ایک نوجوان جو حکمران بننا چاہتا تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اریسٹن کے فرزند گلوکن کے دل میں شوق پیدا ہوا کہ وہ ایتھنز کا فرماں روا بنے۔ اس کی عمر ابھی بیس سال بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس نے لوگوں کے پاس جا کر سلطنت کے امور کے متعلق گپیں ہانکنا شروع کر دیں۔ لوگوں نے اس خواہش کو مالیخولیا قرار دے کر اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن بے سود۔ وہ اپنے خیال سے باز نہ آیا۔ پھر ایک دن اس کی ملاقات سقراط سے ہوئی:

سقراط: ​دوست! کیا تم ایتھنز کی سلطنت پر حکمرانی کرنے کی خواہش رکھتے ہو؟
گلوکن: ​ہاں۔

سقراط:​ واہ! یہ تو نہایت اعلیٰ درجے کی خواہش ہے۔ اور اس خواہش کی اڑان کس منزل تک پہنچے گی؟ اور اگر تمہاری یہ خواہش پوری ہو جائے تو تمہاری طرح کون ​خوش نصیب ہو گا۔ تم اپنے دوست کو امداد دے سکو گے، تمہارے خاندان کی عزت اور شان میں اضافہ ہو گا۔ تم اپنی سلطنت کی حدود کو وسعت دے سکو ​گے۔ ایتھنز میں ہی کیا چہار دانگ عالم میں تمہارے نام کا چرچا ہو گا۔ ہر زبان پر تمہاری ہی ثنا و صفت ہوگی۔

​اس تعریف کا گلوکن پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے سقراط کی بات کو توجہ سے سننا شروع کر دیا۔

​سقراط نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ دوست اگر اس طرح سے شان و شوکت بڑھانے کی خوا ہش تمہارے دل میں ہے تو پھر تو تمہیں سلطنت کا ​کاروبار کرنا چاہیے۔ تم ہی کہو کہ میں سچ کہتا ہوں یا نہیں؟

گلوکن: ​بے شک ایسے ہی ہے۔
سقراط: ​پھر تم ابتدا میں ملک کی کون سی خدمت بجا لاؤ گے؟

​گلوکن سوچ میں پڑ گیا کہ اس سوال کیا کیا جواب دیا جائے۔ سقراط اس کو متفکر دیکھ کر کچھ توقف کے بعد پھر سے گویا ہوا۔

سقراط:​ جب ہم کسی دوست کی خوش حالی چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہم اس کی مالی حالت بہتر کرنے کی فکر کرتے ہیں۔ اب جب کہ تم اپنے ملک کو عروج دینا چاہتے ہو ​تو تمہیں اس کی دولت و ثروت میں اضافہ کرنے کے لیے کوشش کرنا ہوگی۔

گلوکن: ​ہاں! بالکل صحیح ہے۔
سقراط: ​ملک کی مالی حالت کو ترقی دینے کا مطلب یہی نہیں ہے کہ اس کی آمدن میں اضافہ کیا جائے؟
گلوکن: ​ہاں یہی ہے۔

سقراط: ​اچھا! اب سلطنت کی آمدن کے کون کون سے ابواب ہیں اور سلطنت کی جملہ آمدن کس قدر ہے اس کو تو بیان کیجیے۔ مجھے امید ہے تم نے ان باتوں کی نسبت ​کافی معلومات حاصل کر لی ہوں گی۔ کیوں کہ جب کسی ایک شعبے میں خسارہ ہوتا ہے تو اسے کسی دوسرے شعبے سے پورا کر لیا جاتا ہے اور اس انتظام سے ہی کام ​چلتا ہے۔

گلوکن: ​میں نے اس بات پر غور نہیں کیا۔

سقراط: ​اچھا! سلطنت کے اخراجات کی نسبت تو تم نے غور کیا ہو گا، کیونکہ جب ملک کو خوشحال بنانا مقصود ہو تو اخراجات میں تخفیف کرنا ضروری ہوتا ہے۔

گلوکن: ​اخراجات کے بارے میں بھی میں نے مطلق غور نہیں کیا۔

سقراط: ​اگر ایسا ہے تو سلطنت کو خوشحال بنانے کے خیال کو بالائے طاق رکھ دو کیوں کہ اس کام میں جمع تفریق سے لا علم رہنا بالکل بیکار بات ہے۔

گلوکن: ​سلطنت کو خوشحال بنانا اس کے دشمنوں کی بیخ کنی کر دینا ہے اور یہ بات آپ بالکل بھی ذہن میں نہیں لائے۔

سقراط: ​بے شک ایسا کرنے کے لیے ہمیں زبردست قوت والا ہونا چاہیے ورنہ جو موجود ہے وہ بھی جاتا رہے گا۔ یعنی جنگ شروع کرنے والے کو ہر دو جانب کی ​استعداد پر غور کرنا چاہیے۔ اگر آپ کے بازو نسبتاً زیادہ مضبوط ہیں تو بے شک جنگ کا آغاز کیا جاسکتا ہے لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اپنے لوگوں کو سمجھانے کی ​ضرورت ہے۔ اچھا یہ بتاؤ کہ تمہاری بری و بحری فوج کی تعداد کیا ہے اور دشمن کی فوج کی تعداد کس قدر ہے؟

گلوکن:​ یہ باتیں تو آن واحد میں بیان نہیں کی جا سکتیں۔
سقراط: ​اس بارے میں اگر تمہاری یادداشت میں کچھ موجود ہے تو بتلاؤ تاکہ مجھے اطمینان حاصل ہو۔
گلوکن: ​میں نے اس قسم کی کوئی فہرست نہیں بنائی۔

سقراط: ​پھر تو سر دست تمہیں جنگ کے آغاز کے بارے میں کچھ اندازہ ہی نہیں۔ اب چونکہ جنگ کوئی معمولی اور ادنیٰ کام تو ہے نہیں لہٰذا اس کے آغاز سے قبل یہ ​سوچنا اور سمجھنا چاہیے کی اس کے کیا کیا نتائج ہوں گے۔ گلوکن تم غالباً اس بارے تو غور کر چکے ہو گے کہ اپنی سلطنت کی کس طرح حفاظت کرنی چاہیے۔ فوج ​کی کتنی ٹکڑیاں ہونی چاہئیں، ہر ایک ٹکڑی میں لوگوں کی تعداد کتنی ہونی چاہیے۔ کس مقام پر کس قدر زائد سپاہ ہونی چاہیے۔ کس سپاہی کو رکھنا چاہیے اور کس ​سپاہی کو خارج کرنا چاہیے۔ تم ان باتوں سے تو واقف ہی ہو گے۔

گلوکن: ​میری رائے میں تمام موجودہ فوج کو برطرف کر کے نئے لوگوں کو بھرتی کیا جانا چاہیے۔ اس وقت جو لوگ موجود ہیں وہ حفاظی کے پردے میں سلطنت کو ​نقصان پہنچا رہے ہیں۔

سقراط: ک​یا تمہاری موجودہ فوج بالکل ہی خراب اور برطرفی کے قابل ہے؟ کیا تمہیں پختہ یقین ہے؟ کیا تم نے کسی چھاؤنی میں جا کر علانیہ طور پر کوئی تجربہ کیا ہے؟ اگر ​موجودہ فوج کو برطرف کر دیا جاتا ہے تو نئے آنے والے سپاہی اپنی من مرضی سے عمل کر کے سلطنت کو زیادہ نقصان نہیں پہنچائیں گے؟

گلوکن: ​نہیں، اس کا تجربہ تو نہیں کیا گیا لیکن اس بات کا احتمال ہے۔

سقراط:​ ایسی باتوں میں صرف گمان پر تکیہ نہیں کیا جا سکتا۔ ذاتی اطمینان کر لینا چاہیے اور جب ایک بار اطمینان ہو جائے تو پھر اس مسئلے کو فوراً مجلس وزرا، میں پیش کر ​دینا چاہیے۔

گلوکن: ​ہاں یہی درست ہے اور میں بھی ایسا ہی سمجھتا ہوں۔

سقراط:​ معلوم ہوتا ہے کہ چاندی کے معدن کی آمدنی اب اس طرح وصول نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ دریافت کرنے کے لیے تم اس معدن پر گئے ہو یا نہیں؟ مجھے ​معلوم ہوتا ہے تم اس طرف گئے ہی نہیں۔

گلوکن: ​ہاں، میں واقعتاً ادھر نہیں گیا۔
سقراط:​ بیان کیا جاتا ہے کہ وہاں کی آب و ہوا بہت خراب ہے اور ادھر نہ جانے کی بھی خاص وجہ ہوگی۔
گلوکن:​ جناب! آپ تو باتوں باتوں میں میرا مذاق اڑا رہے ہیں۔

سقراط: ​سال کے اختتام پر غلہ کی کمی نہ ہو اور حسب ضرورت باہر سے غلہ لا کر رکھا جائے اس لیے ہماری زمینوں میں کتنا غلہ پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے ​​شہر کے لیے کتنے روز تک کافی ہے، ایک سال کے لیے کافی ہونے میں کس قدر کمی ہے، وغیرہ جیسی باتوں کو تو تم دیکھ ہی چکے ہو گے؟

گلوکن: ​ان سب کاموں کو غور سے کرنا تو ایک بہت بڑا کام بن جائے گا۔

سقراط: ​ہاں یہ تو ہو گا۔ لیکن اگر اس طرح نہ کیا جائے تو ایک کنبے کی پرورش کا انتظام بھی نہیں ہو سکتا، پھر شہر کے دس ہزار کنبوں کا انتطام کیوں کر ہو گا؟ تمہارے چچا ​کی خانگی حالت دن بدن ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی اصلاح کے لیے تم کوئی تجویز کیوں نہیں دیتے ہو؟ اس کی حالت درست کرنے کی فکر کرو۔ اپنی دیانت ​اور قابلیت ثابت کرو اور اس کے بعد اس سے بڑے کام اختیار کرو۔ اگر تم سے ایک معمولی انسان کو امداد دینے کا کام نہیں ہوتا تو تم سے تمام گروہ کی اصلاح کا ​کام کیوں کر ممکن ہو گا؟ جو ایک معمولی بھار نہ اٹھا سکے اسے بھاری بھار اٹھانے کے لیے اپنی گردن آگے کر دینی چاہیے؟

گلوکن:​اگر میرے چچا میری رائے پر عمل کرتے تو میں انہیں اچھی رائے دے سکتا تھا۔

سقراط:​جی جناب! جب تم ایک شخص، اور وہ بھی تمہارے چچا، کے خیال کو اپنی جانب نہیں پھیر سکتے تو ایتھنز کی متلون مزاج سلطنت کو اپنی جانب کیوں کر پھیر سکو ​گے؟ گلوکن بھائی! اچھی طرح غور کر۔ پھر غور کرو۔ بے تکی خواہشیں نہ کرو، لوگ تم سے نفرت کرنے لگ جائیں گے۔ جن باتوں سے ہم واقف نہیں ​ہیں ان باتوں کو کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ بلکہ اس کے متعلق صرف گفتگو کرنا ہی نقصان دہ بات ہے۔ اس طرح کام کرنے والے ضرورت سے زیادہ چالاک ​لوگوں کو آخر کار کس قدر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کا تو ذرا تصور کرو!

​کیا تم بھی اس قسم کے آدمی کی تعریف کرو گے؟
​کیا تم اسے الزام نہیں دو گے؟
​دنیا کے اور لوگ اسے کیا کہیں گے؟

​جس کو اس کی نسبت علم ہوتا ہے لوگ اس کی صفت کرتے ہیں اور جو اس کو نہیں جانتا اس کی تو ہر حال میں بدنامی ہوتی ہے۔ اگر تمہارے اندر حکمرانی کی ​خواہش ہے تو اس کے لیے خود میں قابلیت پیدا کرو اور اس کے بعد اگر تم امور سلطنت میں داخل ہو گے یقیناً تمہیں کامیابی نصیب ہو گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments