انتہا پسندی اور شدت پسندی کا چیلنج


انتہا پسندی، شدت پسندی اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی دہشت گردی سمیت پرتشدد سیاسی، سماجی اور مذہبی رجحانات ایک بڑا ریاستی چیلنج بنا ہوا ہے۔ کیونکہ انتہا پسندی پر مبنی مسائل سے جڑے واقعات نے ہمارا داخلی اور خارجی سطح پر مقدمہ کمزور کر کے رکھ دیا ہے۔ اگرچہ یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ دہشت گردی کے تناظر میں صورتحال ماضی سے کافی بہتر اور مختلف ہے مگر جو جنگ ہمیں فکری اور علمی بنیادوں پر ایک بڑے قومی بیانیہ کی سطح پر لڑنی ہے اس میں کافی مسائل اور تضادات نمایاں ہیں۔

سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ داخلی محاذ پر ہماری حکمت عملیوں یا عملدرآمد کے نظام میں بنیادی نوعیت کی خرابیاں ہیں۔ ایک عمومی رویہ ریاستی، حکومتی سطح پر یہ غالب رہتا ہے کہ ہم عالمی سطح پر موجود سازشوں کا شکار ہیں۔ یہ پورا سچ نہیں بلکہ آدھا سچ ہے اور تسلیم کرنا ہو گا کہ ہمارا آدھا سچ داخلی سطح سے جڑے مسائل ہیں اور ان کا حل بھی ہمیں ہی تلاش کرنا ہو گا۔

پاکستان نے انتہا پسندی، شدت پسندی سمیت دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر چار مختلف نوعیت کی پالیسیوں پر مبنی حکمت عملیاں ترتیب دی ہوئی ہیں۔ ان میں سانحہ اے پی ایس کے نتیجہ میں بننے والا بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان، فرقہ واریت کے خاتمہ کے لیے پیغام پاکستان کی دستاویز، عورتوں کی شمولیت کے لیے دختران پاکستان پروگرام اور قومی سیکورٹی پالیسی جیسے اہم منصوبے یا پالیسیاں شامل ہیں جن کی بنیاد پر اس جنگ سے نمٹا جا رہا ہے۔ لیکن ہمارا مسئلہ حل ہونے کی بجائے زیادہ گمبھیر اور پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے ہماری سیاسی اور عسکری قیادت سمیت اہم پالیسی ساز ادارے یا افراد انفرادی یا اجتماعی طور پر ان خطرات سے نمٹنے کے لیے مختلف نوعیت کی حکمت عملیوں کو ترتیب دیتے رہتے ہیں۔

لیکن ہمارا مسئلہ ان قومی حساس معاملات میں ایک ردعمل کی سیاست سے جڑا نظر آتا ہے۔ یعنی واقعات ہونے کی صورت میں ہمارا ردعمل بہت سخت ہوتا ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ ہمیں نہ صرف ان واقعات پر تشویش ہے بلکہ ہم واقعی ان معاملات سے نمٹنا چاہتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی واقعات کی شدت میں کمی ہوتی ہے تو ہم بھی خاموش ہو جاتے ہیں۔ ہمیں لانگ ٹرم، مڈٹرم اور شارٹ ٹرم پالیسی سے جڑی حکمت عملیوں کی سطح پر بدستور کافی مسائل کا سامنا ہے۔ اصل مسئلہ پالیسی بنانا، قانون سازی کرنا یا بیانیوں کی تشکیل کے مراحل نہیں ہوتے بلکہ ان پر عمل کرنا اہم ہوتا ہے۔ عملدرآمد کی بڑی ذمہ داری ریاستی اداروں اور حکومتی سیاسی کمٹمنٹ سے جڑی ہوتی ہے اور وہ ان اہم طے شدہ پالیسیوں نگرانی، شفافیت اور جوابدہی کے نظام کی مدد سے آگے بڑھتی ہے۔

بیانیہ کی جنگ یا علمی و فکری محاذ پر لوگوں میں مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کا عمل ریاستی یا حکومتی سطح پر کسی سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں ہوتا۔ یہ عمل اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے کہ جب ریاست اور حکومت خود بھی داخلی تضادات سے باہر نکلے اور دوسروں کو بھی اس بحران سے نکال کر ایک بڑی جنگ کو عملی بنیادوں پر لڑے۔ عمومی طور پر بیانیہ کی جنگ علمی و فکری محاذ پر ہی لڑی جا سکتی ہے اور اس میں ہمارے تعلیمی ادارے، مدارس سے جڑے استاد، محقق اور طالب علم ان محرکات کو پہلے سمجھیں اور پھر تجزیہ کر کے ایک متبادل حکمت عملی کا خاکہ قوم کے سامنے پیش کریں کہ ہم کو کیسے آگے بڑھنا ہے۔ فرقہ وارانہ اور سیاسی بنیادوں پر تقسیم کے عمل نے اس انتہا پسندی کے رجحانات میں کمی کی بجائے اضافہ کیا ہے اور اس میں ہماری سیاسی اور مذہبی قیادت بھی برابر کی ذمہ دار ہے۔

میڈیا کے محاذ پر جو جنگ ہمیں انتہا پسندی اور پرتشدد رجحانات کے خلاف لڑنی تھی اس کے لیے ہم ابھی تک کوئی جامع پالیسی کو ترتیب نہیں دے سکے۔ سوشل میڈیا کے محاذ پر موجود ہائبرڈ یا ففتھ جنریشن وار نے انتہا پسندی کی اور بگڑی شکلیں بنا ڈالی ہیں۔ نفرت انگیز مواد کی تشہیر، تعصب پر مبنی لٹریچر، فرقہ وارانہ اور لسانی معاملات کو ابھارنا، گالم گلوچ، تنقید کے مقابلے میں تضحیک اور عدم برداشت جیسے امور نے اس جنگ کو اور زیادہ مشکل بنا ڈالا ہے۔

وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین تسلسل کے ساتھ انتہا پسندی اور میڈیا کے معاملات کو ریگولیٹ کرنے کی جو جنگ لڑ رہے ہیں اس پر ان کو بدستور مسائل کا سامنا ہے۔ بدقسمتی سے میڈیا سے جڑے افراد یا تنظیمیں خود بھی ان معاملات پر اپنا داخلی محاسبہ کرنے اور خود سے کوئی متبادل کوڈ آف کنڈکٹ بنانے کے لیے تیار نہیں۔ فواد حسین چوہدری حکمران طبقہ میں ان لوگوں میں سے ہیں جو عملی طور پر انتہا پسندی کے خلاف ایک مضبوط آواز سمجھے جاتے ہیں۔

ان کے بقول اگر اس مسئلہ کو ریاستی سطح پر سب فریقین نے مل کر کوئی مستقل علاج تلاش نہ کیا تو یہ مرض پورے ریاستی نظام کو بگاڑ کے رکھ دے گا۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اس اہم اور حساس معاملات پر ریاستی یا حکومتی سمیت معاشرے کے دیگر طبقات میں ایک بڑی تقسیم پائی جاتی ہے۔ یہ تقسیم اگر مگر کے ساتھ بلاوجہ انتہا پسندی کو ایک جواز فراہم کرتی ہے جو کہ مسئلہ کے حل کی بجائے اور زیادہ مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔

انتہا پسند عناصر کے بارے میں سیاسی سمجھوتوں کی کہانی نے بلاوجہ ان عناصر کو سیاسی طاقت فراہم کی ہے اور وہ بغیر کسی ڈر اور خوف کے ریاستی نظام اور اس کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔ انتہا پسند عناصر کا قومی دھارے میں آنا درست مگر اہم سوال یہ ہے کہ وہ اس قومی دھارے میں کن کی شرائط پر آنا چاہتے ہیں۔ یعنی شرائط ریاست، آئین اور قانون کی ہوگی یا ان انتہا پسند عناصر کی اس فرق کو سمجھے بغیر اس مسئلہ کا حل مستقل طور پر نہیں نکل سکے گا۔

اسی طرح انتہا پسندی کا مقابلہ کا ایک چیلنج قانون کی حکمرانی سے جڑا ہوا ہے۔ قانون کی حکمرانی اسی صورت میں ممکن ہوتی ہے جب ریاستی سطح پر افراد کے مقابلے میں اداروں اور قانون کی حکمرانی ہو۔ ہمیں اس وقت ریاستی محاذ پر ایک بڑا چیلنج ادارہ جاتی عمل میں اصلاحات کی صورت میں موجود ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں جو اداروں سمیت سیاست کے اندر ایک بڑا مافیا کا گٹھ جوڑ ہے وہ حکومتی اور ریاست کے مقابلے میں نہ صرف طاقت ور ہے بلکہ اصلاحات میں بڑی رکاوٹ بھی پیدا کرتے ہیں۔

ریاستی اور حکومتی سطح پر اہم کام انتہا پسندی کی جنگ میں قوم کو یکجا کرنا ہے۔ لیکن اس کے لیے جو ریاستی و حکومتی سطح پر جھول ہے اس کو دور کر کے ہی قوم کو یکجا کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح جو بھی ریاستی نظام اور اس کی رٹ کو چیلنج کرتا ہے یا جتھوں کی بنیاد پر طاقت کے استعمال سے اپنی مرضی یا اپنا فیصلہ لوگوں پر مسلط کرتا ہے یا تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے اس کے خلاف ہر طرح کے سمجھوتوں کی سیاست کا خاتمہ کرنا ہو گا اور اس تاثر کی نفی کرنا ہوگی کہ ان عناصر کو ریاست یا حکومت میں کہیں نہ کہیں سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔

اس میں حکومت کو خاص طور پر نوجوان نسل چاہے وہ پڑھی لکھی ہو یا ناخواندہ ہو، رسمی تعلیم میں ہوں یا مدارس سے جڑی تعلیم یا شہروں میں ہو یا دیہات میں بشمول لڑکیوں کو امن کی جنگ میں ایک بڑے سفیر کے طور پر استعمال کرنا ہو گا اور ان کو ترغیب دینی ہوگی کہ وہ سوشل میڈیا کی مدد سے کیسے اس بیانیہ کی جنگ میں ذمہ داری کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جو کھیل نفرت کا سوشل میڈیا پر جاری ہے اس کے متبادل بیانیہ میں نوجوان ہی کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس عمل میں محض تقریروں کی بجائے عملی سرگرمیاں ترتیب دینی ہوں گی ۔ خاص طور پر نوجوانوں کی صحت مندانہ سرگرمیاں، کھیل اور مثبت تعمیری کام کو بنیاد بنا کر نوجوانوں کو امن کی جنگ میں حصہ بنا کر ہم عملی طور پر بیانیہ کی جنگ جیت سکتے ہیں۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ ہم پہلے سے موجود پالیسیوں میں موجود خامیوں کا تجزیہ کر کے اپنی خامیوں کو تسلیم کریں۔ کیونکہ ہماری سیاسی قیادت کو اس جنگ کی قیادت کرنی ہے اور جو غیر معمولی حالات ہیں ان میں غیر معمولی اقدامات کے ساتھ آگے بڑھ کر قومی ذمہ داری کا حق ادا کرنا چاہیے۔

Facebook Comments HS