سندھ میں ووٹ کی سائنس کا سادہ فارمولا اور زرداری ماڈل کا تجربہ!
یوں تو پاکستان بھر کی پارلیمانی سیاست میں، نظریاتی وابستگی، پارٹی منشور، عوامی ایشوز، حکومتی کارکردگی اور سیاسی نمائندوں کے کردار کی کوئی خاص اہمیت نہیں مگر سندھ میں یہ رجحان نسبتا زیادہ شدت کے ساتھ موجود ہے۔
سوشل میڈیا اور جدید معاشرتی رجحانات کے باعث، جاگیرداری اور سرداری نظام میں اگرچہ روایتی دم خم موجود نہیں رہا، تاہم ان کے باقیات تاحال موجود ہیں، جو کہ کسی نہ کسی طریقے سے ووٹروں پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔
یوں بھی جس کے پاس سرمایہ ہو یا وہ طویل عرصے تک اقتدار سے وابستہ رہے، تھانیدار سے پٹواری تک عوامی معاملات پر اثر ڈالے، وہ شخص ووٹروں پر اثرانداز ضرور ہوتا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ سیاسی کلچر میں، کسی اہل اور ہردلعزیز امیدوار کے مقابلے میں کسی دبنگ سردار کا بد اعمال بیٹا بھی زیادہ ووٹ حاصل کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت، نظریاتی وابستگی اور سیاسی بصیرت کے بجائے، الیکٹیبلز کو ترجیح دیتی ہیں۔
عام انتخابات کے وقت، سیاسی ہواوٴں کا رخ بھی عوامی رجحانات اور سماجی رویوں پراثر انداز ہوتا ہے۔ ماضی کے انتخابی نتائج کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ جس جس پارٹی کی حکومت، جبری طور پر برخاست ہوئی، اگلے انتخابات میں وہ پارٹی برسر اقتدار نہیں آ سکی۔ جس جس پارٹی کے متعلق میڈیا اور عام حلقوں میں یہ تاثر پایا گیا ہے کہ یہی پارٹی اگلی حکومت بنانے جا رہی ہے، اسے انتخابی فوائد نسبتا زیادہ حاصل ہوئے ہیں۔ اسی طرح صوبائی سطح پر مضبوط پارٹی تاثر بھی ووٹر پر اثر انداز ہوتا ہے، کیونکہ عوامی معاملات سے جڑے اکثر معاملات، صوبائی اختیارات کا حصہ ہیں۔
شہری علاقوں میں روڈ نالوں کی تعمیر، پانی کی ترسیل اور صفائی ستھرائی کے معاملات اولین ترجیح ہوتے ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں تھانیدار اور پٹواری سے لے کر سفارشی بھرتیوں تک بہت سارے معاملات عوامی اولیت بنتے ہیں۔ چنانچہ عوام یہ بھی دیکھتا ہے کہ کس امیدوار اور پارٹی کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں، جسے نہ فقط ووٹ دیا جائے بلکہ کمیونٹی میٹنگز سے لے کر لوکل تقریبات تک، اس امیدوار کی بہتر آوٴ بھگت کی جائے، تاکہ الیکشن کے بعد اقتداری مراعات لینے میں آسانی رہے۔
سندھ میں تو ہاری ہوئی جماعت/امیدوار کے ووٹرز کو بطور سزا، حکومتی عرصے میں نہ صرف ترقیاتی اسکیموں سے محروم رکھا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات ان پر پرچہ کٹوانے اور دیگر انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔ ان تمام عوامل کے ہوتے ہوئے، اس امیدوار کو کون ووٹ دینے کے لیے رضامند ہو گا، جس کے حکومتی سسٹم میں فٹ ہونے کے امکانات معدوم ہوں؟
سندھ میں موجودہ وقت میں، روحانی عقیدت یا پارٹی بنیاد پر مشتمل ووٹ بینک کے علاوہ اگر کسی سیاسی شخصیت کے ذاتی ووٹ بینک کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو، اس کا پس منظر بھی یہی ہو گا کہ وہ خود یا اس کے خاندان کی کوئی شخصیت ماضی میں، کسی نہ کسی طرح اقتدار سے وابستہ رہی ہوگی۔ جوں جوں غیر اقتداری عرصہ طویل ہوتا ہے، ووٹ بینک بھی بتدریج کم ہوتا ہے۔
ان حقائق کی روشنی میں یہ امر واضح ہوتا ہے کہ عوام میں سیاسی طور پر زندہ رہنے کے لیے، اقتداری سہارا بے حد ضروری ہے۔ کوئی غیر معروف شخص بھی اگر طویل عرصے تک با اثر سیاسی پوزیشن پر رہے تو وہ اپنا سیاسی اثر و رسوخ ضرور بڑھاتا ہے۔ کیونکہ اقتداری چمک دھمک اور مراعات کی کشش سے ووٹ بینک میں اضافہ ناگزیر ہے۔
اپوزیشن کے باوجود نون لیگ اور پی پی کی موجودہ سیاسی پوزیشن میں استحکام کا عنصر بھی اس حقیقت کا غماز ہے کہ دونوں جماعتیں طویل عرصے تک وفاقی یا صوبائی سطح پر، برسر اقتدار رہیں ہیں۔ وزراء، مشیر، ایم این ایز، ایم پی ایز اور ناظمین بلکہ کاوٴنسلرز تک پارٹی سے وابستہ ہر با اثر فرد نے کچھ نہ کچھ اقتداری ڈلیورنگ سے اپنا حلقہ پیدا کیا ہو گا۔ یوں قطرہ قطرہ سمندر کی مانند وسیع تر ووٹ بینک کو، غیر اقتداری دنوں کی سختیاں بھی جلد ختم نہیں کر سکتیں، کیونکہ مراعات یافتہ طبقا اس امید میں بھی پارٹی سے چپکا رہتا ہے کہ اتنی بڑی پارٹی ہے، کبھی تو اقتدار ملنا ہی ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں پارلیمانی سیاست کے لیے اقتدار کا حصول لازمی ہے۔ اگر آپ طویل عرصے تک اقتدار سے باہر ہیں تو آپ کا ووٹ بینک کم ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ ہی عوامی نفسیات ہے، جس نے کئی نظریاتی اور آدرشی سیاست کاروں کے پارلیمانی راستے روک رکھے ہیں۔ کرپشن کلچر، غیر جمہوری طرز حکمرانی اور طاقتور طبقے کی بالادستی نے ایک ایسا ماحول پروان چڑھایا ہے، جس نے عام طور پر، عام آدمی کو سیاست سے دور دھکیل دیا ہے۔
ہمارے ہاں عام طور پر الیکٹیبل کے معیار کو دیکھا جائے تو وہ شخص انتظامی طاقت، سماجی دبدبہ اور سرمائے سے مالامال ہونا لازمی ہے۔ افسرشاہی سے لے کر نچلی سطح کے وڈیروں /با اثروں تک، اس شخص کے احکامات کو ٹالنا مشکل ہو۔ وہ نہ فقط اقتداری مراعات کی لالچ میں گاوٴں اور محلوں میں اثر انگیز افراد کو ساتھ ملا سکے بلکہ الیکشن مہم کے دوران کیمپ آفسز کے اخراجات اور با اثر لوگوں کا خرچہ برداشت کرنے کی استعداد بھی رکھتا ہو۔ مزید براں الیکشن والے دن زیادہ سے زیادہ ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن تک پہنچانے کے لیے مطلوبہ اہتمام اور خرچ بھی کر سکے۔
جس طرح ایک امیدوار الیکٹیبل کی اہلیت رکھتا ہے، اسی طرح کوئی پارٹی بھی ووٹ کی سائنس پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سب سے پہلے تو یہ پہلو اثر انداز ہوتا ہے کہ میڈیا پر کسی پارٹی کے متعلق کیا ٹرینڈ چل رہا ہے؟ طاقتور اداروں سے اس پارٹی کے تعلقات کیسے ہیں؟ کون سی پارٹی کی قیادت احتساب کے اداروں کی ریڈار پر ہے؟ کہ ان پکڑ دھکڑ ہو رہی ہے اور کس پارٹی کی ہوا چل رہی ہے؟ وفاقی اور صوبائی سیٹ اپ میں کس پارٹی کا حصہ کیا ہو سکتا ہے؟
ان تمام نکات کے علاوہ الیکشن والے دن انتظامی عملہ بھی نتائج پر اثر انداز ہونے کی ”انتظامی حرفت“ کر سکتا ہے۔ جس جس پارٹی نے زیادہ سیاسی بھرتیاں کی ہوں گی اور انتظامیہ کو اپنے وفادار سیاسی کارکنوں سے بھر دیا ہو گا وہ ملازمین خود اپنے ملازمانہ مفادات اور اپنے رشتے داروں کے سیاسی مفادات کے لیے بہت کچھ کرنے کی رسک لے سکتے ہیں۔ ووٹ کی سائنس کا یہ سادہ فارمولا سب سے پہلے پیپلز پارٹی نے سمجھا تھا اور زرداری نے رورل سندھ میں اس کا اثر انگیز تجربہ بھی کر دکھایا ہے۔
مذکورہ بالا معیارات کی روشنی میں، اگر دیکھا جائے تو متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا ایک عام آدمی کبھی بھی معاشی، معاشرتی اور سیاسی طور پر الیکٹیبل بن نہیں پائے گا۔ کوئی نظر کرم ہو جائے تو اور بات ہے ورنہ کوئی پارٹی اسے ٹکٹ نہیں دے گی۔ یوں ہماری سیاست نظریاتی، علمی اور باکردار لوگوں کے لیے نو گو ایریا ہے اور رہے گی۔

