بد ایمانی (Bad Faith)


سارتر کے نزدیک بد ایمانی، عدم استناد ہے۔ وہ اسے ایک فرد بشر کی اپنی حقیقی شناخت کی دریافت سے فرار کا رویہ گردانتا ہے، اور یوں یہ اس قدر و اختیار سے بری الذمہ ہونے کی کوشش جو ہماری زندگی کا لازمی جزو ہے۔ سارتر جب یہ کہتا ہے کہ۔ ”شعور وہ ہے جو وہ نہیں، اور وہ نہیں جو وہ ہے“ تو اس سے اس کی مراد ہے کہ شعور واقعیت (فیکٹیسٹی) اور ماورائیت (ٹرانسینڈینس) کے مسلسل انضمام اور ربط و تعلق کے عمل سے گزر رہا ہے۔ بہ الفاظ دیگر، ماضی کو پیٹھ پر لادے، مستقبل کے امکانات کی جانب گامزن ہے۔ یہ بہاؤ، ؛بننے کا ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ کلیتاً اپنا ماضی نہیں کہ مستقبل میں وہ کچھ اور ہو سکتا ہے، اور مستقبل میں جو وہ خود کو دیکھتا ہے، اس کا حال اسے فی الحال تو نصیب نہیں۔

پہلے جو ہوا کرتے تھے ہم وہ نہیں رہے
دیکھو شب فراق ہے اور رو نہیں رہے

حقیقت انسانی کی ان دونوں جہتوں، یعنی واقعیت اور ماورائیت میں ایک قابل اعتبار ربط و ضبط چاہیے، جو بد ایمانی نہیں چاہتی۔ نہ وہ ان میں کوئی مثبت و کارآمد تعلقی خواہاں ہے، اور نہ ہی ان کا کوئی مرکب (سینتھیسس) اسے مطلوب ہے۔

واقعیت کیا ہے؟ یہ کسی فرد کی شناخت کے وہ پہلو ہیں جو اس کی شخصیت کو ایک ٹھوس یونٹ کے طور پر پیش کرتے ہیں، جیسے اس کے ماضی کے اعمال، اس کا بچپن، اس کا قد کاٹھ، جس سکول میں اس نے پڑھا وغیرہ۔ مختصراً، ایک فرد کا کل سرمایۂ ماضی۔

ماورائیت ایک باشعور شخص کی اپنی موجودہ صورتحال سے اوپر اٹھنے کی صلاحیت ہے۔ یعنی مستقبل بمع اپنے تمام امکانات میرے لئے۔

بد ایمانی سے چھٹکارا ممکن ہے اگر ماضی اور مستقبل میں ٹھیک ٹھیک تعلق استوار ہو جائے۔ لہذا ایک مستند فرد اس بات کو سمجھے گا کہ ان دو پہلووں کو ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ بد ایمانی پیدا ہی تب ہوتی ہے جب ایک فرد ان دونوں پہلووں کو ساتھ لے کر نہیں چلتا، اور ان دونوں جہتوں میں سے کسی ایک سے متعلق خود فریبی میں مبتلاء ہوجاتا ہے۔ یہ خود فریبی دو طرح سے ہوتی ہے۔ پہلے میں انسان اپنے ماضی (فیکٹسٹی) کے اثبات اور مستقبل (ٹرانسیڈینس) کے انکار کی روش پر ہوتا ہے۔ اس کی سارتر ایک دلچسپ مثال دیتا ہے :

چشم تصور میں ایک کیفے اور اس میں موجود ایک بیرے کا تصور کیجئیے۔ بیرے کی حرکات، اس کی ضرورت سے زائد چابک دستی اور مہارت کی عکاس ہیں۔ وہ گاہکوں کی طرف لپک لپک کر آتا ہے۔ آرڈر لیتے وقت اس کی آواز اور آنکھوں کا تاثر اس کی از حد تابعداری و گوش بر آوازی کا غماز ہے۔ یہاں بیرا اپنا کردار اسی طرح ادا کر رہا ہے جیسے تھیٹر کا اداکار ہو۔ یہ اس کی اپنی ماورائیت کی نفی کی ایک مثال ہے۔ یہاں بیرا اپنے کردار میں اپنے آپ کو پوری طرح کھپانے پر کمر بستہ ہے۔ اپنے موجودہ رول سے ماوراء کچھ ہونے کا خیال اس وقت اسے قطعاً نہیں۔

بد ایمانی، ماورائیت کی جہت سے تب ہوتی ہے جب انسان اپنے ماضی کا انکار، اور مستقبل کا اثبات کرتا ہے۔ سارتر ایک ہم جنس پرست کی مثال سے اسے سمجھاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ایک ہم جنس پرست، اپنے جنسی تعلقات میں صنف کی ترجیح کو ماضی کا قصہ جانتا ہے، اور اپنے مستقبل پر اس کے اثرات سے قطعاً انکاری ہے۔ یہاں تک کہ اگر اسے کوئی نیا ہم جنس تجربہ بھی ہوتا ہے تو اسے وہ ماضی سے منقطع حالت میں ایک نیا و انوکھا تجربہ جانتا ہے۔ یہ شخص (لاشعوری طور پر) ایس خود فریبی میں مبتلاء ہے گویا یہ بار با پیدائش نو کے عمل سے گزر رہا ہے، اور اسی طرح یہ معاشرے کی زجر و توبیخ سے بچنے میں کوشاں ہے، اور ’ہم جنس‘ کا عنوان لینے سے فرار کا رویہ رکھتا ہے۔

بقول ساتر وجود برائے خود ( اس کی مثال انسان ہے ) کی آرزو وجود بذات خود بننا ہے۔ سو وہ سو سو بہانے سے یہ کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح ”ہو“ جائے۔ کسالت انسان کو وجود برائے بننے کے لئے شارٹ کٹ اختیار کرنے پر مائل کرتی ہے۔ اس کی ایک مثال سارتر یوں دیتا ہے کہ ایک شخص کرب میں مبتلاء ہوا، اب اگر وہ شخص اس کرب کو اپنی شناخت کا واحد حوالہ بنا لے اور تصویر غم نظر آنے لگے تو یہ بد ایمانی ہے۔ کرب یقیناً اس وقت خاص وقت میں (خواہ وہ وقت آسٹوٹز کی طرح جانگسل و طویل ہی کیوں نہ ہو) اس کا حال تو ہو گا، پر وہ شخص کرب بنفسہ بہرحال نہیں۔

اس سب سے سارتر وجود برائے (جو ہم ہیں ) کے آخری ہدف کا تعین یوں کرتا ہے کہ وجود لنفسہ کا مقصد وجود بنفسہ بننا ہے۔ یہی وہ ازلی و ابدی دوری ہے جو شعور اور وجود میں ہے۔

Facebook Comments HS