مسجد خدا کا گھر نہیں اسے منتقل کیا جا سکتا ہے
عوام و خواص میں ایک بیانیہ عام ہے کہ مسجدیں خدا کا گھر ہیں، لیکن آیات و احادیث اس کی نفی کرتی ہیں۔ انہیں مسجد کہتی ہیں، خدا کا گھر قرار نہیں دیتیں۔ اس کے بالمقابل انسان کے لیے جنت میں گھر بنانے کی بشارت دیتی ہیں۔
اسی طرح دوسرا بیانیہ یہ رائج ہو گیا ہے کہ ایک بار مسجد جس جگہ تعمیر ہو گئی وہ جگہ زمین کی تہوں سے لے کر آسمان کی بلندیوں تک تا قیامت مسجد رہے گی، نہ اس کی حیثیت تبدیل کی جا سکتی ہے نہ ہی اسے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس بیانیہ کی تائید میں قرآن و حدیث سے قطعی و صریح دلیل پیش نہیں کی جا سکتی۔
مسجد خدا کا گھر نہیں ہے :
اہل ایمان و اسلام کے تمام قابل ذکر طبقات کا ماننا ہے کہ خدا جسم اور جسمانی ضروریات سے پاک ہے۔ جس طرح اسے کھانے پینے اور بیوی بچے وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے اسی طرح اس کے وجود کے لیے کسی جگہ کی اور اسے رہنے کے لیے کسی گھر کی ضرورت نہیں ہے۔ قرآن اس عقیدہ کی تائید کرتا ہے :
اور مشرق و مغرب (سب) اللہ ہی کا ہے، پس تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کا جلوہ ہے (یعنی ہر سمت ہی اللہ کی ذات جلوہ گر ہے ) ، بیشک اللہ بڑی وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے، (سورۃ البقرۃ، آیت: 115 )
اللہ کی مسجدیں صرف وہی آباد کر سکتا ہے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لایا اور اس نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور اللہ کے سوا (کسی سے ) نہ ڈرا۔ الخ (سورۃ توبہ، آیت: 18 )
اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو گا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کا ذکر کیے جانے سے روک دے اور انہیں ویران کرنے کی کوشش کرے! ۔ الخ (سورۃ البقرۃ، آیت: 114 )
بخاری اور مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے : جس نے مسجد بنائی اللہ اس کے لیے اسی مسجد کے جیسا ( گھر) جنت میں بنائے گا۔ اسی مضمون کی دوسری روایت ہے : جس نے اللہ کی خوشنودی کے لیے مسجد بنائی اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔
مسجد کی حقیقت:
مسجدوں کو قرآن و حدیث نے خدا کا گھر نہیں کہا اور صراحت و قطعیت کے ساتھ کوئی ایسی دلیل بھی نہیں ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ انہیں منتقل نہیں کیا جا سکتا ہے، یا اس کی حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔ اس کے باوجود مسلمان ایسا کہتے اور مانتے ہیں اور اس پر مر مٹنے کو تیار ہوتے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے، ان کا موقف درست ہے یا نا درست اسے سمجھنے کے لیے وقف اور شخصی و عوامی پراپرٹی/ملکیت کے اصول کو دھیان میں رکھنا ہو گا۔
کسی نے اپنی زمین پر عمارت تعمیر کی، خواہ مسجد سے اس کی شکل ملتی ہو یا دالان سے، یا بغیر تعمیر کھلی جگہ میں خود بھی اذان کے ساتھ نماز قائم کرنے کو معمول بنایا اور اہل محلہ کو بھی شریک کر لیا، لیکن زبانی یا تحریری طور پر کبھی ایسا اقرار و اعلان نہیں کیا کہ اس نے مذکورہ زمین مسجد کے لیے وقف کر دی ہے، تو خواہ اس زمین پر پچاس برس ہی نماز کیوں نہ قائم ہوتی رہی ہو، وہ جب چاہے نماز کا سلسلہ موقوف کر کے اس جگہ کو دوسرے مصرف میں لا سکتا ہے، حسب ضرورت دکان مکان جو چاہے بنا سکتا ہے۔ اس کے پاس دوسری زمین ہو اور گنجائش بھی ہو تو وہاں نماز قائم کرنی شروع کرے اور نہ ہو تو نہ کرے۔ کوئی پچاس برس کا عمر دراز شخص یہ دعوہ نہیں کر سکتا کہ وہ جب سے پیدا ہوا وہاں اس نے نماز ہوتے دیکھی ہے، لہذا وہ مسجد ہے اور اس کی حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی یا اسے منتقل نہیں کیا جا سکتا ہے۔
کسی مسجد کو دائمی و ابدی حیثیت تب حاصل ہوتی ہے جب اس زمین کے ٹکڑے کو غیر مشروط طور پر وقف کر دیا جائے جس پر وہ قائم ہے۔ وقف کر دینے کے بعد وہ زمین شخصی ملکیت سے نکل کر عوامی ملکیت ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد وقف کرنے والا شخص جیتے جی یا اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثہ اس کی ملکیت کا دعوہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس میں کسی رد و بدل کا اختیار انہیں حاصل ہے، اسی طرح کسی تیسرے چوتھے شخص یا جماعت کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے۔
وقف کرنے والے صاحب خیر کی نیت اس معاملہ کا مرکزی کردار ہے، اسے بہت اہمیت حاصل ہے اور اسی اہمیت کے پیش نظر یہ کہا جاتا ہے کہ مسجدوں کو منتقل نہیں کیا سکتا اور اور نہ ہی ان کی حیثیت تبدیل کی جا سکتی ہے۔ ایسے ہی جس طرح ایک کے گھر کی چھت پر دوسرا شخص گھر نہیں بنا سکتا اور اس کی بنیاد کے نیچے سرنگ نہیں کھود سکتا اسی طرح مسجد کے اوپر اور نیچے کا حصہ بھی کوئی استعمال میں لائے اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ اسی بنیاد پر یہ یہ کہا جاتا ہے کہ زمین کی تہوں سے آسمان کی بلندیوں تک مسجدیں تا قیامت مسجد ہی رہیں گی۔
مسجد اور وقف کا رشتہ:
مسجد مع عمارت یا محض زمین وقف کیے جانے کے بعد عوامی ملکیت ہو جاتی ہے، ایسی صورت میں اسے کسی ایک شخص یا جماعت سے منسوب نہیں کیا سکتا لہذا خدا سے منسوب کر دیا جاتا ہے جو تمام انسانوں کا رب ہے اور کہا جاتا ہے کہ مسجد خدا کا گھر ہے۔ سوال یہ کیا جا سکتا ہے کہ بہت سے اسکول، مدرسے، خانقاہیں، ہسپتال، راستے اور زمینیں وغیرہ بھی وقف کی جاتیں ہیں، وہ بھی مشترکہ عوامی ملکیت ہوتی ہیں لیکن انہیں خدا کا اسکول اور خدا کا ہسپتال وغیرہ نہیں کہا جاتا ہے، تو اس کا جواب یہ دیا جا سکتا ہے کہ حالیہ زمانہ میں دوسرے اوقاف کے بر خلاف مسجدوں سے انسان کے سماجی، سیاسی و مادی معاملات و مفادات وابستہ نہیں ہیں، ان میں صرف خدا کی عبادت کی جاتی ہے، وہ خدا کی عبادت کا گھر ہیں لہذا انہیں خدا کا گھر کہا جاتا ہے۔
ایسا اس لیے ہے کہ تمدنی ارتقا کے نتیجہ میں زندگی کے تمام شعبہ جات ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکے ہیں، ورنہ مساجد اپنی حقیقت کے اعتبار سے ”کمیونیٹی سنٹر/سماجی مراکز“ ہیں۔ اسلام کے ابتدائی ادوار میں مسجدوں کے اندر تعلیمی حلقے بھی لگتے تھے، سماجی، سیاسی اور عسکری مشورے بھی ہوتے تھے اور غیر ملکی مسلم و غیر مسلم وفود اور سفیروں کا استقبال بھی مسجدوں میں کیا جاتا رہا ہے۔
مسجد اہمیت کا حامل ”سماجی مرکز“ ہے :
دیگر تمام مذاہب کے پیرو کاروں کے بشمول مسلمانوں کی طبیعت بھی ایسی ہو گئی ہے کہ کسی قول، عمل یا چیز کو مقدس ثابت کرنے کے لیے اسے ما بعد ال طبیعیات سے جوڑنا اور ما فوق الفطرت بتانا یا دکھانا ضروری سمجھنے لگے ہیں۔ جبکہ طبیعی اور فطری طور پر انسانی برادری بجائے خود اتنی اہم اور اشرف ہے کہ اس کے کسی ایک فرد سے جائز طور پر منسوب کوئی بھی چیز محترم ہو جاتی ہے لہذا لازمی طور پر جماعت سے کسی چیز کا انتساب اسے مزید احترام اور تقدیس عطا کر دیتا ہے۔ اس نقطۂ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے مساجد کو مقدس قرار دینے کے لیے اس کا ”سماجی مرکز“ ہونا بھی کافی ہے، ضروری نہیں ہے کہ اسے خدا کا گھر ہی باور کیا اور کرایا جائے۔
مسجد کو منتقل کیا جا سکتا ہے :
مساجد کی حیثیت کے تبدیل نہ کیے جانے یا انہیں منتقل نہ کیے جانے کی اصولی بحث کے بعد یہ جاننا ضروری ہے کہ استثنائی صورت حالات میں تقریباً تمام مکاتب فقہ کے فقہا نے مسجدوں کو منتقل کرنے کی مشروط اجازت دی ہے۔ اس پر عمل بھی ہوتا آیا ہے۔ وقف کرنے والے کی منشا مسلمانوں کے لیے سہولت کاری و خیر خواہی اور حصول اجر و ثواب کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے!
مسلم آبادی مسجد کے قرب و جوار سے منتقل ہو گئی ہو، غیر مسلموں کا تسلط قائم ہو جائے، انسانی آبادی کا بڑا مفاد یا نقصان اس زمین سے وابستہ ہو جائے، مثال کے طور پر قیمتی معدنیات کے ذخائر دریافت ہوں، سڑکوں کا وہیں سے نکلنا نا گزیر ہو، آبی ذخائر کے لیے ڈیم بنانا اسی جگہ ضروری ہو، آتش فشانی کا اندیشہ ہو، دلدل ہو، ندی کا کٹاؤ ہو یا سمندر کی سطح بلند ہو جائے یا کسی اور وجہ سے مسجد کو اس کی قدیم حالت پر باقی رکھنے سے وقف کا مقصد حاصل نہ ہوتا ہو تو فروخت کر کے یا تبادلہ کر کے اسے دوسری مناسب جگہ منتقل کر دینے میں کیا حرج ہو سکتا ہے!
ایسا کرنے سے نہ صرف یہ کہ مسجد کی حرمت باقی رہے گی بلکہ اس کی افادیت میں بھی اضافہ ہو جائے گا اور واقف کی منشا بھی یہی ہے۔ تازہ مثال ترکی کی ہے جہاں طیب اردگان کی حکومت نے اگست 2019 میں صوبہ باطمان سے 610 سالہ قدیم ”سلطان سلیمان مسجد“ کو اس کی اصل جگہ سے تین کلو میٹر دور منتقل کیا، کیوں کہ حکومت کو اس جگہ ”ایلی سو“ نام سے ایک ڈیم بنانا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ حکومت نے جدید ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مسجد کو اس کی بنیاد سے اکھاڑ کر پیڑ پودے کی طرح دوسری جگہ منتقل کر دیا۔
سوال یہ ہے کہ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہوتا تو کیا حکومت مسجد کو اس کی جگہ رہنے دیتی! عمارت منتقل ہو بھی گئی تو ”زمین کی تہوں سے آسمان کی بلندیوں تک“ والے عقیدہ کی کیا توضیح یا توجیہ کی جائے گی! زمین تو وہیں رہ گئی۔ مسلم ممالک کی وزارت اوقاف سے تفصیلات اکٹھا کی جائیں تو اس طرح کی سیکڑوں مثالیں مل سکتی ہیں۔
شخصی اور سرکاری وقف میں فرق:
ایک اہم نقطہ جس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ شخصی اور سرکاری وقف کی حیثیت ایک جیسی نہیں ہو سکتی۔ کسی شخص کو اپنی ملکیت میں تصرف کا مکمل اختیار ہوتا ہے لیکن ایک حاکم، خواہ بادشاہ ہی کیوں نہ ہو، عوامی یعنی سرکاری املاک کا محض نگہبان ہوتا ہے۔ صوابدیدی اختیار کا استعمال کر کے یا شوری کے مشورے سے عوامی مفاد میں وقف کے ذریعہ سرکاری املاک کے استعمال کا حق جس طرح اسے حاصل ہے بالکل اسی طرح اس کے بعد آنے والا حاکم اپنی صوابدید اور مشوروں کے مطابق سابقہ سرکاری اوقاف کی حیثیت کو بدل دینے کا مجاز ہے جن میں مساجد بھی شامل ہیں۔
منتقل نہ کیے جانے کی صورت میں ممکنہ مشکلات:
مساجد کی حیثیت کے نہ بدلنے یا منتقل نہ کیے جانے والے بیانیہ کو حتمی مان لیا جائے تو یورپی و امریکی ممالک میں مقیم تارکین وطن مسلمان آفت میں پڑ جائیں گے۔ وہاں عیسائیوں سمیت کسی کو عوامی مقامات پر عبادت کی اجازت نہیں ہے۔ بہت ساری جگہوں پر زمین اتنی مہنگی اور قوانین ایسے سخت ہیں کہ مسلمان خریدنے سے رہے۔ اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں۔ ایک یا چند با حیثیت صاحب خیر بلڈنگ میں ایک فلور/منزل یا بڑا ہال خرید کر مسجد کے لیے وقف کر دیتے ہیں جس میں بچوں کی دینیات کی تعلیم کا انتظام و اہتمام بھی ہوتا ہے۔
تارکین وطن کی ہجرت کا سلسلہ جاری ہے، آبادی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔ عمارت پرانی ہو تو اسے توڑنا بھی پڑ سکتا ہے، اس کے بعد یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ جس نقشہ سے پہلی عمارت بنی تھی نئی عمارت بھی ویسی ہی بنے اور مسجد کے لیے وہی فلور یا ہال ملے جو سابقہ عمارت میں تھا۔ ایسی حالت میں نا گزیر طور پر وقف کرنے والے کی نیت کو مد نظر رکھتے ہوئے جو بھی صورت حال ہوگی اسے قبول کیا جائے گا۔ یہاں نہ تو زمین مسلمانوں کی ہے نہ آسمان، مسجد کے اوپر مسٹر باراک اوباما کا فلور ہے اور نیچے مسٹر بل کلنٹن کا ، ایسی صورت میں ثریٰ سے ثریا تک اس کی حد کیوں کر مانی جا سکتی ہے اور قیامت تک کون سی عمارت برقرار رہے گی کہ مسجد کے بقا کی دعویداری کو جواز حاصل ہو۔
خلاصۂ تحریر یہ ہے مسجد خدا کا گھر نہیں، خدا کی عبادت کا گھر ہے۔ عبادت کے علاوہ دینی و عصری تعلیم کے ساتھ سماج کے دیگر فلاحی منصوبوں کے لیے بھی اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ بلا وجہ تو کسی کو اپنا گھر بھی منتقل نہیں کرنا چاہیے، لیکن اسباب معقول ہوں تو عبادت خانے منتقل کرنے میں بھی پس و پیش مناسب نہیں ہے۔
حرمین شریفین، مسجد اقصی اور مسجد قبلتین آثار ہی نہیں، شعائر کی حیثیت رکھتی ہیں لہذا انہیں مندرجہ بالا بحث سے خارج سمجھا جائے۔


