ٹائی کی گرہیں

انسان نے ہوش سنبھالنے کے بعد سے تادم تحریر جتنی بھی ایجادات کی ہیں ان میں سب سے حیرت انگیز ایجاد ”ٹائی“ ہے۔ دنیا میں ہر شے کے حق اور مخالفت میں دلائل کا پلندا تیار کیا جاسکتا ہے اور دونوں طرف کے دلائل اتنے ہی ٹھوس، استدلال اور منطق سے بھرپور نظر آتے ہیں مگر ٹائی دنیا کی واحد شے ہے کہ اس کے حق میں فقط دو دلائل آج تک منظر عام پر آئے۔ ایک تو وہ جو اسے پہننے والی تمام خلقت کے ذہنوں میں راسخ ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ”اچھی لگتی ہے۔“
دوسری دلیل خاصی معقول ہے جو شفیق الرحمان صاحب نے پیش کی تھی کہ
”ٹائی کا واحد فائدہ یہ ہے کہ جب اسے اتارا جائے تو نہایت فرحت اور سکون میسر آ جاتا ہے۔“
درد کے سفیر عطا اللہ خاں عیسی ’خیلوی کسی جگہ فرماتے ہیں کہ
”کوششیں کرنے سے حالات بدل جاتے ہیں
خود بگاڑی ہوئی قسمت کا شکوہ نہ کرو۔ ”
غالب امکان یہی ہے کہ اس شعر میں وہ ٹائی کا ذکر فرما رہے ہیں۔ بچپن میں پہلے پہل میں سمجھتا تھا کہ لاسٹک (الاسٹک کہنے میں وہ مزہ نہیں لہذا برداشت کیجیے ) صرف کچھوں اور شلواروں میں ڈالی جاتی ہے۔ ذرا بڑا ہوا اور لاسٹک والی ٹائی پہن کر سکول جانے لگا تو لاسٹک کا ایک اور مصرف سمجھ آ گیا نہ آیا تو ٹائی کا مصرف سمجھ نہ آیا۔
اور بڑا ہوا تو پتا چلا کہ اسے باندھا جاتا ہے۔ پہلی بار یونیورسٹی میں زمانہ طالب علمی میں سوٹ خریدا تو ساتھ میں ٹائی بھی خریدنی پڑی۔ اس دن معلوم ہوا کہ اچھی برانڈڈ ٹائی کی قیمت میں آپ دو سوٹ مزید خرید سکتے ہیں۔ ٹائی باندھنے کے فن لاحاصل سے پالا پڑا تو انکشاف ہوا کہ یہ پورا ایک مضمون ہے۔ اس دریائے وضع داری و خواری میں بے شمار گرہیں آتی ہیں جنہیں ”ناٹس“ کہا جاتا ہے۔ کوئی اٹالین ہے، کوئی ویسٹرن اور کوئی فرنچ۔
ہم نو آموز تھے لہذا یونیورسٹی کے سب سے الٹرا ماڈرن لونڈے سے فقط دو ناٹس (گرہیں ) باندھنا سیکھی۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر مشق بہم پہنچانے لگے۔ بار بار مغالطہ ہوجاتا۔ کبھی ٹائی لٹک کر گھٹنوں تک چلی جاتی اور کبھی کچھوے جتنی ہو کر چھاتی پر ایسے پڑ رہتی جیسے کسی آوارہ تلنگے نے گریبان پکڑ رکھا ہو۔ کمرے میں دو ہی پینڈو تھے۔ ایک میں دوسرا میرا روم میٹ۔ رات کے کسی پہر اس کی آنکھ کھلی تو یہ منظر دیکھ کر وہ سرائیکی میں بولا
”او بھرا سم ونج۔ باقی پریکٹس سویرے کریں۔ ہیندا صرف“ سموسہ ”سیٹ کرنا ہوندے۔ میں سکھا ڈیساں۔“
(او بھائی سو جاؤ۔ باقی پریکٹس صبح کرنا۔ اس کا صرف سموسہ سیٹ کرنا ہوتا ہے۔ میں سکھا دوں گا)
تکونی گرہ کے لئے یہ نئی اصطلاح علم میں آئی۔ سموسہ سیٹ ہوا تو دیکھا نماز فجر کی اذانیں ہو رہی ہیں۔
بس اس دن سے اسی ایک طریقہ سے ٹائی باندھتے آرہے ہیں۔ کئی برسوں تک میں یہ سمجھتا رہا کہ ”بو“ بھی شاید ٹائی ہی ہے جسے لپیٹ لپاٹ کر اور سلیقے سے استری کر کر کے، تہہ کر کے گلے میں کسی پیپر پن سے نصب کر دیا جاتا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ تو ٹائی سے بھی زیادہ بے مصرف شے ہے۔ ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ بیرے اور مشہور گلیمرس سلیبریٹیز میں سے کون کس کی نقل کر کے بو باندھتا ہے۔
القصہ ٹائی وہ عذاب ہے جسے انسان نے دیکھا دیکھی اپنے آپ پر مسلط کیا ہوا ہے۔ جانتے سب ہیں پر بولتا کوئی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ بولتا بھی ہے تو واعظ ہی بولتا ہے کہ صلیب مسیح کی یادگار ہے۔ اس سے زیادہ اس غریب کو بھی اس کی تاریخ کا علم نہیں۔
وہ لباس ہی کیا جسے آپ سلیقے سے الماری میں ٹانگ بھی نہ سکیں۔ فقیر کی تمام ٹائیاں جس ہینگر میں لٹکی ہوتی ہیں ہر بار الماری کھلنے پر ان میں سے دو چار پھسل کر فراش ہوجاتی ہیں۔
ہم نے فلموں ڈراموں اور بند آواز والی گونگی فلموں میں فقط یہی دیکھا کہ ٹائی پکڑ کر آدمی یا عورت کو کھینچا اور گھسیٹا جا رہا ہے۔ ٹائی کا سب سے زیادہ فلمایا جانے والا منظر وہ ہے جب ایک حسین و جمیل ہیروئن ایک ادائے ناز اور کنایہ ء دلبرانہ سے ہیرو کی ٹائی پکڑ کر اسے کھینچتی ہوئی زینے چڑھتی جاتی ہے اور اوپر کی منزل میں خراماں خراماں چل دیتی ہے۔ آپ سب نے دیکھا ہو گا۔ میں نے بھی دیکھا ہے بلکہ اسے اتفاق سمجھ لیجیے کہ آج تک جتنی فلمیں دیکھیں چند ایک کو چھوڑ کر ہر دوسری فلم میں یہ منظر موجود رہا۔
ہمارے سماج میں صنف نازک کے ٹائی پہننے کا رواج موجود نہیں۔ اہل فرنگ کے ہاں البتہ خواتین پہنتی ہیں۔ زیادہ تر فقط ٹائی اور اونچی ایڑی کے ( پنسل ہیل) جوتے پہنتی ہیں۔ ہم نے کئی فلموں میں دیکھا کہ انہیں ان دو پہناووں سے اس قدر عشق ہے خواہ کیسا ہی سین ہو یہ ٹائی اور جوتے نہیں اتارتیں۔

