عورت اور پاکستانی میڈیا!


ٹیکنالوجی میں دن بہ دن ترقی سے نہ صرف ہماری فزیکل دنیا میں تبدیلیاں آ رہی ہیں بلکہ رویوں اور سماجی اقدار میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ خاص طور پر اگر ہم میڈیا کی بات کریں تو ٹیکنالوجی سے ثقافت پر مرتب ہونے والے اثرات کو سمجھنے میں اور بھی آسانی ہوتی ہے۔ آج کسی دور دراز کے علاقے میں بیٹھی کوئی کم پڑھی لکھی خاتون بھی مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی صلاحیتوں میں نہ صرف اضافہ کر سکتی ہے بلکہ ان صلاحیتوں کو اپنی خودمختاری سے بھی جوڑ سکتی ہے۔

ہر ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی اپنی طرح کی خاص آرڈیننس ہے اور ہر پلیٹ فارم کے اپنے روشن اور تاریک پہلو ہیں۔

جب ہم پاکستانی میڈیا اور عورت کی بات کریں تو اس بحث کو کوئی ایک سیاہ یا سفید ٹیگ نہیں دیا جا سکتا۔ میڈیا (جس میں، الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا شامل ہیں ) نے جہاں آج کی عورت کی خودمختاری میں اہم کردار ادا کیا ہے وہیں ایسے بھی بہت سے پہلو ہیں جہاں پدرشاہی نظام میں عورت کو کمتر سمجھے جانے والے تصور کے مزید فروغ میں میڈیا نے کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی ڈرامے اور کئی سالوں میں چند ایک بننے والی فلمز کا کانٹینٹ اپنے اندر ایسے بہت سے نکات لیے ہوئے ہوتا ہے جس پر کوئی بھی منطقی سوچ رکھنے والا شخص ڈھیروں سوالیہ نشان لگا دے۔

ہر دوسرے ڈرامے میں عورت کو صرف روایتی کرداروں میں ہی دکھایا جاتا ہے اور اس کے مسائل میں گھر والوں بالخصوص سسرال والوں سے ان بن، شوہر کے افیئرز کی فکر، شوہر کی دوسری شادی اور اولاد نہ ہونے وغیرہ جیسے مسائل ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جیسے عورت کو انٹرٹینمنٹ کے نام پر کسی تنگ ڈبے میں بند کیا جا رہا ہو۔ ایسے ڈرامے بالخصوص گھریلو خواتین یا پھر کم عمر لڑکیاں دیکھتی ہیں جن کی نفسیات پر یہ کانٹینٹ برے نتائج مرتب کر سکتا ہے۔

کم عمر لڑکیاں بڑی سوچ رکھنے اور خود کو خودمختاری کی راہ پر چلانے کی بجائے گھریلو سیاست اور شوہر کو قابو میں رکھنے کے ٹوٹکے سیکھنے میں ہی الجھی رہ جاتی ہیں جبکہ ہماری گھریلو خواتین جو بہت سے کاموں سے تھک ہار کر جب انٹرٹینمنٹ کے نام پر ایسا کانٹینٹ دیکھتی ہیں تو ان کی تھکی جان پر ایسی زہریلی تفریح برے اثرات مرتب کرتی ہے۔

فلمز میں خواتین کو کم ہی مضبوط مرکزی کرداروں کے طور پر دکھایا جاتا ہے جن کی متاثر کن کہانیاں ہوں۔ بد قسمتی سے انھیں فقط فلمز کی مارکیٹنگ کے لئے بیچا جاتا ہے۔ ان کے لباس سے اور آئٹم نمبرز کروا کر عورت کے اس پدرشاہی نظام میں ایک انسان نہیں بلکہ بیچ دی جانی والی چیز کی حیثیت پختہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

میڈیا اور عورت کا ناتا یہی نہیں ہے۔ میڈیا نے سمیت میرے بہت سی عورتوں کو اچھے مواقع بھی فراہم کیے ہیں۔ میرے لیے فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کسی درسگاہ کی طرح ہیں۔ مجھے اپنی فیلڈ کے لوگوں سے جڑنے کے مواقع ملے اور میرے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا۔ میری دوستیں آن لائن کاروبار کرتی ہیں اور کچھ فری لانسنگ یوں میڈیا ہمیں با اعتماد اور خودمختار بننے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

میں سمجھتی ہوں کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہمیں بدلتے وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے چلنا سیکھنا ہو گا اور میڈیا جیسی ایک طاقتور چیز کو فائدہ مند طریقوں سے استعمال کرنا ہو گا۔ ڈیجیٹلائزیشن ہی مستقبل ہے اور یہ عورتوں کے معاشرے میں مقام اور اس کی تعمیر و ترقی میں کردار کی نئی سمتوں سے گہرا تعلق رکھتی ہے!

Facebook Comments HS