دلیپ صاحب! ہم آپ کو نہیں بھولے۔۔۔


یونانی دیو مالا میں زیوس سب سے بڑا اور طاقت ور دیوتا تھا۔ وہ جو چاہتا کر سکتا تھا۔ وہ بہادر اور تمام دیوتاؤں کا خدا تھا۔ کوئی بھی دانش میں اس کا ہم سر نہیں تھا۔ وہ انسانوں پر حکمرانی کرنے والے دیوتاؤں پر بھی راج کرتا تھا۔ یونانیوں نے زیوس کے بڑے بڑے مجسمے بنا رکھے تھے۔ زیوس زمین سے آسمان تک مالک و مختار تھا۔

دلیپ کمار کو اگر ہندی سنیما کا زیوس کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ کتنا بھرپور، کتنا سرشار اور کتنا خوب صورت ہے یہ احساس اور ادراک کہ ہمارا عہد دلیپ صاحب کا زمانہ قرار پاتا ہے۔ دلیپ کمار نے جو کردار بھی نبھایا خوب نبھایا۔ وہ ہندی سنیما کی بنیاد اور شروعات تھے۔ وہ اپنی اداکاری سے جو معجزہ چاہتے رونما کر دیتے۔ انہوں نے وہ کردار پیش کیے جن کی بنیاد پر آگے چل کر ہندی سنیما نے سانس لینا سیکھا۔ جونیئر اداکار ان کی اداکاری سے سیکھ کر فلموں میں کام کرتے تھے۔ امیتابھ بچن نے ایک دفعہ کہا تھا کہ جب انہیں پتہ چلا کہ "شکتی” فلم میں ان کے مقابلے میں دلیپ کمار ہیں تو ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی۔

بلاشبہ دلیپ صاحب ہندی سنیما کے سرتاج تھے۔ اداکار تو وہ ہوتے ہیں جو عام لوگوں پر راج کرتے ہیں مگر دلیپ کمار وہ لیجنڈ تھے جنہوں نے عوام تو عوام اپنے بعد آنے والی اداکاروں کی ایک نسل پر بھی راج کیا۔ وہ ہندی سنیما کا وہ حصہ ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
دلیپ صاحب نے کئی نسلوں اور کروڑوں انسانوں کو اپنی اداکاری سے لبریز کیا اور ایک ملائمت، سُرور اور درد کی لذت کے شعور سے مالا مال کیا۔ ان کی شخصیت اداکاری سے کہیں بلند، خوب صورتی اور جستجو کی ایک ایسی دھارا تھی جو بے انت اور امر رہتی ہے۔

جبر کے موسموں اور بدصورتی سے لتھڑے نظام میں دلیپ صاحب کی یاد ہمارے لیے امیدوں، خوابوں اور خوب صورتیوں کا اثاثہ بھی ہے اور وہ وسیلہ بھی کہ جو زندگی کو زندگی کے معانی عطا کرتا ہے۔

Facebook Comments HS