سعودی عرب کا روشن خیالی کی طرف سفر
اکیسویں صدی اپنے بھرپور جلوے ہمیں دکھا رہی ہے یہ سب کچھ ایک ایسی مقدس دھرتی پر ہونے جا رہا ہے جہاں پر سب انسانی تفریحات پر اس وجہ سے پابندی تھی کہ مبینہ طور پر مذہب میں ان کو حرام قرار دیا گیا تھا۔ اس میں دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ سب عیاشیاں عوام کے لئے حرام تھیں مگر سعودی اشرفیہ پر ان قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا تھا کیونکہ وہ قادر مطلق کے قائم کردہ نمائندے ہوتے ہیں اور وہ اپنے اس ( خاص حق) کو ہر طریقے سے سیلیبریٹ کرنے میں مادر پدر آزاد ہوتے ہیں۔
وقت کے بہاؤ کے آگے آج تک کوئی بند نہیں باندھ سکا، یہ ظالم تمام جبری پابندیوں اور مذہبی اجارہ داریوں کو بہا کر لے جاتا ہے اور وقت کے آگے مصنوعی دیوار قائم کرنے والے خدائی نمائندوں کو اپنا جبری موقف تبدیل کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ جیسا کہ آج ہم حجاز مقدس میں دیکھ رہے ہیں، سعودی عرب کو ایک قدامت پسند ملک تصور کیا جاتا تھا مگر اب تیزی سے تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں بالی وڈ سٹار سلمان خان اور بین الاقوامی معروف گلوکار جسٹن بیبئر کے شاندار کنسرٹ ہوئے۔
خدا کی قدرت دیکھیں اس دبنگ ٹور میں سلمان خان کے علاوہ ان کے ساتھ بالی ووڈ فلم اسٹار شیلپا شیٹھی، جیکولین فرنینڈس اور دیگر ساتھی فنکارائیں بھرپور زرق برق فلمی لباسوں میں ملبوس اسٹیج پر جلوہ افروز تھیں۔ اس میگا ایونٹ میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی، انسانی شبیہ کو بت سے تشبیہ اور حرام عمل سمجھنے والے سعودی عرب نے کنسرٹ سے قبل سلمان خان کو اعزاز دینے کے لیے ان کے ہاتھوں کا نقش لیا جو ریاض کی مصروف ترین شاہراہ پر نصب کیا جائے گا، پارٹ آف باڈی سے شبیہ کا سفر زیادہ دور نہیں ہے۔
اس نارملائزیشن کے پیچھے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا وژن ہے جس کے تحت 20,30 تک سعودی عرب کو معاشی اور تجارتی مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔ برادر اسلامی ملک نے دوسرا انقلابی اقدام یہ کیا ہے کہ تبلیغی جماعت کو معاشرے کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کر دی ہے۔ بی بی سی کی ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور نے اس بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کی نماز کے خطبے میں تبلیغی جماعت کے معاشرے پر پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں آگاہی دی جائے۔
دوسری طرف ہمارے ملک میں میں تبلیغی جماعت کے اہم رہنما مولانا طارق جمیل کو ان کی خدمات کے عوض صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا اور انہیں مختلف یونیورسٹیز میں تبلیغ کی غرض سے مدعو کیا جاتا ہے۔ اب خدا جانے انہوں نے تبلیغی جماعت کو کس پیمانے پر پرکھ کر پابندی لگائی ہے اور ہم کس پیمانے پر ( تبلیغی ذہنیت) کو پبلک اداروں میں پروموٹ کر رہے ہیں؟ اردو نیوز ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت تعلیم نے تمام تعلیمی اداروں کو نوٹس جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اخوان المسلمون کے بانی حسن البنا، سید قطب اور قطر میں مقیم مصری عالم دین علامہ یوسف القرضاوی اور جماعت اسلامی کے بانی سید ابو الاعلی مودودی سمیت کئی دوسرے مصنفین کی 80 کتابیں ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔
ان کتابوں میں آج کی غالب تہذیب کے بارے میں جو سخت باتیں درج ہیں وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور اب برادر ملک کو سمجھ آ گئی ہے کہ مخالفت کے انگاروں پر بیٹھ کر دنیا کی صفوں میں شامل نہیں ہوا جاسکتا۔ سید قطب اور حسن البنا نے انگریزی تہذیب کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے اس بنیاد پر انہیں انتہا پسند کہا جاتا ہے، اسی لیے سعودیہ نے اپنے پرانے بابوں سے نجات حاصل کرنے ہی میں عافیت جانی اور انہیں سائیڈ لائن کر دیا۔
پہلے وقتوں میں ہمارے علماء دین ایک دوسرے کے فرقے کو عقائد کی بنیاد پر کافر قرار دلوانے کا فتوی لینے کے لئے لیے حرم کے مفتیان سے رابطہ کیا کرتے تھے لیکن اب برادر اسلامی ملک خود غیر شرعی اقدامات کیے جا رہا ہے اور ان کے 2030 ویژن کے مطابق سعودی عرب کس حد تک آ گے چلا جائے گا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تو اب اس اہم موڑ پر ہمارے علماء برادر ملک کے خلاف کیا کارروائی کریں گے اور اس کے خلاف کہاں سے فتویٰ حاصل کریں گے؟
اب ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے روحانی تجلیات کے مرکز میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں وہ کس بنیاد پر ہو رہی ہیں؟ ان کا اپنے موقف میں لچک پیدا کرنا اور انقلابی بنیادوں پر غیر مقبول اور سخت فیصلے لینے کے پیچھے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں؟ ان کو شاید سمجھ آ گئی ہے کہ آج کے دور میں اپنے مذہب کو بالاتر سمجھ کر اور دوسرے مذاہب کو کمتر جان کر نفرت پیدا کر کے آگے نہیں بڑھا جا سکتا لیکن جو انویسٹمنٹ مدارس کے نام پر پاکستان میں برادر ملک نے کی اس کا کیا بنے گا؟
ان کو تو سمجھ آ گئی اور وہ روزبروز سخت فیصلے لے کر آگے کی طرف گامزن ہو چکے ہیں مگر ہم آج بھی اسی سحر میں مبتلا ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان صاحب اپنے وژن کی تجلی ریاست مدینہ کے دعویدار ہمارے وزیراعظم اور علماء پر بھی ڈال دیجئے تاکہ وہ بھی آپ کی روحانی تجلی سے فیض یاب ہو کر آگے بڑھنے کا سوچیں، مذہب کے نام پر اتنی نفرت پھیل چکی ہے کہیں بھی چند لوگ اکٹھے ہو کر بلاسفیمی کا الزام لگا کر کسی کو چند سیکنڈ میں واصل جہنم کر دیتے ہیں اور قاتل کا پھانسی لگنے کے بعد (ہیرو ورشپ) کے طور پر مزار بھی بنا دیا جاتا ہے تاکہ ہر سال اس کے کارنامے کو عرس کی صورت میں سیلیبریٹ کیا جا سکے۔
کراؤن پرنس صاحب ایک لمبے جبری حربوں کے بعد آپ نے جو تلخ سبق تاریخ سے حاصل کیا ہے وہ ہمارے مذہبی راہنماؤں کو بھی حرم کے مقدس فرش پر بٹھا کر سمجھا دیں اور انہیں معاشرے میں دوسرے مذاہب کے لوگوں سے باہم اشتراکیت کے ساتھ کیسے رہنا ہے وہ بھی ازراہ کرم بتا دیں۔ ان کا ماضی کا خمار کڑوے حقائق بتا کر اتار دیجئے۔ خلیج ٹائم کے مطابق کراؤن پرنس سے سوال پوچھا گیا کہ (کیا خواتین مردوں کے برابر ہیں)؟
ان کا جواب تھا بالکل دونوں جینڈر برابر ہیں اور انہوں نے واضح طور پر اعلان کیا کہ خواتین کے لئے حجاب یا عبایہ پہننا لازمی نہیں ہو گا بلکہ ان کی چوائس ہوگی۔ ہمیں، ہمارے وزیراعظم اور ہمارے علماء کرام کو سمجھنا چاہیے کہ کیسے ہمارا برادر اسلامی ملک ریاست کے معاملات میں مذہبی عمل دخل کو کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے کیونکہ مذہبی برتری کے ساتھ کوئی بھی ریاست مضبوط ہو کر دوسرے مختلف ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر بات چیت اور اپنے معاملات کو بہتر طریقے سے سلجھا نہیں سکتے۔
جبکہ دوسری طرف ہم اپنے سکول، کالج اور یونیورسٹی کو مدارس کے لیول پر لانے میں مصروف ہیں، علماء کو مدارس تک محدود کرنے کی بجائے انھیں پبلک سیکٹر میں عربی پڑھانے کے نام پر اسپیس مہیا کر رہے ہیں۔ جس انتہا پسندی کی فصل ہم آج کاٹ رہے ہیں وہی نفرت کی فصل اب گورنمنٹ اداروں میں بونے کا آغاز ہو چکا ہے۔ ہمارا روحانی مرکز مذہب کو ایک دائرہ کار کے اندر پابند کر کے دنیا کے ساتھ (کو ایگزسٹ) کرنے کے سفر پر روانہ ہو چکا ہے جب کہ ہم ہر جگہ مذہببی پیشواؤں کو مسلط کر کے تنزلی کی طرف جا رہے ہیں۔



بہت خوبصورت و اعلی تحریر۔ بالکل کھری کھری لکھ دی ہیں۔ اب پاکستانیوں کو سوچنا چاہیئے کہ جیسے ان کے دین کے فالوورز بن گئے اسی طرح اب ان کے طرزِ زندگی کے فالوورز بھی بننا چاہیئے۔