ہجوم کی جمالیات

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہجوم بے چہرہ ہوتا ہے، بے شناخت ہوتا ہے، ہجوم کے جذبات ہوتے ہیں جو مشتعل ہوتے ہیں، ہجوم بے گناہ ہوتا ہے، ہجوم سے بچنا چاہیے۔ ہجوم یہ ہوتا ہے، ہجوم وہ ہوتا ہے۔ہجوم ایک خوف ہے، جو پیدا کیا گیا اور اسے پالا گیا۔ پال پال کے اسے ایسا گھبرو کر لیا کہ اب اس کی اتھری جوانی پٹھے پہ ہاتھ نہیں دھرنے دیتی۔

شاید ہمارا بچپن تھا کہ ‘مولا جٹ’ بنی اور ہم جو ونجلی کی مٹھڑی تان سنا کرتے تھے، جانے کب میں ہماری جمالیات کی حس ایسی بدلی کہ بہتا خون، پھڑکتے جسم، گنڈاسے لہراتے انسان اور لاشوں کو گلیوں میں گھسیٹے جانے کے مناظر ہمیں خوشی دینے لگے۔

موت، نفرت، جنگ کا جشن مناتے مناتے ہم نے ایک پوری نسل کو آدم خور بنایا۔ آدم خوروں کے ہاں مردار خور پیدا ہوئے۔ مردار خوروں نے خود کو وقت کے ساتھ ڈھالا اور اپنی پیاس کو بجھانے کے لیے تاویلات گھڑیں۔

پھر جتھے تیار ہوئے اور ان جتھوں کے منہ کو گاہے گاہے خون لگایا جاتا رہا۔ منظر بدلے، پس منظر بدلے، دنیا نے غور سے ہمیں دیکھا اور گھن کھائی۔ بارہا ہمیں اپنی برادری سے باہر کرنے کا تقاضا کیا۔

ہم منہ پونچھ کے دانت کریدتے، دنیا سے شکوہ کناں رہے کہ یار، میں تو بڑا معصوم اور بیبا بچہ ہوں، یہ ساری باتیں جو تم کہہ رہے ہو میں نے تو کی ہی نہیں چاہے کوئی سی قسم بھی اٹھوا لو۔

قسم اٹھانے والے، قسم کھا کے مکرنے والے، قسم کے الفاظ کو گھما پھرا کے اپنی مرضی کا بنانے والے، ہم لوگوں سے دنیا نے نظریں پھیر لیں۔ معدودے چند جو ممالک ہم سے واسطہ رکھتے ہیں، جلد ہی وہاں بھی ہماری قلعی کھل جائے گی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ جو کئی دہائیوں سے کیا جارہا ہے اس کے پیچھے کیا کوئی خاص سوچ کار فرما ہے؟ کچھ حاصل کرنے کے لئے کیا جارہا ہے یہ سب کچھ؟ کیا وہ سب حاصل کر لیا گیا؟ اور وہ جو حاصل کیا گیا کیا اسے ثبات ہے؟

ثبات صرف محبت کو ہے، محبت جس کا درس ہر مذہب نے دیا، جس کے راستے پہ چلتے ہوئے انسان کو یہ خوف نہیں ہوتا کہ میرے محب سے سب اتنی ہی محبت کیوں نہیں کرتے جتنی میں کرتا ہوں۔

محبت کا راستہ آسان نہیں، اس راستے پہ چلنے کے لیے رحمت کا مفہوم سمجھنا پڑتا ہے ۔ در گزر کا فلسفہ سیکھنا پڑتا ہے۔ محبت ایک بھاری پتھر ہے صاحب، ایسوں ویسوں کے بس کا روگ نہیں ۔ہجوم کے پاس ہر جذبہ ہوتا ہے لیکن محبت کا جذبہ شاید ہجوم کے پاس نہیں ہوتا ، ہاں دعوی کچھ بھی کیا جا سکتا ہے ۔

نفرتوں کے یہ بیج جہاں بھی بوئے گئے وہاں ہم نے ببول ہی اگتے دیکھے، نہ چھاوں ملی نہ پھل پائے۔ کانٹے سمیٹتے سمیٹتے ہاتھ زخمی ہو چکے ہیں ۔

اسی سیالکوٹ میں کچھ برس پہلے دو بچوں کو بے رحمی سے قتل کر کے اسی طرح گلیوں میں گھسیٹا گیا تھا۔ ان کا قصور آج تک سمجھ نہیں آتا۔

لگتا یوں ہی ہے کہ معاملہ محبت کا نہیں، منہ کو خون لگ چکا ہے ۔ سنا ہے انسانی خون میں ایسی تاثیر ہوتی ہے کہ جس کے منہ کو لگ جائے وہ پلٹ پلٹ کے یہ ہی ذائقہ مانگتا ہے ۔ حذر کیجئے اس وقت سے جب یہ مرض عام ہو جائے اور پناہ مانگیے اس لمحے سے جب یہ ہجوم بڑھ کے لشکر بن جائے گا، ایک ایسا لشکر جس کے پاس تاراج کرنے کو آپ کے گھر کے سوا کچھ بھی نہیں ہو گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments