ملالہ یوسفزئی کا افغانستان سے آئے ایک خط کا جواب: ’میں آپ کی کہانی شیئر کرتے رہنے کا وعدہ کرتی ہوں‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لڑکی کا خاکہ
رواں برس اگست میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد سے لڑکیوں کے زیادہ تر سکول بند ہیں اور صرف لڑکوں اور مرد اساتذہ کو سکول جانے کی اجازت ہے۔

طالبان حکومت نے کہا ہے کہ لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم کی اجازت دی جائے گی تاہم اس حوالے سے انھوں نے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا۔

بی بی سی 100 وومین کی سیریز ’ارجنٹ لیٹر فرام افغانستان‘ میں نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی، جنھیں لڑکیوں کے حق تعلیم کے لیے آواز بلند کرنے پر طالبان نے سنہ 2011 میں گولی ماری تھی، نے 17 برس کی روحیلہ کو خط لکھا ہے جو چار ماہ سے سکول نہیں جا سکیں ہیں۔

روحیلہ ابھی بھی افغانستان میں ہیں جہاں سے یہ خط انھوں نے ملالہ کے لیے لکھا۔ روحیلہ کی حفاظت کے پیش نظر ان کا اصلی نام ظاہر نہیں کیا جا رہا۔


لڑکی کا خاکہ

میں پیچھے رہ گئی ہوں

ڈیئر ملالہ

اب میں جب بھی صبح اٹھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ میں سکول کے لیے لیٹ ہو گئی ہوں لیکن پھر مجھے اس افسوسناک حقیقت کا احساس ہوتا ہے کہ میرا سکول تو بند ہے۔ میرے گھر سے میرا سکول صرف چند کلومیٹر دور ہے اور میں وہاں پہنچنے کے لیے اپنی بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ رکشہ لیتی تھی۔ اب میں دیکھتی ہوں کہ روز صبح رکشہ لڑکوں کو لینے آتا ہے جبکہ میں پیچھے رہ جاتی ہوں۔

میں اس امید پر روزانہ خبریں سنتی ہوں کہ ہمارے علاقے میں سکول کھل جائیں گے اور میں اپنے اساتذہ اور دوستوں سے بات کر سکوں گی لیکن سچ یہ ہے کہ کسی کو بھی نہیں معلوم کہ ہمارے سکول کب کھلیں گے یا وہ بند کیوں ہیں۔ میں اس بارے میں بہت دکھ محسوس کرتی ہوں کہ ہم سے تعلیم جیسا بنیادی حق صرف اس لیے چھین لیا گیا کیونکہ ہم عورتیں ہیں۔

مجھے اپنی خواتین ٹیچرز کی بھی فکر ہوتی ہے۔ وہ اپنے گھروں میں اکیلے کمانے والی ہیں اور انھیں مہینوں سے تنخواہ نہیں ملی۔ میں اپنے دوستوں کو بہت زیادہ یاد کرتی ہوں۔ میرے دوستوں کے حلقے میں بہت کم لوگوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے۔ میں آن لائن انگریزی پڑھنے اور خود کو چیزیں سکھانے کی کوشش کرتی ہوں لیکن یہ ایک استاد کے بغیر بہت مشکل ہے۔

میں سکول کی لیبارٹری میں دوبارہ تجربات کرنا چاہتی ہوں اور تقریری مقابلوں میں حصہ لینا چاہتی ہوں۔ میں یہ یاد کر کے بہت فخر محسوس کرتی ہوں کہ جب ایک اور سکول کے ساتھ مقابلے میں، میں نے اپنے سکول کی نمائندگی کی اور میرا سکول جیت گیا۔

میں نے ہمیشہ محسوس کیا کہ مجھے ان مضامین میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو مجھے بہت پسند ہیں۔ بچپن میں میرے والد مجھے پڑھنے کے لیے انگریزی میں کارٹون سٹرپس لا کر دیتے تھے تاکہ میں انھیں پڑھ سکوں یا ٹی وی پر سائنس شو دیکھنے کی ترغیب دیتے تھے۔ اس لیے اب یہ میرے پسندیدہ مضامین ہیں۔

میں مستقبل میں سائنس اور انگریزی پڑھنا اور ایک کامیاب کرئیر بنانا چاہتی ہوں۔ میرا خواب ہے کہ میں بیرون ملک سکالر شپ حاصل کر سکوں اور پھر تجربے کے ساتھ اپنے ملک واپس لوٹ سکوں لیکن افغانستان دنیا سے کٹ چکا ہے اور تعلیم حاصل کرنے کے میرے خواب اب بیکار سے محسوس ہو رہے ہیں۔

میں امید کرتی ہوں کہ دنیا اور بین الاقوامی کمیونٹی ہمیں بھولے گی نہیں اور ہماری برسوں کی محنت کو ضائع نہیں ہونے دے گی۔ مجھے امید ہے کہ دنیا ہمارے لیے بھی آواز اٹھائے گی۔

نیک تمنائیں

روحیلہ


ملالہ یوسفزئی

’میں آپ کی کہانی شیئر کرتے رہنے کا وعدہ کرتی ہوں‘

ڈیئر روحیلہ

میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ آپ اکیلی نہیں ہیں۔

مجھے یاد ہے جب پاکستان میں بندوقووں والے آدمیوں نے میرے گھر پر حملہ کیا اور لڑکیوں کے سکول بند کر دیے۔ میں جانتی ہوں کہ اس خوف کو محسوس کرنا کہ کل کیا ہو گا اور کیا کبھی میں کلاس روم میں واپس جا سکوں گی، کیسا ہوتا ہے۔

جب طالبان نے اگست میں کابل پر حملہ کیا تو میں نو برس میں اپنی چھٹی سرجری کے لیے ہسپتال میں تھی تاکہ ان کی گولی سے ہوئے نقصان کو ٹھیک کیا جا سکے۔ میں نے خبریں دیکھیں اور سڑکوں پر افغان خواتین اور لڑکیوں کو مساوی حقوق کے لیے احتجاج کرتے دیکھا۔ تاریخ کو اپنے آپ کو دہراتا دیکھ کر مجھے بہت تکلیف ہوئی۔

اگر تمام لڑکیاں سکول جاتی ہیں تو ہم ہر شعبے میں قائدانہ کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے حقوق کے لیے بہتر انداز میں آواز اٹھا سکتے ہیں۔ ہم اپنی دنیا کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ زیادہ تعلیم یافتہ خواتین اپنے حصے سے ویکسین تیار کرنے یا آب و ہوا کے حل تلاش کرنے جیسی چیزوں پر پیشرفت کو تیز کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔ میں ایسا مستقبل دیکھنا چاہتی ہوں۔

ہر دن، میں جب بھی تعلیم اور مساوی حقوق کے لیے لڑوں گی تو میں آپ کو یاد رکھوں گی۔۔۔ آپ کی سائنس سے محبت اور آپ کے والد جو میرے والد کی طرح، آپ کو سیکھتے اور قیادت کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں آپ کی کہانی شیئر کرتی رہوں گی۔

میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ آپ کبھی بھی خود پر اعتماد نہ چھوڑیں۔ اپنی آواز پر یقین رکھیں۔ آپ سب کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

ملالہ یوسفزئی


یہ بھی پڑھیے

لڑکیوں کے خفیہ سکول: ’مجھے معلوم ہے طالبان لڑکیوں کو سکول میں پڑھنے نہیں دیں گے‘

وہ ٹیچر جو طالبان کی پابندی کے باوجود لڑکیوں کو پڑھانے کے لیے پرعزم ہیں

ملالہ یوسفزئی: طالبان کی ایک گولی کا زخم جو نو برس بعد بھی بھر نہیں سکا

’میں گھر میں بہت حکم چلاتی ہوں۔۔۔بھائیوں کو ہر وقت لیکچر دیتی ہوں‘

بی بی سی 100 وومین


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 22517 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments