قوم بے سکون ہے
سانحہ سیالکوٹ نے ہر ذی شعور کو ایک بار پھر احساس دلوایا کہ معاشرہ کسی سلگتے آتش فشاں کی مانند بن چکا ہے جس کے دہانے سے ابلتا لاوا بے گناہوں کو جھلسا رہا ہے۔ ایک بے گناہ، لاعلم شخص جس نے شاید تصور میں بھی مقدس ہستیوں کی توہین بارے نہ سوچا ہو اسے بیچ چوراہے نذر آتش کر دیا جائے اور پھر اس کے گرد موت کا رقص ہو ’ایسا کسی تہذیب یافتہ سماج میں نہیں ہوتا۔ چشم تصور میں اپنے کسی عزیز کو رکھیں اور سوچیں کہ یہ سانحہ اگر اس کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو اس وقت آپ کس کرب میں مبتلا ہوتے۔
اس کا اظہار لفظوں میں بیاں کرنا ممکن نہیں۔ سیالکوٹ میں فقط ایک انسان نہیں جلا بلکہ اس آگ کی لپیٹ میں انسانیت بھی آئی۔ تماش بین قوم کے لئے یہ کسی تماشے سے کم نہیں تھا۔ وہ دیکھتے رہے، نعرے لگاتے رہے، تصاویر بناتے رہے اور پھر منہ موڑ کر چل دیے۔ ما سوائے دو انسانوں کے جنہوں نے ہاتھ جوڑے، منتیں کیں اور جان بخشی کی صدائی لگائیں لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اچانک رونما ہوا یا ہمیں اس نہج تک پہنچنے میں زمانے لگ گئے۔
دل یہ ماننے کو ہرگز تیار نہیں کہ سیالکوٹ میں پریانتھا کمارا کو آگ کا ایندھن بنانے کا عمل توہین رسالت مآب ﷺ پر ردعمل تھا۔ ناں ہی اسے مذہبی جنونیوں کی جذباتیت اور نوجوانوں کا جوش قرار دے کر اس سے آنکھیں موندی جا سکتی ہیں۔ حادثے اور سانحے یوں اچانک نہیں ہو جاتے۔ وقت سالہا سال ان واقعات، سانحات اور حادثات کی پرورش کرتا ہے اور پھر ایک نہ ایک دن ظلم کی کوکھ سے ان کا جنم ہوتا ہے۔
افسوس ہوتا ہے کہ ریاستی سطح پر ایسے واقعات کے بعد روٹین کی بیان بازی اور مذمتی پیغامات سے بات آگے نہیں بڑھتی۔ مرنے والا کوئی ہائی پروفائل یا غیر ملکی ہو تو تھوڑی بہت پھرتیاں دکھائی جاتی ہیں لیکن پھر راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اب ریاست ارباب دانش کے ذریعے وہ وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کرے جس نے سماج کو ہیجان میں مبتلا کر دیا ہے اور ان کا ہر ردعمل شدید تر اور انتہا پسندی لیے ہوتا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، معاشرتی ناہمواری، سماجی و طبقاتی فرق، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، آگے بڑھنے کے لئے سازگار ماحول کی عدم دستیابی، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی انسانی سہولیات کا فقدان، جا بجا گندگی اور لوڈ شیڈنگ سے ستائی عوام کہ جس کی رگوں میں خون کے ساتھ ساتھ ذہنی نا آسودگی کا پارہ بھی دوڑ رہا ہے کو ہم کیسے پرسکون کر سکتے ہیں۔
ان سوالوں پر مباحثے اور مکالمے ہونے چاہئیں۔ ٹی وی چینلز کی خصوصی نشریات ہونی چاہئیں۔ زیادہ معلوم نہیں لیکن جن ترقی یافتہ ممالک کے بارے پڑھا ہے وہاں عوامی اذہان کو پرسکون و تخیل پسند بنانے کے لئے ذراءع ابلاغ پر ایسا مواد نشر یا شائع کیا جاتا ہے جن سے عوام حد سے زیادہ پرجوش، منفی سوچ کی حامل، ہیجان میں مبتلا نہ ہو۔ جب کہہ ہمارے ہاں صورتحال یکسر مختلف ہے۔ میڈیا کی تو خیر اپنی مجبوریاں ہیں کہ وہ ٹی آر پی اور ریٹنگ کے چکروں میں عوامی ضروریات کے برعکس پروگرامز نشر کرتے ہیں تاہم حکومتی سطح پر بھی ایسے غیر ملکی ڈراموں کو دیکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے جس میں فکری، مذہبی اختلاف کی صورت میں سر قلم کرنا عام ہو اور جہاں مکالمے سے زیادہ تلوار چلتی ہو۔
شاید احباب دانش مند درست کہتے ہیں کہ محکوم طبقہ طاقتور کی مجبوری رہا ہے۔ اس کا وجود انہی کے دم سے ہے۔ چنانچہ وہ محکوم طبقے کو پرسکون نہیں ہونے دیتے۔ کیونکہ آسودہ ذہن کا حامل شخص سوچنے سمجھنے کی صلاحیت حاصل کر بیٹھا تو اپنے پاؤں میں پڑی محکومیت کی زنجیر توڑ ڈالے گا اور آزادی حاصل کر کے طاقتور کا سر کچل ڈالے گا۔
ایسے اندوہناک واقعات مہذب معاشروں کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔ ایسا کچھ وہاں ہوتا تو باشعور طبقہ اکٹھا ہوتا اور سماج کی تشکیل نو پر مجبور ہو جاتا۔ لیکن کیا ستم ہے کہ ہم بحیثیت قوم ان کی وجوہات تلاشنے کے بھی روا نہیں ہیں۔ چہ جائیکہ ان کے سدباب کے لئے کچھ کیا جا سکے۔ معدودے چند زیادہ تر پاکستانیوں نے حسب معمول اس واقعے کو وقتی ردعمل دے کر ہاتھ جھاڑ لئے۔ جبکہ جن چارہ گروں سے ہمیں دوا کی توقع تھی وہ بھی زخموں پہ برف کی ڈلی رکھ دیتے ہیں جس سے وقتی طور پر خون رسنا تو بند ہو جاتا ہے لیکن جونہی برف کا اثر ختم ہوا، زخم تازہ ہوجاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ناسور کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ شاید فراز کسی ایسے موقع کے لئے ہی کہہ گئے تھے۔
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت، لادوا نہ تھے


