پاکستان جلتا رہا

3 دسمبر 2021 پاکستان کو بے حرمتی کا الزام لگاتے ہوئے مشتعل ہجوم نے مار مار کر قتل کر دیا, پھر اس کی مسخ شدہ نعش کو چوک میں گھسیٹا اور ہزاروں لوگوں کے سامنے آگ لگا دی ریاست کے افراد نے سیلفیز لیتے ہوئے بھرپور حصہ ڈالا اور ثَوابِ دارَین حاصل کیا۔ ریاست کے رکھوالے پاکستان کو مرتے اور جلتے دیکھتے رہے جب پاکستان مکمل جل کر راکھ ہو گیا تو اس کے باقیات جمع کر کے تابوت میں ڈال دیے گئے
یہ پاکستان پر پہلا حملہ نہیں تھا
اس سے پہلے کئی بار پاکستان پر وار کیے گئے مقدمے چلائے گئے کئی مقدموں میں پاکستان کو باعزت بری کر دیا گیا مگر جان سے مارنے کی دھمکیاں ملتی رہی جس پر بیروں ملک تحفظ فراہم کیا گیا۔ مگر اس بار ریاست مدینہ کے مسلمانوں نے ایک ہی بار قصہ تمام کرتے ہوئے جنت اپنے نام کرلی۔
پاکستاں کے انتقال پر بے حد افسوس ہوا اب سری لنکا سے گزارش ہے کہ جلے ہوئے پاکستان کی لاش ارے نہیں! راکھ ریاست نے بھجوا دی ہے جسم کے تمام اعضاء راکھ بن چکے ہیں سر تھورا سا باقی ہے ریاست کے پاس اب بس یہی بچا تھا سو بھجوا دیا براہِ کرم موصول کریں اور دیدار کی سکت ہو تو دیدار کرکے آخری رسومات ادا کر دیں۔ اگلی بار ریاست مسلمانوں سے گزارش کرے گی کہ نعش کو مسخ نہ کریں۔ شکریہ!
جس ملک میں جامعات کو ہائر ایجوکیشن کمیشن ایک مراسلے کے تحت اس بات کا پابند کرے کہ نظریہ پاکستان اور ملک کی اسلامی اساس پر گفتگو ممنوع ہے۔ جہاں جامعات میں کریٹیکل تھنکنگ جیسے مضامین پڑھانے کے بجائے حوروں کے بارے میں لیکچر دیے جائیں جہان”سائنس اور حیا” کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوں۔ جہاں سکارف اور عبایا ڈریس کوڈ میں شامل کر دیا جائے جہاں پہلی جماعت کے طلبا کو "گستاخ رسول کی ایک سزا سر تن سے جدا” جیسے نعرے سیکھائے جائیں۔جس ملک میں روشن خیالی ایک طعنہ ہو اور رجعت پسندی، انتہا پسندی اور شدت پسندی ایک طرز زندگی، وہاں یہی ہوتا رہا ہے، یہی ہوتا رہے گا۔ اگلے قتل کا انتظار کیجیے کہ یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔
Facebook Comments HS

