سیالکوٹ کی ابتدائی رپورٹ: کام چور ورکرز نے لبیک کے سٹکر کو بہانہ بنایا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صحافی مبشر زیدی نے ٹویٹر پر بتایا کہ پولیس نے سیالکوٹ واقعے کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ عالمی کمپنیوں کا فیکٹری کا دورہ طے تھا۔ مینیجر پریانتھا کمارا نے عملے کو مشینوں اور دیواروں سے تحریک لبیک کے سٹکر ہٹانے کو کہا جس کے بعد عملے نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور پریانتھا کو قتل کر دیا۔

سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں عمران اکبر نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کرنے کے بعد یہ سامنے آیا ہے کہ پریانتھا کمارا ایک پروفیشنل شخص تھے اور پروڈکشن کے معیار کے معاملے میں سختی کے لیے جانے جاتے تھے۔ کچھ ورکرز نے اپنا بدلہ لینے کے لیے مبینہ طور پر مذہبی رنگ دیا جس کے نتیجے میں یہ قتل کیا گیا۔

اے آر وائی نے اس معاملے کے بارے میں مندرجہ ذیل خبر دی ہے

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب کو سیالکوٹ واقعے کی ابتدائی رپورٹ ارسال کردی گئی، جس میں بتایا گیا گرفتار فیکٹری ورکرز کا دعوی ٰہے اسٹیکر پر مذہبی تحریر تھی، بادی النظر میں اسٹیکر کو بہانہ بنا کر ورکرز نے منیجر پر حملہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ واقعے کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب کو ارسال کردی گئی ہے، رپورٹ میں کہا گیا کہ کچھ غیرملکی کمپنیوں کے وفد نے فیکٹری کا دورہ کرنا تھا، جس پر فیکٹری منیجر نے کہا سب مشینیں صاف ہونی چاہئیں جبکہ مشین پر لگے اسٹیکر ہٹانے کا کہا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گرفتار فیکٹری ورکرز کا دعویٰ ہے اسٹیکر پر مذہبی تحریر تھی، بادی النظر میں اسٹیکر کو بہانہ بنا کر ورکرز نے منیجر پر حملہ کیا، ورکرز پہلے ہی منیجر کے ڈسپلن اور کام لینے پر غصے میں تھے، واقعے سے قبل کچھ ورکرز کو کام چوری اور ڈسپلن توڑنے پر فارغ بھی کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق مارپیٹ کا واقعہ صبح 11 بجے کے قریب شروع ہوا، 11 بجکر 25 منٹ پر پولیس کو اطلاع ملی، 3 اہلکار موقع پر پہنچے، ہجوم زیادہ اور ٹریفک جام ہونے پر پولیس کی نفری تاخیر سے پہنچی، واقعے کے وقت فیکٹری مالکان غائب ہو گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرقانون پنجاب کی زیرصدارت اجلاس میں رپورٹ فائنل کی گئی، مقتول کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرا کر سری لنکا بھجوایا جائے گا، واقعے سے متعلق 120 افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments