کیا ہمارے بچوں کا مستقبل خوفناک ہے؟
سیالکوٹ کی ایک فیکٹری میں سری لنکن مینجر کے بہیمانہ قتل پر دل اتنا افسردہ ہے کہ آج پہلی بار بطور پاکستانی شہری مجھے اپنے بچوں کا مستقبل خوفناک محسوس ہوا اور بطور پاکستانی میں دنیا سے شرمندہ بھی ہوں اور بے بسی کا شکار بھی ہوں
جتنی تیزی سے لوگوں کے دلوں سے ریاستی عملداری کا خوف نکلتا جا رہا ہے اتنی ہی تیزی سے عوام کا ریاستی اداروں سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجوہات ہیں کہ عوام کی اکثریت آج ریاست پر بداعتمادی اور ریاستی عملداری کو چیلنج کرتی نظر آتی ہے؟ آخر کیا وجوہات ہیں کہ عوام کی اکثریت اتنی مشتعل ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ اشارے پر رکنا ہو یا سیٹ بیلٹ باندھنا، قطار میں کھڑا ہونا ہو یا لین میں گاڑی چلانا ہو ہم میں بطور قوم نظم و ضبط نہ ہونے کے برابر ہے؟
ایک رائے یہ ہے کہ عوامی اکثریت چوں کہ پڑھی لکھی نہیں ہے اس لیے ایسا ہوتا ہے لیکن اگر ہم بغور مشاہدہ کریں تو ہمیں قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اکثر افراد پڑھے لکھے نظر آئیں گے، وہ طلباء ہوں یا کسی دفتر میں کام کرنے والے افراد ہمیں اکثر و بیشتر یہی لوگ قوانین کی خلاف ورزی کرتے نظر آتے ہیں۔
حکومت ہو یا ریاستی ادارے ایسے واقعات کے بعد ان کی وہی روایتی پھرتیاں نظر آتی ہیں لیکن ہمارے نظام انصاف اتنا سست ہے اور اس میں اتنے سقم ہیں کہ مجرم یا تو بچ جاتے ہیں یا پھر ان کے ساتھ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی بنا پر عوام کی ایک اچھی خاصی تعداد کی ہمدردیاں شامل ہوجاتی ہیں جس کا نقصان ہمیں دنیا سے کٹنے کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ پچھلے چند سالوں میں فیٹف کی گرے لسٹ میں ہونے کی وجہ سے ہماری معیشت کو 50 ارب ڈالرز کے قریب نقصان ہو چکا ہے جس کی وجہ سے ہم دنیا سے ترقی کے سفر میں مزید پیچھے رہ چکے ہیں
دنیا نے شدت پسندی کا جو ٹیگ ہمارے اوپر لگادیا ہے ایسے واقعات اس کو مزید قوت فراہم کرتے ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب ہو وہ امن و آشتی کا درس دیتا ہے لیکن مذہب کے نام پر جتنی قتل و غارتگری ہوئی وہ ان مذاہب کے پیروکاروں کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔ دنیا کے جس بھی معاشرے میں شدت پسندی ہو چاہے وہ مذہب کی بنیاد پر ہو یا نسل کی بنیاد پر وہ معاشرے تباہی اور بربادی کا شکار ہو جاتے ہیں اور دنیا کی کوئی بھی ریاست جو اپنی عملداری پر سمجھوتہ کرتی ہے وہ کمزور ہوجاتی ہے اور اس کے لئے بڑے فیصلے کرنا مشکل سے مشکل ترین ہوتا جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لئے ہمیں اپنے معاشرے کی تشکیل بھی جدید تقاضوں کے مطابق کرنی ہے اور ریاستی اداروں کی کارکردگی کی جانچ پڑتال بھی جدید پیمانوں پر کرنی ہے۔ اس کے لیے سب سے بڑا کردار سیاسی جماعتوں کا ہے اور انھیں اپنے خول سے باہر نکلنا ہو گا اور ملک کے لئے نئے عمرانی معاہدہ کرنا ہو گا جس میں عوام کے سسٹم میں سٹیکس کو بڑھانا ہو گا تاکہ عوامی اکثریت ریاستی معاملات میں دلچسپی لے اور ایسا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مقننہ، عدلیہ، فوج اور انتظامیہ سنجیدگی کے ساتھ اس پر کام نہیں کرتے ورنہ روایتی بیان بازی اور اپنے سر سے اتار کر دوسروں کے سر ڈالنے کی ریت چلتی آ رہی ہے
مجھے امید ہے کہ ریاست بھی موجودہ حالات میں اسی طرح کی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی جتنی سنجیدگی اس ملک کے درد مند طبقہ کے دل میں ہے ورنہ یاد رکھیں دنیا اب ہمیں زیادہ وقت نہیں دے گی اور وقت بہت تیزی سے ہمارے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے
جس تناسب سے ہماری آبادی بڑھ رہی ہے وسائل کی منصفانہ تقسیم کیے بغیر یہ ٹائم بم ثابت ہوگی اور ٹائم بم پھٹتے وقت یہ نہیں دیکھتا کہ اس سے نقصان اپنوں کا ہو گا یا غیروں کا


