شدت پسندی کا خاتمہ کچھ مشکل فیصلوں سے منسلک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شدت پسند کم و بیش دنیا کے ہر معاشرے، مذہب اور تہذیب میں پائے جاتے ہیں لیکن ان کی تعداد مٹھی بھر اور پورے معاشرے کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ وہ اپنے شدت پسندانہ اصولوں پر زندگی بسر کرتے رہتے ہیں اور ذہنی اور جسمانی طور پر اپنی درسگاہوں تک ہی محدود رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی مثالیں ترقی یافتہ ممالک میں بھی مل جائیں گی کہ جہاں سیکولر معاشروں میں شخصی آزادی اپنی انتہا پر ہے، وہیں پر مذکورہ عناصر سختی سے اپنے شدت پسندانہ خیالات پر کاربند ہیں۔

تشویش ناک صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہ شدت پسند عناصر ریاست اور نظام پر اثر انداز ہو کر پورے معاشرے کو یرغمال بنا ڈالتے اور معاشرے میں اپنے وجود سے متعلق ایک خوف اور دہشت پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ پاکستان گزشتہ چند دہائیوں سے اسی طرح کی صورتحال سے دوچار دکھائی دیتا ہے کہ یہاں شدت پسندی نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وہ ریاست اور اس کے نظام کو آئے روز چیلنج کر رہی ہے۔ قومی اور سیکولر ریاست کے تخیل کے مقابلے میں مذہبی حکومت کے تصور نے اکثریت کو اپنے سحر میں جکڑ لیا اور یوں آج تک پاکستان میں اٹھنے والی ہر شدت پسند تحریک اپنے مقاصد کے لیے مذہب کا نام استعمال کرتی ہے تاکہ اکثریت کو اپنی جانب راغب کیا جا سکے۔

یہاں تک کہ بیرونی طاقتیں بھی پاکستان میں اپنے مقاصد اور اہداف کے لیے مذہب ہی کو آلے کے طور پر استعمال کرتی ہیں، اور ریاست و عوام کے خلاف بر سر پیکار قوتوں کی مالی سرپرستی بھی مذہب کے نام پر ہی کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک پوری معیشت وجود میں آ چکی ہے۔ اب یہ جنگ محض نظریاتی دائروں کی جنگ نہیں، بلکہ مفادات اور اپنی اپنی بقا کی جنگ بن چکی ہے جس کی اتحادی اور مدمقابل قوتیں قومی اور بین الاقوامی دونوں سطحوں پر موجود ہیں۔

اگر تاریخ کے اوراق کو پلٹا جائے تو شدت پسندی کا یہ سنپولا ہمیں وراثت میں ملا مگر ضیاءالحق کے دور حکومت میں یہ سنپولیا طاقت ور ہوتا گیا اور ایک اژدھے کی صورت اختیار کر گیا۔ سابق گورنر پنجاب سلیمان تاثیر، مشعال خان اور گوجرہ کے نواحی گاؤں میں درجنوں عیسائیوں کا شک کی بناء پر بہیمانہ قتل اس شدت پسندی کی واضح مثالیں ہیں۔ سیالکوٹ کے دلخراش واقعہ نے اس شدت پسندی کے اژدھے کی طاقت کو ایک بار پھر سب کے سامنے عیاں کر دیا کہ یہ کس قدر تگڑا ہے۔

اس سانحہ سے جہاں دنیا بھر میں پاکستان کے تشخص کا جنازہ نکل گیا وہیں اینٹی اسلامک عناصر کو کھل کر اسلام کو بدنام کرنے کا موقع بھی مل گیا۔ کام چوروں کے گٹھ نے شدت پسندوں کے گروہ کو بھڑکا کر ایک معصوم اور پردیسی کا سرعام بہیمانہ قتل کروا دیا۔ اس معاملہ پر واضح قانون موجود ہونے پر ایسے جاہلانہ اقدامات کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہیں۔ ریاست کو ان مٹھی بھر عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ سانحہ سیالکوٹ کی فوٹیج جس میں پر یانتھا کمارا کو بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس میں کچھ بدبختوں کی مکروہ شکلیں دیکھ کر اندازہ جا سکتا ہے کہ ان کو پورے کلمے تو درکنار شاید مکمل نماز پڑھنے کے طریقے سے بھی شناسائی نہ ہو۔

خیر اب افسوس یا مذمت ہی کی جا سکتی ہے باقی ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ان جانوروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ اگر اس شدت پسندی کے اسباب کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو بات کافی دور تک نکل جائے گی کیونکہ کسی معاشرے کی تعلیمی پالیسی اور اس کو بروئے کار لانے والے اساتذہ نئی نسل کی ذہن سازی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ہم پاکستان میں پہلے دن سے ہی کوئی قومی اور انسان دوست تعلیمی پالیسی بنانے سے قاصر رہے ہیں۔

ہمارے ہاں بیک وقت کئی طرح کے نصاب تعلیم ایک ہی طرح کے نتائج پیدا کرتے رہے ہیں۔ ہمارے اساتذہ اس تعلیمی پالیسی کی چھتری تلے مستقبل سے زیادہ ماضی کو زیادہ زیر بحث لاتے رہے، اور ہندو مسلم اختلافات، فرقہ وارانہ تعصبات اور دنیا پر حکومت کرنے کے خواب نے ایسی جنگجویانہ نفسیات کو جنم دیا جس نے معاشرے میں موجود شدت پسند عناصر کے حق میں جلتی پر تیل کا کام کیا۔ ہمارے حکمران اور ریاست گزشتہ کئی دہائیوں سے بہت جارحانہ رہے ہیں۔

اس تعلیمی پالیسی کے زیر اثر تیار ہونے والی نسل کو وہ بطور ایندھن استعمال کرتے رہے۔ یوں پاکستان میں شدت پسندی کی فصل پکتی رہی اور اس سے وابستہ عناصر کو بڑھاوا ملتا رہا۔ تنگ نظری، اپنے مذہبی حریفوں سے نفرت، عدم برداشت اور جارحیت ہمارے مزاج کا حصہ بنتی رہی اور ہم دنیا سے کٹتے کٹتے اپنے خول میں بند ہوتے چلے گئے۔ آج بھی پاکستان کا نظام تعلیم ایسا کوئی کردار ادا کرنے میں ناکام ہے جس سے عوام میں قرار واقعی سماجی شعور اور انسانی رویے فروغ پا سکیں اور ہم تعصبات کی تنہائی سے نکل کر عالمگیر معاشرے کا باوقار حصہ بن سکیں۔

آج بھی ہمارا نصاب تعلیم رواداری، انسان دوستی اور مسلمہ انسانی اقدار پر خاموش ہے اور ہم خطے میں امن، سلامتی اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہیں۔ آج بھی ہمارے نصاب کے مضامین اپنی کمزوریوں کو زیر بحث لانے کے بجائے غیر ضروری مواد سے اٹے پڑے ہیں۔ ان سے زیادہ ضروری تھا کہ ہمارے قومی نصاب تعلیم میں نوجوانوں کو یہ پڑھایا جاتا کہ ہم ایک علیحدہ مملکت قائم کرنے کے باوجود غربت، جہالت مافیاز کے راج، وڈیرہ شاہی اور جاگیردارانہ نظام کو ختم کیوں نہ کرسکے، ہم آج جدید دنیا کے ساتھ چلنے کے قومی تقاضے کیسے پورے کر سکتے ہیں، ترقی یافتہ معاشروں کی جدید صنعت و حرفت، سائنسی علوم اور مہارتیں اپنے ہاں کیسے منتقل کی جا سکتی ہیں، دیگر ممالک نے سماجی انصاف کے حصول اور معاشی ناہمواریوں کو ختم کرنے کے لیے کیا کیا تجربات کیے ہیں اور ہم ان سے کیسے استفادہ کر سکتے ہیں۔

لیکن ہم اپنے نصاب تعلیم کے ذریعے تنگ نظری کا بیج بوتے رہے، جس کا نتیجہ بہرحال تنگ نظری کی فصل کی صورت میں ہی نکلنا تھا۔ اب شدت پسندی کا یہ زہر ہمارے قومی وجود کی رگ رگ میں سرایت کرچکا ہے۔ پاکستانی تاریخ کا انتہائی درد انگیز باب وہ ہے جب پاکستانی سوسائٹی اوندھے منہ شدت پسندی کے اندھے کنویں میں جا گری۔ دو عالمی طاقتوں نے اپنی جنگ لڑنے کے لیے اس خطے کا انتخاب کیا اور دو ہاتھیوں کی لڑائی میں اس خطے کی برداشت اور روادارانہ روایات کو کچل کے رکھ دیا گیا۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں شدت پسندی کو ختم کرنے کی ہر کوشش کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ ہم عالمگیر معاشرے کا حصہ بن سکیں اور جدید دنیا کے شانہ بشانہ چل سکیں۔ بدقسمتی سے اس شدت پسندی کے باعث مسلمان معاشرے عام انسانی معاشروں سے پیچھے جاتے جا رہے ہیں، اس تنہائی کے سبب ہماری اپنی اصل شناخت گم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ مگر یہ راستہ اتنا آسان نہیں اور اس کے لیے سب سے پہلے تو چند مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔ ان فیصلوں میں نصاب کو بہتر بنانا، قومی بیانیے کی تبدیلی، اور خارجہ پالیسی کو مکمل طور پر ملکی و قومی مفاد کے زیر تحت تعمیر کرنا ہے۔ اگر یہ سب کچھ کیا جائے تو ہی شدت پسندوں کے خلاف جاری جنگ جیتی جا سکتی ہے ورنہ یہ صرف دہشتگردی کے خلاف جنگ ہے۔ جب تک سماج میں گہرائیوں تک موجود منفی ذہنیت کو جڑ سے نہیں اکھاڑا جاتا، تب تک منفی ذہنیت کے ساتھ ہتھیار اٹھائے ہوئے چند ہزار افراد کو شکست مکمل فتح نہیں کہلا سکتی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments