وقت اور سیاست کی ستم ظریفی
مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد میاں محمد شہباز شریف نے سابق صدر آصف علی زرداری کے نواز شریف سے متعلق بیان کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ جمعرات کو میاں شہباز شریف شریف نے ٹویٹر پر جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ ”زرداری صاحب کا میاں نواز شریف کے بارے میں بیان افسوسناک ہے۔ میاں صاحب کی پاکستان سے کمٹمنٹ کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔“ میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آصف زرداری جانتے ہیں نواز شریف کو کن حالات میں ملک سے باہر جانا پڑا۔ ”ہمیں اس قسم کے بیانات سے گریز کرتے ہوئے ملک کے وسیع تر مفاد میں مل کر کام کرنا چاہیے۔“
خیال رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سربراہ آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ وہ اپنے ان سیاسی مخالفین سے ہر جگہ لڑیں گے جو پاکستان مخالف ہیں۔ رواں ہفتے کے آغاز پر لاہور میں پارٹی کی ایک تقریب سے خطاب میں سابق صدر نے نواز شریف کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کی۔ آصف زرداری نے کہا تھا کہ ”ہم ان سے لڑیں گے۔ یہ پاکستان کے خلاف ہیں جو اس دھرتی میں نہیں مرنا چاہتا اس کا یہاں کیا ہے؟ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جیلیں کاٹی ہیں۔ پاکستان میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں بھٹو صاحب نہ بستے ہوں۔ بے نظیر کی بات ہی اور ہے۔“
ان کا کہنا تھا کہ ”دنیا پاکستان کو توڑنا چاہتی ہے مگر ہم بچائیں گے۔ 1977 کے بعد میاں صاحب حلقے ذات برادری کی بنیاد پر بناتے رہے۔ ہم پورے پنجاب میں ہر حلقہ تبدیل کریں گے کیونکہ نون لیگ والے ہماری دھرتی کے خلاف ہیں، جو دھرتی میں نہیں مرنا چاہتا اس کے پاس کیا ہے۔“
سابق صدر کے مطابق، ”پنجاب میں ہماری کمزوریاں ہمارے آگے آتی ہیں۔ دنیا پاکستان کو توڑنا چاہتی ہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ پورے پنجاب میں ہر جگہ ہر محلے میں ہم ان سے لڑیں گے یہ پاکستان کے خلاف ہیں۔“
میاں شہباز شریف کے مطابق اس بیان میں آصف زرداری کا اشارہ مسلم لیگ نون کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی طرف تھا جو کہ اس وقت لندن میں اقامت پذیر ہیں۔ سابق وزیراعظم عدالت سے ضمانت حاصل کرنے کے بعد علاج کے سلسلے میں برطانیہ گئے تھے۔ 2018 کے عام انتخابات سے چند ہفتے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف کو تین میں سے دو مقدمات میں قید اور جرمانے کی سزائیں ہوئیں۔ ایک مقدمے میں نواز شریف کے ساتھ ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو بھی قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی گئیں جن پر عملدرآمد کو ہائیکورٹ نے اپیل میں معطل کر رکھا ہے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اسی سلسلے میں اس رانا شمیم کی بیان حلفی اور سابقہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار کے آڈیو لیک پر بھی بڑی لے دے ہو رہی ہے کہ میاں صاحب کو کچھ طاقتور حلقوں کے اشارے پر زیرعتاب لایا گیا ہے۔
اس موقعے پر ہمیں وقت، سیاست یا پھر آصف زرداری کی اس ستم ظریفی پر ہنسی آ رہی ہے کہ ایک وقت تھا عام طور پر پنجاب کے چھوٹے بڑے سیاستدان اور رہنما اور دانشور و صحافیوں کا مشغلہ ہی یہی تھا کہ چھوٹے صوبوں کے رہنماؤں پر اس قسم کے غداری، وطن دشمنی اور اسلام دشمنی کے الزامات عائد کیا کرتے پھریں، اور اب ایک چھوٹے صوبے کا ، پاکستان کا بڑا لیڈر پاکستان کے بڑے صوبے کے بڑے لیڈر پر اس قسم کے الزامات کی بوچھاڑ کر رہا ہے۔ تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ نہ صرف وہ حضرات غلط تھے جو اس سے قبل چھوٹے صوبوں کے رہنماؤں پر اس قسم کے الزامات عائد کرتے رہے تھے بلکہ آصف زرداری کا اس قسم کا الزام بھی ایک ختم ہوتی ہوئی خارج المدت اور فرسودہ روایت کے احیا کی کوشش کہلا سکتا ہے۔
تاریخ اور سیاست کی معمولی سی شدبد رکھنے والے جانتے ہیں کہ شہید بھٹو سمیت پاکستان کے کئی رہنماؤں خاص طور پر قوم پرست رہنماؤں کو غدار کہا گیا لیکن عام طور پر کسی پر بھی اس جرم پر کوئی باقاعدہ مقدمہ نہیں چلایا جا سکا۔ جی ایم سید جیسے بزرگ رہنما تو نظربندی کی حالت میں انتقال کر گئے لیکن غداری، اسلام دشمنی کے مسلسل اور مستقل الزامات کے باوجود ان پر مقدمہ نہیں چلایا گیا، جب کہ انھوں نے اپنا عدالتی بیان ایک سندھی کتاب کی صورت میں بہ عنوان ”سندھ بولتا ہے“ بھی ورثے میں چھوڑا ہے۔ اس کتاب میں سندھ کی سیاسی تاریخ اور سندھ پر جبر و ستم اور ستم ظریفیوں کا ہی تذکرہ ہے۔
ہمارے خیال میں جس کسی پر غداری کا الزام لگایا جائے تو پھر اس پر سب سے پہلے مقدمہ اسی سلسلے میں چلایا جائے۔ کسی پر غداری کے الزام کے باوجود کسی اور الزام پر مقدمہ چلانا یوں ہی ہے جیسا کہ کسی پر قتل کا الزام عائد کر کے اس پر جیب کاٹنے کا مقدمہ چلا دیا جائے۔ جب کہ درحقیقت غداری کا الزام قتل سے بڑا الزام ہے۔ پاکستان کے ایک منتخب وزیراعظم کو بھی غداری کے ”غیرسرکاری الزامات“ کے باوجود قتل کے الزامات کے تحت پھانسی دینا کن مصلحتوں کے سبب تھا آج ہر کوئی سمجھتا ہے۔
ہم میاں صاحب کی اس بات سے متفق ہیں کہ آصف زرداری جانتے ہیں نواز شریف کو کن حالات میں ملک سے باہر جانا پڑا۔ انہیں اس قسم کے بیانات سے گریز کرتے ہوئے ملک کے وسیع تر مفاد میں مل کر کام کرنا چاہیے۔
اگرچہ ہم میاں صاحب کے خودساختہ جلاوطنی کے فیصلے کے حامی نہیں ہیں لیکن زرداری صاحب کو بھی یاد دلا دیں کہ ہر کوئی ان کی طرح کا سیاسی مزاج نہیں رکھتا۔ اور ہر ایک کی اپنی اپنی سیاست اور سیاسی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ ایک وقت تھا کہ نہ صرف شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے دونوں شہید بھائی کچھ اسی قسم کی صورتحال میں جلاوطن رہے بلکہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت بھی ملک سے باہر چلی گئی تھی۔
غداری، پاکستان اور اسلام دشمنی کے الزامات کی حد تو یہ ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو وزارت عظمیٰ ملنے کے بعد بھی مقتدر طبقے کا ایک حصہ سیکیورٹی رسک قرار دیتا رہا تھا۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ غداری اور پاکستان توڑنے کے الزامات کا سلسلہ اب بند ہو جانا چاہیے، کیوں کہ دنیا تو اپنے مسائل میں الجھی ہوئی ہے اور وہ خوب سمجھتی ہے کہ پاکستانیوں کو کسی دشمن کی ضرورت ہی نہیں۔ کہ تہذیبیں کہ لیں یا پھر قومیں کہ لیں ان کو قتل نہیں کیا جا سکتا یہ تو بس خودکشی ہی کرتی ہیں۔
تاہم اس قسم کے فتوے جاری کرتے ہوئے یہ خیال رکھا جانا چاہیے کہ وقت ایک سا نہیں رہتا۔ کبھی کبھار اصلی اور بڑے پاکستانی رہنماؤں کو بھی ”جاگ پنجابی جاگ“ جیسا نعرہ لگانا پڑ جاتا ہے۔ اور ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگانے والوں کو اپنی تہذیب اور ثقافت کی بقا کے لیے ثقافتی اور قومی تہوار منانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔


