انڈیا: 'ہم سے نہ انگوٹھا لگوایا گیا نہ دستخط لیے گئے اور جانچ کے بہانے آنکھ نکالی گئی'


'آنکھ کے بدلے آنکھ چاہیے، آنکھ نہیں ہوگی تو زندگی کیسے کٹے گی'

‘ہم سے نہ انگوٹھا لگوایا گیا نہ دستخط لیے گئے اور جانچ کے بہانے آنکھ نکالی گئی۔’

یہ کہنا ہے 70 سالہ کوشلیا دیوی کا جن کی ایک آنکھ نکال دی گئی ہے۔ انکی دوسری آنکھ بھی کچھ زیادہ اچھی حالت میں نہیں ہے۔

آجکل کوشلیا اپنی بیٹی کے ساتھ رہ رہی ہیں حالانکہ ان کے دو بیٹے بھی ہیں لیکن کوئی بیٹا ان کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں۔ انھیں پینشن میں 400 روپے ملتے ہیں جو ان کی گذر اوقات کا واحد ذریعہ ہے۔

وہیں 60 سالہ ساوتری دیوی کو بھی ایک آنکھ گنوانی پڑی اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کے شوہر کی پنشن بھی بند ہے۔ انھیں راشن بھی نہیں مل رہا۔ پیسے کی کمی کے باعث بجلی کا کنکشن کاٹ دیا گیا ہے۔ دو بیٹیوں کے سہارے زندگی کاٹنے کا تصور انکے لیے بہت مشکل ہے۔

معاملہ کیا ہے؟

یہ دو خواتین ان 65 مریضوں میں شامل ہیں جو مظفر پور ضلع کے مظفر پور آئی ہسپتال میں موتیا کے آپریشن کے لیے گئے تھے۔

22 نومبر کے دن جب وہ دونوں ہسپتال پہنچیں تو اس امید میں تھیں کہ ان کی آنکھوں کے سامنے آنے والا اندھیرا اب ختم ہو جائے گا لیکن انکی آنکھوں کا اندھیرا ختم ہونا تو دور کی بات آج وہ ہمیشہ کے لیے اپنی ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو گئی ہیں۔ انھیں کی طرح اب تک 16 افراد کی آنکھیں نکالی جا چکی ہیں۔

آپریشن کے بعد سے ہی کئی مریضوں کی حالت خراب ہونے لگی تھی۔ کچھ کو سر درد تھا تو کچھ کو الٹیاں ہونے لگیں تمام مریضوں کو کچھ دوائیں اور ڈریسنگ وغیرہ دینے کے بعد اگلے دن ڈسچارج کر دیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ وہ آٹھویں دن یعنی 30نومبر کو واپس آئیں۔

ہسپتال میں اپنے شوہر کا علاج کروانے والی رنجنا کماری کا کہنا تھا’میرے شوہر کو آپریشن کے بعد پریشانی شروع ہوئی، لیکن منگل یعنی 23 نومبر کو پہلے دوا اور پھر انجکشن دے کر نام کاٹ دیا گیا۔ کوئی ڈاکٹر یا نرس انھیں دیکھنے نہیں آیا۔ ہم سے کہا گیا کہ مریض کو گھر لے جائیں اور اگلے منگل یعنی 30 تاریخ کو دوبارہ آنے کو کہا گیا لیکن ہماری پریشانی بڑھنے لگی۔ ہم انھیں 24 تاریخ کو ہی مظفر پور آئی ہسپتال لے گئے۔

رنجنا کماری کہتی ہیں ‘جب ہم نے ہسپتال میں شکایت کی تو ہمیں واضح طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔ ہمیں پٹنہ جانے کو کہا گیا، وہاں درشٹی کنج ہسپتال میں الٹراساؤنڈ کیا گیا وہاں بھی ہمیں کچھ واضح نہیں بتایا گیا’۔

‘اگر وہ ہمیں تمام باتیں صاف صاف بتا دیتے تو ہم کہیں اور کوشش کرتے۔ اپنی آنکھ تو نہیں کھونی پڑتی‘۔

انکا کہنا ہے’ دونوں ہسپتالوں میں ملی بھگت ہے۔ وہاں بھی ہم سے کہا گیا کہ ہم ان کا کچھ نہیں بگاڑ پائیں گے۔انکا کہنا تھا ‘ تھانے سے لے کر وکیل تک سب ہمارے ساتھ ہیں ہم سب سنبھال لیں گے’۔

ایف آئی آر درج کی گئی

مظفر پور صدر ہسپتال کے سول سرجن ڈاکٹر ونے شرما نے کہا کہ ہسپتال کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اب تک ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ بھی تھانے بھجوا دی گئی ہے۔ ایف آئی آر میں قتل کی کوشش، جان بوجھ کر لاپرواہی سمیت کئی دفعات لگائی گئی ہیں۔

قانونی طریقہ کار اور معاوضے کے سوال پر 48 سالہ مریضہ پرمیلا دیوی کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کو صرف یہ بتانا چاہتی ہیں کہ انھیں آنکھ کے بدلے آنکھ چاہیے کیونکہ جب آنکھ ہی نہیں ہوگی تو وہ کیا کریں گی۔

پرمیلا دیوی چھ بچوں کی ماں ہیں، ان کے پاس کھیت بھی نہیں ہے اور وہ کسی نہ کسی طرح مزدوری کر کے گھر چلاتی ہیں۔ وہ پریشان ہیں کہ مستقبل میں ان کی زندگی کیسے کٹے گی۔

مریض کی موت کی اطلاع دینے والے ڈاکٹر: ’میں نے سوچا آج زندہ نہیں بچ پاؤں گا‘

کورونا: ’میں نے ان سے بستر طلب کیا تو انھوں نے مجھے لاشیں دکھائیں‘

انڈیا میں درجنوں بچوں کی ہلاکت کی وجہ بننے والا ’پراسرار بخار‘

ریاستی تحقیقاتی ٹیم آپریشن میں خامیوں کی چھان بین میں مصروف ہے۔ اس ٹیم کے ایک رکن ہریش چندر اوجھا کا کہنا ہے کہ ‘بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ ہسپتال کی ٹیم سے کہیں غلطی ہوئی ہے اس معاملے میں ہسپتال کے عدم تعاون کے سبب ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ اگر تحقیقات میں ہسپتال قصوروار پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ جن لوگوں کی آنکھیں خراب ہوں گی حکومت ان کا مناسب علاج کرے گی اور حکومت کی جانب سے جو بھی ضرورت ہوگی وہ پوری کی جائے گی’۔

اس تحقیقات کے دوران مظفر پور آئی ہسپتال کے اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام کر نے والے دیپک کمارنے کہا’21 نومبر کو اس ہسپتال میں ایک کیمپ کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں 105 مریضوں کو داخل کیا گیا تھا اور ان میں سے 65 کا آپریشن 22 نومبر پیر کو کیا گیا تھا’۔

’23 مریضوں کو ڈسچارج کر دیا گیا تھا جس کے بعد 25 تاریخ کو کچھ مریض آنکھ میں درد کی شکایت لے کر آئے اور اس کے بعد انھیں ڈاکٹر کو دکھایا گیا ان کی آنکھ میں انفیکشن ہوگیا تھا جو بہت تیزی سے پھیل رہا تھا’۔

‘ہم نے اس پر غور کیا اور ایک ریٹنا سرجن سے علاج کرانے کی بات ہوئی۔ ہمارے ریٹنا سرجن چھٹی پر تھے، اس لیے ہم نے مریضوں کو فوری طور پر پٹنہ بھیج دیا، وہاں ان کا علاج کیا گیا اور مریض پھر واپس ہسپتال آگئے۔ان میں سے بہت سے لوگ صحت یاب ہوگئے لیکن چار مریض ایسے تھے جو صحت یاب نہ ہو سکے اور ڈاکٹر کے مطابق ایسے مریضوں کی جان کی حفاظت کے پیش نظر اور ان کی مرضی سے ڈاکٹر نے ان کی آنکھ نکال دی’۔

دیپک کمار اس الزام کی تردید کرتے ہیں کہ آنکھ نکالنے سے پہلے مریض سے نہیں پوچھا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ مریض کو صورتحال اچھی طرح سمجھائی گئی اور ان کی اجازت سے ہی آنکھ نکالی گئی تھی۔

متاثرین کا بیان مختلف ہے

مریضوں کی رضامندی اور اجازت کے بارے میں متاثرہ ساوتری دیوی کی بیٹی مینا نے کہا کہ تفتیش کے بہانے انکی ماں کو لے جایا گیا اور ان سے کاغذات لے لیے گئے اور وہیں انکی آنکھ نکال دی گئی۔

وہ واضح طور پر کہتی ہیں کہ ان سے کہیں سے کوئی دستخط نہیں لیے گئے یا انگوٹھا نہیں لگوایا گیا۔

ایک ہی وقت میں کئی مریضوں کو درپیش اس مسئلے کے حوالے سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ یہ آپریشن کے بعد آنکھ میں انفیکشن کا کیس ہوسکتا ہے۔

اس پر مظفر پور کے صدر ہسپتال کی ماہِر امراض چشم ڈاکٹر نیتو کماری نے کہا، ‘سرجری تو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر کے ہاتھوں ہی ہوئی ہے اور اس میں کوئی غلطی نہیں ہے لیکن اتنے سارے کیس ایک ساتھ آئے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انفیکشن کا معاملہ ہے صرف سرجری سے ایسا نہیں ہو سکتا اب یہ معلوم کرنا ہوگا کہ انفیکشن کا ذریعہ کیا ہے؟ دوائیں یا آپریشن کے دوران استعمال ہونے والے آلات’؟

‘مریض کو جب ہسپتال سے فارغ کیا گیا تو مریض کی حالت بھی اچھی تھی۔ میں نے جن مریضوں سے بات کی ان کا کہنا تھا کہ ان کی حالت ایک دن کے بعد بگڑی ہے۔ تحقیقات کے لیے تمام نمونے مائیکرو بیالوجی ڈیپارٹمنٹ کو بھیجے جا چکے ہیں اب وہاں سے رپورٹ آنے پر ہی چیزیں واضح ہوں گی۔’

ایک دن میں کتنے آپریشن کر سکتے ہیں ڈاکٹر ؟

علاج میں تاخیر کے سوال پر ایس کے ایم سی ایچ کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بی ایس جھا کا کہنا ہے کہ ‘یقینی طور پر اگر کوئی مریض 24 گھنٹے کے اندر آتا ہے تو انجکشن لگا کر انفیکشن پر قابو پایا جا سکتا ہے لیکن اگر ایسا کرنے میں تاخیر ہو جائے تو یہ انفیکشن آنکھ سے باہر پھیل سکتا ہے اگر اس پر بھی قابو نہ پایا گیا تو جان کو خطرہ بن جاتا ہے۔‘

ساتھ ہی ایک شفٹ میں زیادہ مریضوں کے آپریشن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اگر چھ گھنٹے کی شفٹ ہو تو میڈیکل کونسل آف انڈیا کی ہدایات کے مطابق ایک ڈاکٹر دن میں زیادہ سے زیادہ دو شفٹوں میں 30 آپریشن کر سکتا ہے۔’

تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس معاملے میں ایسا نہیں تھا تو انھوں نے کہا کہ ‘ملک میں آبادی اتنی زیادہ ہے کہ ہم اصولوں کے مطابق کہاں چلتے ہیں’۔

بات اسمبلی تک پہنچ گئی

مظفر پور آئی ہسپتال کے باہر ایک پمفلٹ چسپاں کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے کی مزید انکوائری تک صدر ہسپتال اور ایس کے ایم سی ایچ میڈیکل کالج کی انکوائری کمیٹی نے اگلے احکامات تک او ٹی کو فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت دی ہے۔

ایس کے ایم سی ایچ میں داخل مریضوں کو بہتر علاج کے لیے بہ ذریعہ پٹنہ بھیجا گیا ہے۔

اب تک 16 افراد کی آنکھیں نکالی جا چکی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ متاثرین کا علاج حکومت کی طرف سے کیا جائے گا اور یہ معاملہ ریاستی اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی کی قیادت میں پوری اپوزیشن نے مظاہرہ کیا اور متاثرین کے لیے مناسب معاوضہ اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی کچھ رہنماؤں نے وزیر صحت منگل پانڈے کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

تاہم وزیر صحت کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے اور رپورٹ آنے کے بعد اسی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp