قائداعظم اور آزادی صحافت


قائداعظم محمدعلی جناح ایک روشن خیال سیاست دان تھے۔ قائداعظم کی سیاسی زندگی جمہوری عمل سے عبارت تھی چنانچہ زندگی بھر دستور اور قانون کی بالادستی پر ان کا یقین مضبوط رہا۔ ابتدائی زندگی ہی میں وہ مغربی جمہوریت کے اصولوں نیز پارلیمانی طرز حکومت سے بے حد متاثر ہوئے۔ ذاتی طور پر قائداعظم تنقید اور اختلاف کو نہ صرف قبول کرتے تھے بلکہ کھلے دل سے اس کا خیر مقدم کرتے تھے۔ چنانچہ قائداعظم اصولوں کی بنیاد پر اظہار اور بیان کی آزادی کے پرجوش مجاہد رہے۔

قائداعظم نے ایک وکیل کی حیثیت سے کئی مواقع پر اخبار نویسوں کا بھرپور دفاع کیا۔ 1908 ء میں بال گنگا دھرتلک پر اپنے اخبار ”کیسری“ میں بعض مضامین شائع کرنے پر مقدمہ چلایا گیا۔ انھیں جون 1908 ء میں گرفتار کیا گیا۔ 2 جولائی کو قائداعظم نے تلک کی جانب سے ضمانت کی درخواست پیش کی جسے مسترد کر دیا گیا۔ تلک پر 1912 ء میں پھر بمبئی ہائی کورٹ میں مشکل وقت پڑا۔ پونا کے مجسٹریٹ نے تلک کے نام اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا کہ کیوں نہ ان سے بیس ہزار روپے کا ذاتی مچلکہ اور دس، دس ہزار روپے کی دو شخصی ضمانتیں طلب کی جائیں؟ قائداعظم ایک بار پھر تلک کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے اس موقع پر بنچ نے ذیلی عدالت کا حکم معطل کر دیا۔

1915 ء میں ”بمبئے کرانیکل“ کے مدیر بی جی ہورنی مین نے اخبار کے بورڈ آف ڈائرکٹرز کے اجلاس میں گرماگرم بحث کے بعد واک آؤٹ کیا اگلے روز کے اخبار میں ایک زوردار مضمون شائع ہوا جس میں ایڈیٹر اور ادارتی عملے کے متعدد ارکان نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ بورڈ آف ڈائرکٹرز کے خلاف شدید احتجاج کے نتیجے میں بورڈ نے آخر کار استعفے پیش کر دیے اور شیئر ہولڈروں نے نئے بورڈ آف ڈائرکٹرز کا انتخاب کیا جس کے چیئرمین ایم اے جناح اور ارکان میں جمنا داس دوارکا داس، ایم آر جے کر اور اور دوسرے افراد شامل تھے۔ جناح کی سربراہی میں نئے بورڈ کا پہلا فیصلہ ہورنی مین اور ان کے ساتھ مستعفی ہونے والے عملے کے ارکان کی بحالی تھا۔

چار سال بعد ہورنی مین کو 1919 ء کے رؤلٹ ایکٹ کی شدید مخالفت کے جرم میں ہندوستان بدر کر دیا گیا۔ حکومتی اقدام کے خلاف آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کے زیر اہتمام بمبئی کے ایمپائر تھیٹر میں ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس کی صدارت لالہ لاجپت رائے نے کی۔ اجلاس میں قائداعظم اپنی بیگم کے ہمراہ تھیٹر کے باکس آفس میں بیٹھے تھے۔ اس موقع پرمسز رتی جناح نے ہورنی مین کی ہندوستان بدری کے خلاف ایک قرارداد پیش کی اور پانچ منٹ کی تقریر بھی کی۔

جب ہورنی مین کی ملک بدری کے علاوہ اخبارات پر پری سنسر شپ بھی عائد کی گئی تو قائداعظم نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ”بمبئے کرانیکل“ کی اشاعت معطل کر دی۔ انھوں نے سنسر کے اہلکاروں کے ہاتھوں اخبار پر نیلی پنسل کے استعمال کی ذلت برداشت کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے لندن میں سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے ہندوستان مونٹیگو کے نام ایک طویل تار میں ہورنی مین پر عائد الزامات کی پرزور تردید کی۔ محمد علی جناح نے انڈین مجلس قانون ساز میں ہورنی مین کا معاملہ اٹھایا اور ایک مدلل تقریر میں ہوم سیکرٹری سر میلکم ہیلی پر سخت تنقید کی جس نے ڈیفنس آف انڈیا رولز کے تحت ہورنی مین کے خلاف کارروائی کی تھی۔ اس تقریر میں انھوں نے کہا ”یہ واقعہ حکومت ہند کے دامن پر بدنما داغ ہے۔ دستوری قانون کے بارے میں اپنے علم کی روشنی میں مجھے مکمل یقین ہے کہ کسی بھی ملک کے قانون میں شخصی آزادی عزیز ترین چیز ہوتی ہے اور اسے اس طرح پامال نہیں کیا جانا چاہیے“ ۔

1916 ء میں بمبئی کی صوبائی کانگریس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناح نے 1910 ء کے پریس ایکٹ کی غیر محتاط شقوں اور ”ہر قسم کی عدالتی نگرانی سے آزاد انتظامیہ کی جانب سے اس قانون کے اندھا دھند استعمال“ پر کڑی تنقید کی۔ اسی طرح دسمبر 1917 ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے کلکتہ اجلاس میں جناح نے کہا:

”حکومت کے اہل کار عوام کی شکایات پر توجہ دینے کی بجائے کیا کرتے ہیں؟ وہ آپ کی زباں بندی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم پریس ایکٹ پاس کریں گے، وہ کہتے ہیں کہ اگر تم نے کچھ لکھا تو ہم تمہارا گلا گھونٹ دیں گے۔ انھوں نے عوامی اجتماعات کو روکنے کے لیے باغیانہ اجتماعات کا قانون نافذ کیا ہے۔ کیا عوام پر حکومت برقرار رکھنے کا یہی طریقہ ہے؟ کیا کسی قانون کے ذریعے عوام کی روح کو کچلنا ممکن ہوتا ہے“ ؟

19 ستمبر 1918 ء کو مجلس قانون ساز میں قرارداد کے ذریعے ایک کمیٹی کے قیام کی تجویز پیش کی گئی جو پریس ایکٹ ( 1910ئ) کے صحافت پر اثر ات کی تحقیقات کرے۔ اس موقع پر پریس ایکٹ کی مذمت کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا:

”مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں کہ اس قانون کو انتہائی غیر محتاط طریقے سے استعمال کیا گیا ہے اور اس ایکٹ کا غلط استعمال ناگزیر تھا۔ سرکاری اہلکاروں کو اندھا دھند اختیارات دیتے وقت یہ امر پیش نظر ہونا چاہیے کہ وہ بھی انسان ہیں۔ ان کے اپنے تعصبات ہوتے ہیں۔ یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ اس قانون پر کوئی اپیل نہیں ہے، اس کا فیصلہ حتمی ہے۔ میں بغاوت پھیلانے یا فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دینے والوں کا دفاع نہیں کرنا چاہتا لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں کہتا ہوں کہ بے قصوروں کا تحفظ کیجئے، ان صحافیوں کا تحفظ کیجئے جو آزادی اور دیانت داری سے حکومت پر تنقید کر کے اپنا فرض پورا کر رہے ہیں اور جن کی تنقید حکومت کے لیے تعلیم کا درجہ رکھتی ہے“ ۔

1919 ء میں جسٹس رولٹ کی سفارش پر امپیریل لیجسلیٹو کونسل میں دو بل پیش کیے گئے جن کی رو سے جج حضرات جیوری کی مدد کے بغیر سیاسی قیدیوں پر مقدمہ چلا سکتے تھے اور صوبائی حکومتوں کو مقدمے کے بغیر نظر بند رکھنے کے وسیع اختیارات دے دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ ان میں سے ایک بل اخبارات کی آزادی کو بھی محدود کرتا تھا۔ ان بلوں کے پیش ہونے سے قبل ہی پہلی عالمی جنگ ختم ہو گئی اور مجوزہ قوانین کا بیان کردہ جواز بھی جاتا رہا لیکن حکومت نے ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کے تحت حاصل اختیارات چھن جانے کے خدشے کے پیش نظر دونوں بل منظور کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ قائداعظم نے ان بلوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کونسل سے استعفی دے دیا۔ ان بلوں پر اپنے اعتراضات بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا:

”آپ کو یہ بتانا میرا فرض ہے کہ اگر یہ قوانین منظور کیے گئے تو ملک کے کونے کونے میں بے اطمینانی اور احتجاج کی ایسی فضا پھیل جائے گی جو آپ نے کبھی نہ دیکھی ہو گی۔ میری بات پر یقین کیجئے، اس کے نتائج بے حد خوفناک ہوں گے“ ۔

وائسرائے کے نام ان کے 28 مارچ 1919ء کو تحریر کردہ استعفے کی سخت زبان سے ظاہر ہوتا ہے کہ قائداعظم کو عوام کے بنیادی حقوق اور صحافت کی آزادی کا کس قدر خیال تھا، اس خط میں انھوں نے حکومت کو ”ان اصولوں کی بے دردی سے پامالی“ کا مجرم ٹھہرایا ”جن کے لیے برطانیہ نے عالمی جنگ لڑی تھی“ ۔ قائداعظم نے ان قوانین کے جن ”خوفناک نتائج“ کی پیش گوئی کی تھی وہ جلد ہی سامنے آ گئے، قریباً دو ہفتے بعد ، 13 اپریل 1919ء کو جلیانوالا باغ کا سانحہ پیش آیا اور پورا ملک اس آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔

عبدالستار خیری علی گڑھ سے ”روح عصر“ کے نام سے ایک ماہنامہ نکالتے تھے۔ حکومت ہند نے یکم جولائی 1939 ء کو اس اخبار پر پابندی لگادی۔ ستار خیری اور ان کی جرمن بیوی فاطمہ خیری کو ڈیفنس آف انڈیا رولز کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ اگرچہ خیری اور ان کی بیوی نے محمدعلی جناح سے مدد کی درخواست نہیں کی تھی اس کے باوجود جناح نے اعلیٰ حکام کے سامنے ان کا معاملہ اٹھایا۔ اس سلسلے میں قائداعظم نے جو خط لکھا اس سے قانون کی حکمرانی اور فرد کی آزادی کے لیے ان کا گہرا احترام ظاہر ہوتا ہے۔ خیری میاں بیوی کی رہائی پر جناح نے ان کے نام خط میں لکھا۔ ”میں نہیں جانتا کہ آپ کو قید کی صعوبت کیوں اٹھانا پڑی؟ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ میں نے قانونی مقدمے کے بغیر کسی فرد کی آزادی کے سلب کیے جانے کی ہمیشہ مخالفت کی ہے“ ۔

1936 ء میں ایک بار پھر قائداعظم نے الہ آباد کے روزنامہ ”ابھودیہ“ کے خلاف انڈین پریس (ایمرجنسی پاورز) ایکٹ کے استعمال پر زوردار آواز اٹھائی۔ اس اخبار نے مجلس قانون ساز میں کی جانے والی ایک تقرری کا متن شائع کیا تھا۔ اخبار کو 25 جنوری 1936 ء تک ڈھائی ہزار روپے کی ضمانت جمع کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس مدت کے خاتمے پر اخبار کی اشاعت بند ہو گئی۔ اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے قائداعظم نے صحافت کی آزادی اور ارکان اسمبلی کے استحقاق پر زور دیا اور کہا۔ ”اگر آپ نے مجھے تقریر کی آزادی دی ہے تو مجھے اس کو شائع کرنے کی بھی اجازت ہے، ورنہ میرے لیے یہ رعایت بے کار ہے۔ ہمیں اپنی مرضی سے کوئی بھی تقریر کرنے کی، کوئی بھی رائے ظاہر کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ اور ہم اس آزادی کے لیے اسمبلی سے باہر کسی بھی عدالت کے سامنے جواب دہ نہیں ہیں۔ اخبار کو بھی یہ آزادی ہے کہ اسمبلی کی کارروائی کو شائع کرے، اور اگر یہ سچائی، ایمانداری اور وفاداری سے شائع کی گئی ہو تو اخبار کو بھی کسی مخالفانہ کارروائی کا نشانہ نہیں بننا چاہیے“ ۔ اس تقریر کے دوران اسمبلی کے صدر سر عبدالرحیم کی بار بار مداخلت کے باوجود قائداعظم نے اشتعال میں آئے بغیر صحافت کی آزادی کے موضوع پر اپنی مدلل تقریر جاری رکھی۔

غیر منقسم ہندوستان کی اردو صحافت کم زور، کم اثر اور کم وسیلہ تھی۔ 1937 ء سے مسلم لیگ کا سیاسی عروج شروع ہوا چنانچہ آل انڈیا مسلم لیگ کے موقف کی وکالت اور ترویج کے لیے منظم اور طاقتور پریس کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ قائداعظم نے جنوری 1940 ء میں ”لیگ پریس فنڈ“ جمع کرنے کے لیے راج کوٹ اور کاٹھیا وار کا ایک طویل دورہ کیا جہاں خوشحال میمن برادری تجارت میں قدم جما چکی تھی۔ دورے کے اختتام پر راج کوٹ میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے ”لیگ پریس فنڈ“ کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے کا عطیہ دینے پر میمن برادری کا شکریہ ادا کیا۔

1946 ء کے اختتام تک مسلم لیگ کے دونوں اخبار ”ڈان“ اور ”منشور“ مالی استحکام حاصل کر چکے تھے۔ قائداعظم نے ایک ٹرسٹ قائم کر کے دونوں اخباروں کی ملکیت اس کو منتقل کر دی۔ ٹرسٹ کے قیام کا مقصد برصغیر کے دوسرے علاقوں میں مزید اخبارات جاری کرنا اور موزوں نوجوانوں کو اخبار نویسی کی تربیت اور تعلیم مہیا کرنا تھا لیکن صرف چند مہینوں میں پاکستان وجود میں آ گیا اور ٹرسٹ مزید اخبار جاری نہ کر سکا۔

”ڈان“ اور ”منشور“ قائداعظم کی براہ راست نگرانی میں شائع ہوتے تھے۔ وہ ان کے علاوہ بھی کئی دوسرے مسلم اخبارات کے معاملات میں دلچسپی لیتے تھے۔ 1946 ء میں عبوری حکومت کے اقتدار سنبھالنے تک ”ڈان“ مسلم ہندوستان کے مستند اور موثر ترین ترجمان کا درجہ حاصل کر چکا تھا۔ اس پرآشوب دور میں داخلہ اور اطلاعات کا قلم دان ولبھ بھائی پٹیل کے پاس تھا۔ انھوں نے مسلم لیگ کے اخبار کو کچلنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس وقت وائسرائے لارڈ ویول نے اپنی ڈائری میں پٹیل کی ان کوششوں کا کھل کر ذکر کیا ہے۔

”ڈان“ آل انڈیا مسلم لیگ کا سرکاری ترجمان تھا۔ پوتھن جوزف اور بعد میں الطاف حسین نے مسلم لیگ کے صدر کی جانب سے کسی قسم کی مداخلت کے بغیر اخبار کی ادارت کی۔ 15 نومبر 1946 ء کو دہلی میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناح نے کہا:

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ”ڈان“ میرا اخبار ہے اور بعض اوقات یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ جو کچھ ”ڈان“ لکھتا ہے وہ میرے یا مسلم لیگ کے اکسانے پر لکھتا ہے۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس بات میں ذرا بھی صداقت نہیں۔ بلاشبہ ”ڈان“ مسلم لیگ کی پالیسی کی حمایت کرتا ہے۔ یہ ایک ٹرسٹ ہے اور ایک ٹرسٹی کے طور پر ٹرسٹ کا انتظام چلانا اور اس کی رہنمائی کرنا میری ذمہ داری ہے لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے ایک ٹرسٹی کی حیثیت سے یا کسی اور حیثیت سے کبھی اپنے ایڈیٹر کے کام میں مداخلت نہیں کی۔ اگر مسلم لیگ کی پالیسی سے کوئی سنگین بنیادی نوعیت کا انحراف کیا گیا ہوتا تو میں فطری طور پر مداخلت کرتا ”۔

پوتھن جوزف نے جناح کے اس بیان کی یہ کہہ کر تصدیق کی تھی ”مجھے ’ڈان‘ کے پہلے ایڈیٹر کی حیثیت سے اس بیان کی صداقت پر فخر ہے“ ۔ ’ڈان‘ کے دوسرے ایڈیٹر الطاف حسین نے قائداعظم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا تھا:

”میں اکتوبر 1945 ء میں“ ڈان ”دہلی سے وابستہ ہوا تھا اور اس کے بعد سے مجھے قائداعظم کو قریب سے جاننے کا فخر حاصل رہا ہے۔ وہ نہ صرف میرے قائد تھے بلکہ آجر بھی بن گئے۔ میرے نزدیک دنیا میں کہیں اور کسی اخبار کا ایسا مالک ہوا ہے نہ ہو گا جس نے اپنے ایڈیٹر کو اس کی مرضی سے لکھنے کی اتنی مکمل آزادی دی ہو۔ انھوں نے کبھی کوئی ہدایت جاری نہیں کی، کبھی نہیں کہا کہ یہ کرو یا نہ کرو۔ درحقیقت وہ مجھ سے کسی صورت حال کا مطالعہ کر کے اپنی دیانت دارانہ رائے قائم کرنے اور بے خوفی سے اپنے خیالات لکھنے کی ترغیب دیتے تھے۔ چاہے وہ اس رائے سے اتفاق نہ کرتے ہوں“۔

جب پاکستان قائم ہو گیا اور قائداعظم گورنر جنرل بن گئے تب بھی ان کے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی۔ ”ڈان“ کے ایک اور کارکن ضمیر صدیقی لکھتے ہیں :

”قائداعظم اور لیاقت علی خان کو پوتھن جوزف پر اس قدر اعتماد تھا کہ وہ ان کے لکھے ہوئے اداریوں کے پریس بھیجے جانے سے پہلے ان پر نظر ڈالنا بھی ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ خود پوتھن جوزف بعض اوقات اپنے اداریے قائداعظم یا نوابزادہ لیاقت علی خاں کو دکھانے کے لیے بھجوا دیتے تھے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا تھا کہ“ ڈان ”کے اداریوں کو مسلم لیگ کے مخالفین بشمول برطانوی حکومت، احتیاط سے پڑھتے اور جانچتے تولتے تھے۔ وہ“ ڈان ”کے اداریوں کی روشنی اور پس منظر میں مسلم لیگ کی پالیسی کو پرکھتے تھے کیونکہ“ ڈان ”مسلم قیادت کے سرکاری نقطہ ¿ نظر کا ترجمان تھا۔

”ڈان“ کے عملے کے ایک اور رکن عزیز بیگ لکھتے ہیں :

”مجھے کم از کم دو ایسے موقعے یاد ہیں جب پوتھن جوزف کو صاف صاف بتایا گیا کہ انھیں کسی بھی فرد کی ہدایات کا انتظار کیے بغیر مسلم لیگ کا نقطہ نظر پیش کرنے اور اس کی تعبیر کرنے کی پوری آزادی ہے۔ 1947 ء میں راقم الحروف (عزیز بیگ) نے جو اس وقت بمبئی کے ہفتہ وار“ سٹار ”کا ایڈیٹر تھا، اپنے ایک اداریے کا ٹائپ شدہ مسودہ سرسری طور پر جناح کو دکھایا لیکن انھوں نے مجھ سے کہا“ مائی ڈیر بوائے! کسی سے ہدایات مت لو، اپنے ذہن کی روشنی میں لکھو، ایمان داری اور بے خوفی سے لکھو، میں اس طرح کی مداخلت کا قائل نہیں ہوں ”۔ ایک بار پھر جب یہ ہفتہ وار“ سٹار ”کے بارے میں ان کی رائے طلب کی گئی تو قائد نے دو تجویزیں پیش کیں، ایک تو یہ کہ عام لوگوں کو راغب کرنے کے لیے اس میں تصویری خاکے چھاپے جائیں اور دوسری یہ کہ اخبار میں مقامی رنگ ہونا چاہیے۔ میں نے عرض کیا۔“ جناب، مجھے ان تجاویز پر عمل کر کے بہت خوشی ہو گی ”۔ کسی اور شخص کو ایسے مؤدبانہ جواب سے بہت خوشی ہوتی، لیکن قائد نے برہمی سے کہا“ نہیں! اخبار کا ایڈیٹر میں نہیں ہوں، آپ ہیں۔ اپنا کام آپ زیادہ اچھی طرح جانتے ہیں، یہ محض میری منکسرانہ تجاویز ہیں، انھیں قبول یا رد کرنا آپ پر منحصر ہے ”۔

13 مارچ 1947 ء کو بمبئی میں مسلمان صحافیوں کے ایک نمائندہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناح نے کہا:

”آپ کے پاس بہت بڑی طاقت ہے۔ آپ لوگوں کو راہ دکھا سکتے ہیں یا انھیں گم راہ کر سکتے ہیں۔ آپ کسی بڑی سے بڑی شخصیت کو بنا سکتے ہیں یا تباہ کر سکتے ہیں۔ صحافت کی طاقت واقعی بہت بڑی ہے لیکن آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ طاقت ایک امانت ہے۔ اسے ایک امانت سمجھئے اور یاد رکھیے کہ آپ ترقی اور بہبود کے راستے پر اپنی قوم کی راہنمائی کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں آپ سے مکمل بے باکی کی توقع رکھتا ہوں خواہ کسی موقعے پر میں خود غلطی پر ہوں یا لیگ اپنی پالیسی یا سرگرمیوں کی سمت متعین کرنے میں غلطی کرے، میں چاہوں گا کہ آپ ایک دوست کی سی دیانت داری سے اس پر تنقید کریں، درحقیقت ایک ایسے دوست کی طرح جس کا دل مسلمان قوم کے ساتھ ساتھ دھڑک رہا ہو“ ۔

1946 ء میں شمال مغربی سرحدی صوبے میں مسلم لیگ کی وزارت اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی۔ لاہور کے ایک اخبار نے صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے لیگ کی سابق وزارت پر بے رحمی سے تنقید کی۔ قائداعظم کی خواہش پر اس مضمون کو ”ڈان“ میں نقل کیا گیا جس پر بہت سے لوگوں کو بڑی حیرت اور ناگواری محسوس ہوئی۔ قائداعظم اس حقیقت کی تشہیر کیوں چاہتے تھے کہ سرحد میں مسلم لیگ کی وزارت قائم رہنے کی مستحق نہ تھی۔ اس کا جواب واضح ہے۔ قائداعظم اپنے عوام سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رکھنا چاہتے تھے۔ وہ اپنی قوم کو دھوکا نہیں دے سکتے تھے۔

ڈی ایف کراکا مسلم لیگ کے شدید مخالف صحافیوں میں شمار ہوتے تھے۔ انھوں نے جون 1947 ء میں تقسیم کے منصوبے کی منظوری کے فوراً بعد قائداعظم سے ملاقات کی۔ کراکا لکھتے ہیں ”جناح نے مجھ سے کہا،“ آپ کا نقطہ نظر ہمارے نقطہ نظر سے مختلف رہا ہے۔ میں نے آپ کی تحریریں پڑھی ہیں، ہمارا ہر نکتے پر اختلاف ہے۔ آپ نے مسلسل ہم پر تنقید کی ہے لیکن میں آپ کا احترام کرتا ہوں، کیونکہ آپ نے جو کچھ لکھا آپ کو اس پر مکمل یقین تھا۔ ”

11 اگست 1947 ء کو پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالنے کے بعد قائداعظم نے اپنی زندگی کی عظیم ترین تقریر کی۔ قائداعظم نوزائیدہ مملکت کی پہلی نمائندہ اسمبلی سے بابائے قوم، صدر مسلم لیگ، مستقبل کے گورنر جنرل اور معزز ایوان کے صدر کی حیثیت سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ ایک لکھی ہوئی تقریر تھی جس پر ان کے سرکاری سوانح نگار ہیکٹر بولائتھو کے مطابق انھوں نے ”گھنٹوں“ کام کیا تھا۔ اس تقریر میں انھوں نے کہا:

”آپ آزاد ہیں۔ آپ کو پاکستان میں اپنے مندروں، مسجدوں یا دوسری عبادت گاہوں میں جانے کی مکمل آزادی ہے۔ خواہ آپ کسی بھی مذہب، نسل یا ذات سے تعلق رکھتے ہوں، اس بات کا کوئی تعلق اس بنیادی اصول سے نہیں ہے کہ ہم سب ایک ریاست کے شہری اور مساوی حیثیت کے حامل شہری ہیں“ ۔

اس تاریخی تقریر کے بعد قائداعظم گورنمنٹ ہاؤس روانہ ہو گئے لیکن جلد ہی کچھ خفیہ ہاتھ حرکت میں آ گئے اور انھوں نے جناح کی تقریر میں تحریف کی کوشش شروع کر دی۔ دراصل قائد کی یہ تقریر انتظامیہ کے بعض اعلیٰ عہدے داروں کو پسند نہیں آئی تھی کیونکہ ان کے خیال میں اس سے دو قومی نظریے کی نفی ہوتی تھی۔ ان لوگوں نے چاہا کہ تقریر کا ایک حصہ اخبارات میں شائع نہ ہو۔ ”ڈان“ کے مدیر الطاف حسین مرحوم نے ان لوگوں سے اتفاق نہیں کیا اور تقریر کو کسی تحریف کے بغیر جوں کا توں شائع کرنے پر اصرار کیا۔ انھوں نے دھمکی دی کہ وہ قائد سے جا کر استفسار کریں گے کہ اس حصے کو چھپنا چاہیے یا نہیں؟ اس طرح قائد کی تقریر کسی تحریف کے بغیر اصل صورت میں اخبارات میں شائع ہو سکی۔

اس تاریخی تقریر کو دبانے کا رجحان بعد میں بھی بار بار سامنے آتا رہا۔ 1953 ء کے فسادات کی تحقیقات جسٹس محمد منیر اور جسٹس رستم کیانی کے سپرد تھیں۔ ان تحقیقات کے دوران کچھ ظلمت پرستوں نے دعویٰ کیا کہ قائداعظم نے ایسی کوئی تقریر سرے سے کی ہی نہیں۔ جسٹس منیر کے بقول ”اس تقریر کے سات سال بعد بھی میرے سامنے اسے کسی شیطانی خیال کا شاخسانہ قرار دیا گیا“ ۔

قائداعظم کی یہ تقریر پاکستان میں متعدد حکومتوں کے لیے ناپسندیدہ قرار پائی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سپریم کورٹ میں بیان دیا تھا کہ یحیٰی خان کے وزیر اطلاعات جنرل شیر علی نے اس تقریر کو جلا دینے یا ریکارڈ سے غائب کردینے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ 1981 ء میں فوجی حکومت کے تحت اخبارات پر پیشگی سنسر شپ کا ضابطہ نافذ تھا۔ اسلام آباد کے انگریزی روزنامے ”دی مسلم“ نے 25 دسمبر کے خصوصی شمارے میں ایک مضمون شائع کیا جس میں اس تقریر کا اقتباس شامل تھا لیکن پاکستان کی پہلی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے قائد کا تاریخی خطاب سنسر کی نیلی پنسل کا نشانہ بن گیا جس پر ملک بھر میں زبردست احتجاج کیا گیا۔

قائد کی زبان بندی کی سازش کے مرتکب لوگ اب تک پردہ راز میں ہیں۔ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ واقعہ قائداعظم کے علم میں لایا گیا تھا یا نہیں۔ ایک بات البتہ یقین سے کہی جا سکتی ہے اور وہ یہ کہ گورنر جنرل کی حیثیت سے اپنی مختصر زندگی میں انھوں نے صحافت اور اظہار کی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں سے کبھی روگردانی نہیں کی۔

کراچی میں جنوری 1948 ء کے فسادات کے دوران ”سندھ آبزور“ کے مدیر پونیا نے کچھ اشتعال انگیز اداریے لکھے جن میں حکام کو اکثریتی فرقے کی حمایت کرنے کا مجرم ٹھہرایا۔ یہ معاملہ جناح کے علم میں لایا گیا، ان کا جواب تھا ”اخبار کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ دوسرے اخباروں کو ایڈیٹر کی بات کا مناسب جواب دینے کا موقع دیا جائے“ ۔

1949 ء میں سابق وزیر اعلیٰ سندھ ایوب کھوڑو کی طرف سے دائر کردہ ایک مقدمے کے گواہوں میں آغا شاہی بھی شامل تھے۔ انھوں نے عدالت کے سامنے شہادت دی کہ وہ مقدمہ چلائے بغیر نظر بندی کا اختیار دینے والے آرڈیننس کا مسودہ لے کر دستخط کرانے کے لیے گورنر جنرل محمدعلی جناح کے پاس گئے تھے۔ قائداعظم نے برہمی سے انھیں جواب دیا تھا۔

”میں ساری زندگی ان سیاہ قوانین کے خلاف جنگ کرتا رہا ہوں اور اب آپ مجھ سے اس پر دستخط کرانا چاہتے ہیں۔ نہیں! میں اپنے موقف پر قائم رہوں گا“ ۔

11 اگست 1947 ء کو قائداعظم دستور ساز اسمبلی کے صدر منتخب ہوئے۔ اگلے ہی روز اسمبلی نے ”پاکستانی شہریوں کے بنیادی حقوق اور اقلیتوں سے متعلق امور“ کے بارے میں ایک کمیٹی قائم کی جس کے سربراہ وہ خود تھے۔ اسمبلی کی ایک ذیلی کمیٹی قائداعظم کی زندگی ہی میں بنیادی حقوق کے بارے میں ابتدائی رپورٹ مرتب کر چکی تھی لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ جناح کے آدرشوں اور انداز فکر سے غداری کی ایک شرمناک داستان ہے۔

(ضمیر نیازی کی کتاب ”پابہ زنجیر صحافت“ سے ماخوذ)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ضمیر نیازی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments