ہجومی سوچ کے خلاف سماجی رد عمل کی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز ہوئے سیشن جج منڈی بہا الدین نے ڈپٹی کمشنر اور اے سی کو بد تمیزی اور توہین آمیز رویہ پر عدالت طلب کیا، افسر شاہی خود کو جوابدہی سے بالا سمجھنے لگی ہے، دونوں افسر ناچار پیش ہوئے لیکن عدالتی حکم پر جیل جانے کی بجائے مقامی بار عہدیداروں کی مدد سے راستے میں فرار ہو گئے۔ ڈپٹی کمشنر نے واقعے کو اپنی بے عزتی سمجھا اور بار عہدیداروں کی مدد سے جج راؤ عبدالجبار کی عدالت پر حملہ کرا دیا۔ پڑھے لکھے، قانون دان جج صاحب پر چیختے رہے اور ریٹائرنگ روم میں لے جا کر ان پر تشدد کیا۔

یہ ہجومی سوچ کا ایک مظاہرہ ہے جو ہم وکلا تشدد کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ حسب روایت پنجاب بار نے حملہ آوروں کو نوٹس بھیجے، اب کچھ لوگ صلح صفائی کے لئے سرگرم ہیں۔ سیالکوٹ سے دوسری گواہی ملی ہے کہ ہم ہجوم ہیں ’سری لنکن منیجر کو قتل کرنے اور جلانے والے معمولی تعلیم کے حامل تھے۔ سری لنکن شہری غیر مسلم تھا۔ اس پر توہین کا الزام لگا کر ہجوم نے اپنی عدالت لگا لی‘ خود ہی جلاد بن گئے۔ وہ اجتماع ہجوم ہی ہوتا ہے جو اپنی طاقت کا انسان دشمن استعمال کرتے ہوئے ریاست کو چیلنج کرے۔

دو ماہ ہوئے ایک ہجوم ملتان روڈ پر جمع ہوا۔ ہجوم بے قابو ہوتا گیا۔ لاہور میں دو پولیس والے مار دیے ’گوجرانوالہ اور وزیر آباد کے پاس سینکڑوں پولیس والے ہجوم کو روکتے زخمی ہوئے‘ کئی شہید ہوئے۔ کوئی دس سال ہوئے ’سیالکوٹ ہی کے دو نوجوان بھائی ہجوم نے ڈاکو قرار دے کر مار دیے۔ مارنے کے بعد ان کی لاشوں کو پامال کیا۔ جلایا۔ تین چار برس پہلے مردان یونیورسٹی کے ایک طالب علم مشال خان کو طلبا نما ہجوم نے توہین کا الزام لگا کر مار ڈالا۔

کوٹ رادھا کشن کے اس نوجوان جوڑے کا حال بھی سب جانتے ہیں جن کو بھٹے کی آگ میں ڈال دیا گیا۔ لوگ جب قوم نہیں بن پاتے تو ہجوم بن جاتے ہیں۔ ہجوم کا کوئی نظریہ اور آئین نہیں ہوتا۔ ایک وقتی خوف بہت سے بزدلوں کو سفاک بننے پر اکساتا ہے۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ ان کی دلیل‘ طاقت یا موقف ان کے گھیرے میں آئے بے بس شخص سے ہار جائیں گے۔ پاکستان میں ہجوم بے قابو ہو رہے ہیں ’بھارت میں ہجوم بے قابو ہو چکے۔ جہاں عقل دشمن اور شعور دشمن قوتیں حکمران ہو جاتی ہیں وہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔

ہر ہجوم ایک مخصوص سوچ کے تابع لوگوں کی بھیڑ ہوتی ہے۔ یہ لوگ اپنے سامنے ہوئے کسی واقعے کے پس منظر اور وجوہات پر غور کرنے کی بجائے فوری طور پر جو بات سنتے ہیں اس کے زیر اثر اپنا ردعمل دیتے ہیں۔ مذہب اور عقائد سے جڑے حساس معاملات اور فرقہ وارانہ اختلاف نے ہمارے ہاں ہجوم پروری کے لئے سب سے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ مذہبی امور کی تاویل اور تشریح کرنے والوں نے دین کو اس قدر مشکل بنا کر دکھایا کہ لوگ ان کے محتاج ہیں۔

عام لوگوں کو دین سکھانے کے نام پر اختلاف کا زہریلا ٹیکا لگایا جاتا ہے۔ یہ زہریلے لوگ زیادہ ہو جائیں تو معاشرے کو مار دیتے ہیں۔ ہجومی سوچ ایک توانائی ہے۔ یہ توانائی مثبت شکل میں ہو تو تعمیر کرتی ہے۔ منفی ہو تو نفرت اور تشدد کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ کسی شہر یا ملک میں ہجومی تشدد کے خلاف آواز نہیں اٹھائی جاتی تو وہ لوگ بھی پرتشدد بھیڑ کا حصہ بننے لگتے ہیں جو پہلے دور رہ کر دیکھ رہے تھے۔ ہجوم جب دیکھتا ہے کہ تشدد کے کارنامے انجام دینے والوں کو پھولوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں۔

ماتھے چومے جاتے ہیں اور معاشرے کے با اثر افراد خاموش رہتے ہیں تو وہ اور بھی بے باک ہو جاتا ہے۔ سیالکوٹ واقعہ کی بنیاد میں توہین مذہب کی غلط فہم ہے۔ اس نقص کا اندازہ اس بات سے کریں جناب تقی عثمانی سے لے کر مولانا فضل الرحمان تک واقعہ کی مذمت کرنے سے پہلے اگر مگر کا اسلوب اختیار کرتے ہیں۔ ہجوم کا خوف اتنا ہے کہ خدا سے ڈرنے کے دعویدار بھی سہمے ہوئے ہیں۔ دو ٹوک بات کیوں نہیں کرتے؟ سیالکوٹ میں جو سفاک جمع تھے مجھے تو وہ ہندوتوا والے ہی نظر آئے۔

سارے واقعے میں مجھے وہ دو مسلمان نظر آئے جو پریا نتھا کو وحشیوں سے بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہجوم کو توڑنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی صاحب کردار ہوتا ہے جو سامنے آ کر کہتا ہے یہ سب غلط ہے۔ وہ ہجوم کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے اپنی جان کی پرواہ کیے بنا الگ ہو جاتا ہے‘ جانتا ہے کہ ہجوم ہر اس شخص کو مار سکتا ہے جو اس کا حصہ نہیں۔ امریکہ میں 1850 ء سے 1950 ء کے درمیان ہجوم کے ہاتھوں 3 ہزار افراد قتل ہوئے۔ 1895 ء تک مارے گئے افراد میں اکثریت ان کی تھی جو سفید فاموں کی برتری قبول نہیں کرتے تھے۔

59 فیصد افریقی تھے۔ 1906 ء میں اٹلانٹا کی چار سفید فام عورتوں کو سیاہ فاموں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ جس بار میں واقعہ ہوا وہ ایک روسی نژاد یہودی خاندان کی ملکیت تھا۔ اس علاقے میں پہلے ہی جرمن نژاد یہودی کافی تعداد میں تھے۔ معاملہ سیاسی اور سماجی کشیدگی کا سبب بن گیا۔ آخر ہجوم بپھر گیا اور 12 لوگ مارے گئے۔ لیکن ان ملکوں نے اس رجحان کو کم کرنے کی کوشش کی۔ ہجومی تشدد ایک طرح سے نا انصافی ہے۔

کیونکہ ہجوم ملزم کو اپنے دفاع میں ثبوت اور گواہی پیش کرنے کا موقع نہیں دیتا۔ سری لنکا سے ہمارا بھائیوں جیسا تعلق ہے۔ ڈینگی کے دوران سری لنکا کی مدد آئی اور ہم قابو پانے میں کامیاب ہوئے ’پاکستانیوں کو سب سے زیادہ آنکھیں سری لنکا کے لوگ عطیہ کرتے ہیں۔ مشکل کے دنوں میں سری لنکا نے اپنے کھلاڑی کھیلنے کے لئے بھیجے۔ سیالکوٹ میں مارا گیا پریا نتھا ہماری صنعت کو چلانے میں مدد دے رہا تھا۔ ہم بے قابو بھیڑیے بن گئے ہیں۔ یہاں کوئی کسی سے محفوظ نہیں۔ اب غیر ملکی بھی اس قابل نفرت روئیے کا شکار ہونے لگے ہیں۔ ہم بارش کے اس قطرے کی طرح سوچ رہے ہیں جو سمجھتا تھا کہ میرا گرنا کیا اتنی بڑی زمین کی تپش کم کر سکتا ہے؟ یاد رہے ہجومی سوچ قانون کو نظر انداز کر سکتی ہے سماج کے رد عمل کو نظر انداز کرنے کی ہمت اس میں نہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments