”من سب نبیا فاقتلوہ“ کے متعلق ڈاکٹر خالد ظہیر کا موقف


ڈاکٹر خالد ظہیر جو مشہور مذہبی سکالر ہیں ان کا اس حدیث کے متعلق جس کی بنیاد پر ایک ایسی فضا بنا دی گئی ہے کہ اس پر کوئی سیکنڈ تھاٹ یا رائے کو بلاسفیمی تصور کیا جاتا ہے کے بارے میں واضح موقف سامنے آیا ہے کہ یہ حدیث بالکل ضعیف ہے اور اس قسم کی حدیثوں کی کریڈیبلٹی مشکوک ہوتی ہے اس لیے جمہور علماء ایسی ضعیف حدیثوں کو حدیث کا درجہ نہیں دیتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قرآن کی روح سے بلاسفیمی کی کوئی سزا نہیں ہے کیونکہ قرآن کے مطابق ”جس نے ایک انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا“ ۔

اس خون ریزی کو کنٹرول کرنے کے ضمن میں ایک تجویز دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوسرے عرب مسلم ممالک کی طرح اگر ریاست مدارس کو اپنے کنٹرول میں لے لیتی تو شاید آج یہ تصویر نہیں بنتی چنانچہ آج مساجد و مدارس نجی ملکیت بن چکے ہیں اور جب مذہب و دین پرائیویٹائز ہو گا تو پھر فرقے بنیں گے اور اپنی اپنی تعلیمات کو عام کر کے روزی روٹی کا بندوبست بھی ہو گا اور آج کل جذباتیت کا جو جمعہ بازار لگا ہوا ہے وہ اسی ”پیٹ کے چکر“ کا شاخسانہ ہے۔

اب ہمیں ڈاکٹر خالد ظہیر کے موقف سے اتفاق ہے یا نہیں وہ ایک الگ بحث ہے مگر سوال یہ ہے کہ ان کے مطابق اس حدیث کے ضعیف ہونے کے جو شواہد ہیں اس پر علماء کی اکثریت کا اتفاق ہے تو وہ علماء کی اکثریت آج اس حدیث کو بنیاد بنا کر خونریزی اور سفاکیت کے یہ ظالمانہ مظاہرے دیکھ کر چپ سادھے کیوں بیٹھے ہیں؟ کیا ان کا یہ فرض نہیں بنتا کہ وہ اکٹھے ہو کر اس حدیث کے متعلق اپنا واضح موقف لوگوں کو بتا کر مزید انسانی جانوں کے نقصان سے اس معاشرے کو بچائیں؟

کیا اس وقت بولو گے جب انسان وحشی بن کر ایک دوسرے کو کاٹنے لگیں گے؟ اب تو سکول کی سطح پر بھی عربی ٹیچر اس حدیث کو بنیاد بنا کر ننھے منے ذہنوں میں نفرت بھرنے لگے ہیں کیا اس وقت سامنے آؤ گے جب یہ بچے بھی اسی بنیاد پر ایک دوسرے کی گردن کاٹنے لگیں گے؟ کیونکہ نفرت کسی چھوٹے بڑے کو نہیں دیکھتی یہ اسی گھٹی کے مطابق کام کرتی ہے جو بچپن میں ذہنوں کے اندر انڈیل دی جاتی ہے۔ اس عدم برداشت کا سب سے بڑا جو نقصان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اب کوئی بھی کھل کر کے مذہب کے اوپر بات نہیں کر سکتا، جو مذہب کو لوجیکل بنیادوں پر سمجھنا چاہتے ہیں وہ ڈر کے مارے سوال کر کے اپنے ڈاوٹ کلیئر نہیں کر سکتے کیونکہ سوال پوچھنے کا مطلب آج کل بلاسفیمی بن چکا ہے۔

تصور کریں ایسے معاشرے کا کہ جہاں پر راہنمائی کی اشد ضرورت ہو مگر اس معاشرے کی جینوئن انٹلیکچوئل کلاس عدم برداشت کی وجہ سے اتنی خوفزدہ ہو جائے کہ وہ رہنمائی سے گریزاں ہو کر خاموش رہنے پر ترجیح دینے لگے تو ایسے معاشروں کا کیا معیار ہو گا؟ ایسے معاشرے آہستہ آہستہ وحشی بن جاتے ہیں جہاں انسان درندے بن کر چھوٹی چھوٹی باتوں پر انسانوں کو کاٹنے لگتے ہیں۔ کسی مذہب، سوچ یا فلسفے کو ترویج دینے کے لیے اس پر کھل کر بات چیت کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے، کھل کر بات ہونے سے ہی ابہام، اشکال اور غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں مگر ہم نے ایک ایسا معاشرہ بنا دیا ہے کہ یہاں پر اپنے ابہام یا شک و شبے کا اظہار کرنے کا مطلب ”سر تن سے جدا“ بنتا ہے تو پھر ایسے معاشروں کا مقدر تباہی و بربادی کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا۔

معذرت کے ساتھ ہمارے علماء میں مذہب کے حوالہ سے کلیرٹی آف تھنکنگ نہیں ہے، اگر ہوتی تو ڈائیلاگ کا دروازہ کبھی بند نہ کرتے، ان کو آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ پر تشدد اور دھمکی آمیز رویے کسی بھی سوچ اور فلسفہ کی کمزور بنیادوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں جتنے مسلمان ہیں اس سے کئی گنا غیر مسلم دنیا میں پائے جاتے ہیں جب آپ ان تک اپنے مذہب کا پیغام پہنچائیں گے تو اس کے ردعمل میں آپ کو ان کے سخت اعتراضات بھی سننا پڑیں گے۔

اگر کسی کو دل سے اپنے مذہب میں داخل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ان کے سخت اعتراضات کا جواب لوجیکل بنیادوں پر دے کر قائل کرنا ہو گا۔ مگر آپ نے سر تن سے جدا والی رسم کو اتنا پروموٹ کر دیا ہے کہ اب دوسرے مذاہب کے لوگ بھی آپ کے اس وحشیانہ چہرے کو دیکھ کر قائل ہونا تو درکنار کبھی مسلم بننے کا سوچیں گے بھی نہیں۔ جہاں انسانی جان اتنی سستی ہو جائے کہ ایک سوال کی بنیاد پر بے دردی سے لے لی جائے تو کون آپ کی تعلیمات کو جانچے گا؟

آج کی مہذب دنیا میں اگر آپ کا یہ موقف ہو گا کہ جو بھی ہمارے مذہب کے متعلق کوئی بات کرے گا تو ہم اسے کاٹ ڈالیں گے تو پھر آپ اپنے مذہب کے راستے میں بڑی بڑی دیواریں کھڑی کرنے کا باعث بنیں گے اور کمیونیکیشن کا عمل رک جائے گا، تو پھر لگے رہنا اپنی اپنی بین اپنے اپنے انداز کے ساتھ بجانے میں، پھر دنیا کو آپ سے کوئی سروکار نہیں ہو گا۔ وہی معاشرے یا ملک پرامن یا مہذب بنتے ہیں جہاں تنوع، مختلف سوچ و افکار پنپتے اور ڈائیلاگ کا عمل جاری رہتا ہے اور وہ معاشرے صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں جہاں مختلف آوازوں کو تقدس کے نام پر دبایا جانے لگے۔

ایسے سڑانڈ زدہ معاشروں کی آج کی مہذب دنیا میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ خدارا مذہب کے تحفظ کے لیے اپنی جذبات بازی کی دکان کو اب بند کر دیں اور لوگوں میں بات چیت کے کلچر کو فروغ پانے دیں۔ لیکن ایسے معاشروں کا کیا کریں کہ جہاں پر عدم برداشت کی یہ سوچ ہمارے وزیر دفاع پرویز خٹک کے دماغ میں بھی اپنے پنجے گاڑ چکی ہو۔ سیالکوٹ والے واقعہ پر خٹک جی کا فرمانا ہے کہ ”ہم بھی جب چھوٹے ہوتے تھے تو بہت جذباتی ہوتے تھے“ اور ایسا گھناؤنا پن جذبات میں ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ساحل ندیم جیسے موٹیویشنل سپیکر اپنے لیکچرز میں ان پر تشدد رویوں کو جواز دیتے ہوئے پائے جائیں جنہیں اپنی انگریز زبانی کی وجہ سے یونیورسٹی کی سطح پر بھی بچوں کے ذہنوں میں زہر بھر نے کا موقع ملتا رہتا ہے تو پھر ایسے معاشروں میں کیا کلچر پروان چڑھے گا اس کا مشاہدہ ہم آج اکیسویں صدی میں اپنی آنکھوں سے کر رہے ہیں اگر یہی منظر نامہ رہا تو بونوں کے دیس میں بونے پیدا ہوتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS