ماحولیاتی تبدیلیاں۔ بل گیٹس کا نقطۂ نظر

موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اس سال عالمی سطح پر منظر عام پر آنے والی چند مقبول ترین کتابوں میں مائکرو سافٹ کمپنی کے شریک بانی بل گیٹس کی کتاب ”How to Avoid a Climate Disaster“ ”The Solutions We Have and the Breakthroughs We Need بھی شامل ہے۔ یہ کتاب اس سال موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کافی زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں میں شامل ہے۔ عالمی میڈ یا پر اس کتاب کے حوالے سے کافی بحث ہوئی ہے اور کتاب پر تعریفی رائے کے ساتھ ساتھ عالمی اخبارات میں کچھ تنقیدی تبصرے بھی شایع ہوئے ہیں۔
لیکن ان تبصروں سے قطع نظر جدید سرمایہ دارانہ نظام کی ایک نمائندہ شخصیت کی حیثیت سے ماحولیاتی بحران اور اس کے حل کے سلسلے میں بل گیٹس کا موقف کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اور ان کی اس کاوش سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ ماحولیاتی بحران کا ادراک اب دنیا کی بڑی بڑی کارپوریشنز کے سربراہوں کو بھی ہونے لگا ہے۔
کتاب کے آغاز میں وہ اپنے پڑھنے والوں کو دو ہندسے جاننے کی تاکید کرتے ہیں ٬ کیونکہ آگے چل کر کتاب میں زیر بحث آنے والے موضوعات میں ان دو ہندسوں کا ذکر بار بار آتا ہے۔ پہلا ہندسہ 51 ارب جبکہ دوسرا ہندسہ زیرو ہے۔ مصنف کے مطابق اس وقت انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے گرین ہاؤس گیسز میں 51 ارب ٹن کا اضافہ ہو رہا ہے۔ جبکہ ہمارا ہدف ان گیسز کے اخراج میں اضافے کو زیرو تک لانا ہے۔ اس لئے مصنف کے خیال میں اس کتاب کے قاری کے لیے ان دو ہندسوں کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔
اس حوالے سے بل گیٹس لکھتے ہیں کہ آج سے بیس سال پہلے تک موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کتاب لکھنا تو درکنار وہ یہ بھی نہیں سوچ رہے تھے کہ ایک دن وہ اس موضوع کے حوالے سے عوامی سطح پر بات کر رہے ہوں گے ۔ لیکن جیسے جیسے غریب افریقی ملکوں کی توانائی کی ضروریات اور امیر ملکوں کی طرف سے گرین ہاؤس گیسز کے بے تحاشا اخراج کے حوالے سے مواد ان کی نظر سے گزرتا رہا ان کے ذہن میں اس مسئلے کی پیچیدگیوں کا احساس بڑھتا گیا۔
خاص طور پر 2006 میں توانائی اور موسمیاتی تبدیلیوں پر کام کرنے والے دو سائنسدانوں سے ملاقات کے بعد ان کے ذہن میں بڑی تبدیلی آئی اور موسمیاتی تبدیلیوں پر ان کی توجہ زیادہ سے زیادہ مرکوز ہو گئی۔ سالہا سال کے مطالعے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ متبادل توانائی کے ذرائع خاص طور پر شمسی اور ہوا کی توانائی کے ذرائع اس بحران کے حل میں بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس حوالے سے کوئی بڑی پیش قدمی نہیں کر پا رہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ صاف توانائی کی قیمت کم کر کے اسے عام کیا جائے تا کہ ان ذرائع تک سب کی رسائی کو ممکن بنایا جا سکے۔ خاص طور پر ان ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی میں جدت لانا اور سمارٹ گرڈ سسٹم تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ سب کچھ اس شعبے میں نئی ایجادات کے ذریعے ہی ممکن ہو سکے گا۔
وہ اب بھی اس بات کے متعرف ہیں کہ بڑے بڑے گھر٬ جیٹ جہاز اور دیگر پر تعیش چیزوں کے استعمال کی وجہ سے ان کے ذاتی کاربن فٹ پرنٹس بہت زیادہ ہیں اس لیے وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اپنے آپ کو بہتر مبلغ نہیں سمجھتے لیکن وہ اس موضوع کے حوالے سے اپنے آپ کو صاحب رائے ضرور سمجھتے ہیں اور وہ دیگر مسائل کی طرح ماحولیاتی بحران کے حل کے لیے بھی ٹیکنالوجی کے استعمال کو اہم سمجھتے ہیں۔
کتاب کے مختلف ابواب میں کاربن اخراج میں زیرو نیٹ کا ہدف حاصل کرنے میں حائل رکاوٹوں اور مواقع کو تفصیلی زیر بحث لایا گیا ہے۔ لیکن بحران کے حل کے لیے مصنف بنیادی طور پر تین چیزوں پر زور دیتے ہیں۔
1۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی مصیبت سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمیں نیٹ زیرو کا ہدف حاصل کرنا ہے۔
2۔ ہمیں جلد سے جلد سولر اور ونڈ انرجی جیسے متبادل ذرائع کا موثر انداز میں استعمال کرنا ہے
3۔ ہمیں جدید ٹیکنالوجی (جنہیں مصنف بریک تھرو ٹیکنالوجیز کام نام دیتے ہیں ) کی طرف بڑھنا ہو گا اور انہیں عام کرنا ہو گا۔ بریک تھرو ٹیکنالوجیز اس بحران کے حل کے لیے لمبا راستہ طے کرنے میں مدد دیں گی۔
لیکن نیٹ زیرو کا ہدف پتھر پہ لکیر کی طرح ہونا چاہیے کیونکہ جب تک ہم گرین ہاؤ س گیسز میں اضافہ کرنا بند نہیں کرتے درجہ حرارت بدستور بڑھتا رہے گا۔ لیکن اخراج میں صفر اضافے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ہمیں بجلی پیدا اور استعمال کرنے ٬ چیزیں بنانے ٬ فصل اگانے ٬ آمد و رفت اور اپنے گھروں ٬ آفسز کو گرم یا سرد رکھنے کے طور طریقے مکمل طور پر تبدیل کرنے ہوں گے ٬ سیمنٹ٬ پلاسٹک٬ شیشے کی پیداوار اور استعمال سے لے کر زراعت٬ زمین کے استعمال میں انقلابی تبدیلیاں لانی ہوں گی ۔
کتاب میں ان تمام شعبہ جات میں اس وقت موجود ٹیکنالوجی کے فعال انداز میں استعمال اور نئی ایجادات اور مستقبل میں نئی ٹیکنالوجی کی ضروریات پر بھی بات کی گئی ہے کیونکہ یہ سب تبدیل کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ فاسل فیولز کی ہی مثال لے لیجیے دنیا ہر روز 4 بلین گیلنز آئل استعمال کرتی ہے اب جب آپ کوئی چیز اتنی بڑی مقدار میں استعمال کر رہے ہیں تو اسے ایک دن میں ختم تو نہیں کر سکتے۔ اسی طرح توانائی کے شعبے میں ہر سال 5 ٹرلین ڈالرز کا بزنس ہوتا ہے اور یہ اس سیارے کا بڑا تجارتی شعبہ ہے اتنے بڑے حجم کے شعبے میں تبدیلی لانا آسان نہیں ہو گا۔ اور پھر ہمارا معاشرہ توانائی کے شعبے میں کسی قسم کا رسک لینے کے لیے آسانی سے تیار نہیں ہو گا کیونکہ ہم سب کو توانائی کے قابل اعتماد ذرائع ہر وقت درکار رہتے ہیں۔
اس تناظر میں نیٹ زیرو سے مصنف کا مطلب ہے کہ گرین ہاؤس گیسز کی اتنی ہی مقدار خارج ہو جتنی مقدار میں یہ گیسز فضا سے واپس جذب کرنے کی صلاحیت ہمارے نظام میں موجود ہو۔ اس لیے فضا سے کاربن واپس جذب کرنے اور اسٹور کرنے کے لیے فطری نظاموں کی ترقی اور ترویج کے لیے اقدامات کے ساتھ ساتھ نئی ٹیکنالوجی پر بھی کام کرنا ہو گا۔ اس سلسلے میں بل گیٹس فضا سے کاربن جذب کرنے کی ٹیکنالوجی ( ڈائریکٹ ائر کیپچر ) کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ گزشتہ ہفتے آئس لینڈ میں فضا سے کاربن جذب کرنے کے دنیا کے سب سے بڑے پلانٹ کا افتتاح ہوا ہے مجموعی طور پر اس طرح کے پندرہ کے قریب پلانٹس دنیا بھر میں کام کر رہے ہیں۔
مختصر طور پر بات کی جائے تو اس کتاب کے مطالعے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے مقابلہ ہماری تاریخ کا سب سے بڑا معرکہ ہے جس میں فتح حاصل کرنے کے سوا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں اور وقت بھی بہت کم ہے۔ یہ معرکہ سر کرنے کے لیے ہمیں سائنس اور انجینئرنگ کے شعبے میں بہت بڑی پیش قدمی کی ضرورت پڑے گی۔ ہمیں اس غیر معمولی بحران سے نبرد آزما ہونے کے لیے عالمی سطح پر غیر معمولی اتفاق رائے کی بھی ضرورت پڑے گی۔ کیونکہ ان تمام اقدامات کا سیاسی رخ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔
مجموعی طور پر بل گیٹس اس مسئلے کے حل کے حوالے سے سائنس اور متعلقہ شعبہ جات میں نئی ایجادات کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ جن کی مدد سے ہمیں اپنی زندگی اور معیشت کو بری طرح متاثر کیے بغیر توانائی کا نظام تبدیل کرنا ہے۔ اس سلسلے میں وہ غریب ملکوں کے بجلی سے محروم دور دراز علاقوں کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے پر بھی زور دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ غریب ملکوں کو اس بات پر تو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ موسمیاتی بحران کی وجہ سے وہ ہمیشہ کے لیے غریب ہی رہیں اس لیے مصنف امیر ملکوں کو پہل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہیں 2050 تک اخراج میں صفر اضافے کا ہدف ضرور حاصل کرنا چاہیے اس کے بعد درمیانے درجے کی معیشت رکھنے والے ممالک اور پھر غریب ملکوں کی باری آتی ہے۔ اس حوالے سے عالمی اداروں، حکومتوں، مقامی حکومتوں سے لے کر عام افراد تک سب نے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

