کووڈ کے بعد گھر واپسی


گھر، اپنے لوگ اور رشتے انسان کی زندگی میں گہرا مقام رکھتے ہیں۔ آج کا سفر بہت خوبصورت رہا وہ اس لیے بھی کہ ہم دلی ائر پورٹ صبح سحر کے وقت پہنچے تھے۔ صبح سویرے دلی کی صاف ستھری شاہراہیں کا فی اچھی نظر آ رہی تھیں اندھیرے سے دھیرے دھیرے صبح صادق میں تبدیل ہوتے ہوئے وقت کو دیکھنا اور کا لے سے نیلے ہوتے ہوئے آسمان پر پہلی تاریخ کا چمکتا چاند کیا خوب لگ رہا تھا، اور میں اس چاند کو تب تک دیکھتی رہی جب تک وہ آسمان سے آہستہ آہستہ غائب نہیں ہو گیا۔

آج کا فی عرصے کے بعد اپنے وطن کی قدرتی خوبصورتی کو بخوبی محسوس کیا۔ راستے کے دونوں طرف پر سکون سبزہ بہت خوب لگ رہا تھا۔ پھر سورج کا دھیرے دھیرے طلوع ہو نا اس کی آہستہ آہستہ بڑھتی روشنی اور گر می کو میں محسوس کر رہی تھی، آج سے پہلے بھی ہندوستان آنا جا نا لگا رہا مگر اس مرتبہ پتہ نہیں کیوں زیادہ اچھا محسوس ہو رہا تھا اس کی وجہ پچھلے سال گزرا ہوا ”کووڈ“ کا سخت عرصہ بھی تھا شاید جو آج ہندوستان کی سڑکیں پہلے سے کہی زیادہ اچھی اور دلچسپ لگ رہی تھیں۔

اپنے ملک پہنچ کر آج بہت سکون محسوس ہو رہا تھا۔ کیو نکہ جب انسان پر بندشیں لگ جاتی ہیں تو آزادی کے احساسات میں ایک مسرت بھی شامل ہو جاتی ہے، اور یہی خوشی بندش اور آزادی کے فرق کو نما یاں کرتی ہے۔ کووڈ کی ضد میں آئے لوگ اور خاندانوں کے غموں کا مداوا تو نہیں کیا جاسکتا البتہ ان کی تکالیف کو محسوس ضرور کیا جا سکتا ہے۔ کیو نکہ اس پر آشوب دور میں شاذ و نادر ہی کوئی گھرانا ایسا رہا ہو گا جو اس جان لیوا بیماری کی ضد سے محفوظ رہا ہو عجیب بیماری تھی جس نے انسان کو انسان سے اتنا دور کر دیا کہ اپنے عزیزوں کی میت میں بھی شا مل ہو نا بڑا خطرہ مول لینے کے برابر تھا۔ ساری دنیا میں ہلچل مچ گئی تھی لوگ اپنے گھروں میں بند ہو گئے تمام دنیا معنوں رک سی گئی ہو غرض ساری دنیا کو عجیب دور کا سامنا کر نا پڑا یہی وجوہات تھیں جو گھر واپسی پر زیادہ سکون کا باعث بن رہی تھیں۔

لیکن اس دور میں سفر کرنا بہت مشکل بنا دیا گیا طرح طرح کی معلومات سے گزر کر ایک مسافر اپنی منزل مقصود کو پہنچتا ہے۔ چونکہ ابھی ہم گھر نہیں پہنچے تھے۔ ان تمام مراحل کو پار کر چکے تھے اور اپنے ملک کی شاہراہوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے راستے کے دوران ہی لکھنا شروع کر دیا اور تحریر کے لیے قلم اٹھانے کی وجہ ملک پہنچنے کی خو شی و سکون تھا۔ اور یوں بھی کہ ہم عرب مما لک سے آ رہے تھے جہاں پر دور دور تک ہر یا لی نظر نہیں آتی سبزہ اگانے کی کوششوں کے با وجود بھی اس کا فقدان ان ممالک میں ہمیشہ رہتا ہے، آج کافی عرصے کے بعد ہرے بھرے راستوں کو دیکھ کر آنکھیں سکون محسوس کر رہی تھیں۔

جیسے جیسے دن آگے بڑھ رہا تھا ویسے ویسے سڑکوں پر کام کے لیے نکلے لو گوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی زندگی کی بھاگ دوڑ میں لگے لوگ رزق کی تلاش میں صبح صبح سڑکوں کو آباد کر رہے تھے۔ اب ہمیں گھر تک پہنچنے میں صرف ایک گھنٹہ اور لگنے والا تھا۔ اس لیے ناشتہ راستے ہی میں کیا۔ ڈھا بے میں ملی گرم پوری اور سبزی کے ناشتے نے اور مٹی کے کپ میں ملی چائے جس کو عام زبان میں ”کلڑ“ کہتے ہیں ناشتے کے مزے کو دو بالا کر دیا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے شہر سے قریب تر ہوتے جا رہے تھے اور عرصے کے بعد اپنوں سے ملنے کی خوشی میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔ بلا آخر صبح ساڑھے نو بجے اپنے گھر پہنچے جہاں بڑی مسرتوں کے ساتھ خیرمقدم کیا گیا تمام خا ندان میں سب زیادہ خوش ہو نے والے ہمارے والدین تھے۔ یوں تو ہر رشتہ اپنی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن والدین کا رشتہ ایسا ہے جن کی وجہ سے انسان غیر ملک سے اپنے ملک جانے کا پروگرام بناتا ہے۔

ہندوستان میں قیام کا ڈیڑھ مہینے کا یہ عرصہ کس تیزی سے گزر گیا کہ پتہ ہی نہیں چلا اور ہم بخیر اپنے رزقی وطن واپس آ گئے۔

Facebook Comments HS