام اور عوامی مسائل سے دور دور تک کا واسطہ نہیں ہے۔ عوام کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ مہنگائی میں دن بہ دن ہونے والے اضافہ کا سد باب کیسے ممکن ہے عوام تو یہ جاننا چاہتی ہے کہ گیس بحران‘ مہنگائی ’بے روزگاری‘ لاقانونیت وغیرہ جیسے سلگتے مسائل کا کوئی حل ہے یا نہیں؟
بظاہر تو ملکی سیاست کے تیور سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ سیاست ایسا گورکھ دھندا ہے جس کا ان کے مسائل یا ان کے حل سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے مسائل ملکی سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی یک سوئی اور اتحاد کے بغیر حل ہونے والے نہیں لیکن وہ یک سوئی ’اتحاد اور نیک نیتی عوام کو کہیں نظر نہیں آ رہی سیاسی جماعتیں صرف اپنا اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے عوام کو بے وقوف بنا رہی ہیں۔ عوام اب جتنے کمر شکن مسائل کی دلدل میں پور پور ڈوب چکی ہے سیاست اب ان کے نزدیک سیاسی بازی گری اور شعبدہ بازی سے زیادہ کچھ نہیں سیاسی راہنماؤں کو اب سوچنا چاہیے کہ وہ کب تک لوگوں کے صبر کا امتحان لیں گے۔
ملک میں سیاست ایک آرٹ بن چکی ہے جسے اس انداز میں ڈیزائن کیا جاتا ہے جہاں صرف ان کی خود غرض سیاست کے رنگ جھلکتے نظر آتے ہیں اور اس میں جمہور کے مسائل اور مفادات کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ مہنگائی کی شرح میں اس خوفناک اضافہ کے باعث غربت اور بے روزگاری کی جو ایک نئی لہر جنم لے رہی ہے اس سے حکومت کے لئے مزید مشکلات پیدا ہوں گی افراط زر کو کم کرنے اور کنٹرول کرنے کے لئے حکومت کبھی بے بس نہیں ہوتی دنیا میں ایسے چیلنجز سر اٹھاتے رہتے ہیں لیکن ان سے نمٹنے کے لئے ادارے حرکت میں آتے ہیں پاکستان میں یہ صورتحال دنیا کے دوسرے ممالک سے مختلف نہیں لیکن المیہ ہے ملکی اقتدار سے چمٹے رہنے والے سدا بہار الیکٹیبلز کی سیاست میں ہمیشہ ایک کھیپ موجود رہی ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں وزیر‘ مشیر کی حیثیت سے براجمان ہوتے ہیں اور یہی صورتحال موجودہ حکومت کی بھی ہے وہی مشیر وہی وزیر جو ماضی کی حکومتوں میں رہ کر عوام کے مسائل میں اضافہ کا سبب بنتے رہے ہیں آج بھی ان کے دیے جانے والے بیانات ریکارڈ کا حصہ ہے جن سے اخذ کرنا دشوار نہیں انہیں ادراک ہی نہیں مہنگائی کی وجہ سے ملکی میں بحرانی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ مہنگائی کو کم اور کنٹرول کرنے کے لئے ترجیہی بنیادوں پر ٹھوس عملی اقدامات اٹھائے تاکہ عام آدمی کی سانسیں محدود نہ ہوں حکومت کو پرائس کنٹرول اداروں کو بھی فوری حرکت میں لانے کی ضرورت ہے تا کہ مہنگائی میں اضافہ کے اصل محرکات بھی سامنے آ سکیں تاکہ کوئی ایسا بحران جنم نہ لے جس سے حکومت کی بنیاد غیر مستحکم ہو۔ بنیادی ضروریات زندگی کا حصول ملک کے ہر فرد کا حق ہے اور یہ بنیادی ضروریات زندگی بہم پہنچانا ریاست کی ذمہ داری میں شامل ہے کسی بھی ملک کی خوشحال عوام ترقی و خوشحالی کی دلیل ہوتی ہے۔ بہر حال تین سالہ حکومت کو چاہیے کہ اب عام آدمی کو ریلیف دے تاکہ عام آدمی جو مہنگائی کے ہاتھوں مزید مسائل کی دلدل میں دھنس چکا اس کی اشک شوئی ہو سکے!


