ایک کالم۔ کئی کہانیاں


سیالکوٹ واقعہ انتہائی دل خراش اور دل دہلا دینے والا ہے، لیکن اس سے پہلے بھی پاکستان میں کتنے ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات کا بار بار ہونا، ہماری اور ہمارے نظام کی کمزوری ہے کیا؟

کیا انصاف کا معیار پورا رکھا گیا ہے؟
کیا قانون یہاں سب کے لئے برابر ہے؟

سیالکوٹ واقعہکوئی پہلا واقعہ نہیں، ایسے درجنوں واقعات ہو چکے ہیں۔ نجانے یہ مشتعل ہجوم کب کٹہرے میں لایا جائے گا۔

شاید آپ کو یاد ہو، ضلع قصور کے نواحی علاقے کوٹ رادھا کشن میں ایک مشتعل ہجوم نے قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے الزام پر بھٹے پر کام کرنے والے ایک مسیحی میاں، بیوی کو قتل کر کے اسی بھٹے میں ہی جلا دیا۔

لاہور فیروز پور روڈ پر چرچ کے باہر طاقت ور اقلیت نے حافظ قرآن کو جلا دیا۔
ماضی قریب میں کوئٹہ کے ایک سردار نے ٹریفک پولیس کو گاڑی نیچے کچل دیا، کیا ہوا، کچھ بھی نہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں طاقت ور پولیس نے اسامہ ستی کے جسم کو گولیوں سے چھلنی کر دیا، کچھ بھی نہیں ہوا۔

تھوڑا سا پیچھے جائے تو قانون دانوں نے ہسپتال پر ہلا بول دیا، لیکن کسی کو جرات نہیں کہ ہاتھ تک لگائے۔

کراچی میں ایک امیر زادے نے نوجوان کو گولی مار کے ہلاک کر دیا، سزائے موت تو دور کی بات، ان کے لئے جیلیں بھی فائیو سٹار ہوٹلوں سے کم نہیں، کہانیاں اتنی کہ سر شرم سے جھک جائے۔ قانون کو ان سب طاقتور بڑوں نے گھر کی لونڈی سمجھ رکھا ہے۔

سیالکوٹ واقعہ پر جتنا بھی لکھا جائے، افسوس کیا جائے، اس کا کوئی بھی ازالہ نہیں، پر انتھا کمارا کی ان درندوں سے جو تھوڑی بہت dead body بچی، کو ہیلی کیپٹر کے ذریعے کولمبو روانہ کر دیا گیا۔ پر انتھا کمارا کی لاش سے اٹھنے والا دھواں، انصاف کا منتظر، پر انتھا کمارا دو بچوں کا پاپ، اپنا اور ان کا پیٹ پالنے کی خاطر سری لنکا سے شہر اقبال سیالکوٹ وزیر آباد روڈ پر واقع اسپورٹس فیکٹری میں جنرل مینجر کے عہدہ پر اپنے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ اسے کیا پتا تھا کہ اسی فیکٹری کے ملازم ایک دن اس فیکٹری کے اندر مار کر باہر روڈ پر جلا دیں گے۔

افسوس صد افسوس، درندگی در درندگی، بے حسی در بے حسی شرمندگی در شرمندگی۔ یہ سب ہجوم اوپر سے انسان اندر سے حیوانوں سے بھی بدتر، سنا ہے فیکٹری میں کچھ کام کروانے کے لئے دیوار سے کچھ مذہبی پوسٹرز ہٹانا کی وجہ سے بات لاش جلانے تک جا پہنچی، نہ وہ اردو جانتا تھا، نہ انگلش، نہ عربی، اپنے کیے پر معافی بھی مانگی، لیکن یہاں بے حسوں کا معاشرہ، عدم برداشت کوٹ کوٹ بھری ہوئی، اسے گستاخ کا نام دے کے جلا دیا گیا۔

مذہبی سکالرز اور ملک کے تمام عہدوں داروں نے اس واقعہ کی مذمت کی، اور ملزمان کو سخت سے سخت سزا دینے کی بھی حمایت کی، مرکزی ملزمان کو گرفتار کر کے ریمانڈ پر بھی بھیج دیا گیا۔

سینکڑوں لوگوں میں صرف ایک عدنان تھا جو انسانیت کی قدر جانتا تھا، جو انسان تھا۔ لیکن اس ہجوم کے آگے تو پولیس بھی بے بس تھی، وہ بیچارہ اکیلا کیا کر سکتا تھا۔

” ارشاد باری تعالی ہے“ کہ جس نے ایک انسان کو جان بوجھ کر قتل کیا، اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا ”

رسول پاکﷺ کی ذات پر ہم سب کی جانیں قربان، آپ ﷺ کی محبت ہمارے ایمان کا بنیادی جز ہے۔ اس کے بغیر ہمارا گزارا یہاں اور نہ وہاں حشر میں ہے۔

کاش ہم جتنی محبت اپنے نبی پاک ﷺ سے کرتے ہیں ان کی سیرت بھی پڑھ لے تو ہم نجات پا جائے۔
فرمان رسول پاک ﷺ

”خبردار! جس نے کسی اقلیتی فرد پر ظلم کیا یا اس کا حق مارا یا اس پر اس کی استطاعت سے بڑھ کر بوجھ ڈالا یا اس کی دلی رضامندی کے بغیر کوئی چیز چھین لی تو قیامت کے دن میں (محمد) اس اقلیتی فرد کی طرف سے ( ظالم سے ) جھگڑا کر وگا۔“ (سنن ابی داود 3054 )

حدیث پاک کا مفہوم ہے
”بہترین مسلمان وہ ہے جس کی ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ رہے“
اس واقعہ کی جتنی اور جہاں جس فورم پر بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

اگر پر انتھا کمار نے کوئی جرم کیا بھی تھا، تو عدالت سے رجوع کیا جاتا کسی بھی فرد کو حق نہیں ہے کہ وہ ریاستی قوانین کو ہاتھ میں لے تمام فیصلے کوئی فرد یا کوئی ہجوم خود نہیں کر سکتا، ملک پاکستان میں تمام قوانین موجود ہیں۔

ہمارا عدالتی نظام میں بھی کافی نقائص ہیں۔ معمولی اور غیر معمولی کیس سالوں سے لٹکے رہتے ہیں۔ جس سے معاشرے میں انارکی اور بدامنی پھیلتی ہے۔ ہمیں اس نظام کو بہتر بنانا ہو گا، خود کو بدلنا ہو گا، سوچ کو بدلنا ہو گا اور ایسے اقدامات اور سیمینار ملکی سطح پر ہونے چاہیے، تعلیمی معیار کو بہتر سے بہتر بنانا ہو گا جس سے برداشت کے ساتھ ساتھ اخلاقی قدریں بھی پروان چڑھیں۔

اس واقعے سے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا، اب کون یہاں آ کے نوکری، کاروبار کرے گا۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس واقعہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے، اس میں ملوث ملزموں کو قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں۔ تاکہ آئندہ پاکستان ایسے درندہ صفت انسانوں سے پاک رہے، اور ہر طرف امن و امان کی فضا قائم ہو۔

حضرت عمر رضی اللہ نے فرمایا
”جو ریاست مجرموں پر رحم کرتی ہے وہاں بے گناہ بے رحمی سے مرتے“ ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس میں پر یانتھا کمارا اور ان کی فیملی کے دکھ کے اظہار کے لئے تعزیتی ریفرنس تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا، ملک عدنان کی بہادری اور جرات کو خراج عقیدت اور تعریفی سند بھی دی گئی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا، مذہب کی آڑ لے کے تشدد کرنے اور قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ کاش ایسا ہو ہی جائے اس بار۔

Facebook Comments HS