16 دسمبر کو خانیوال ضمنی انتخاب میں کیا ہو گا؟
پی پی 206 خانیوال میں ضمنی انتخاب حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انتخابی دنگل 16 دسمبر کو سجے گا، خانیوال کے اس صوبائی ضمنی انتخاب میں نورین نشاط ڈاھا، رانا سلیم اور تحریک لبیک کے نوارد امیدوار شیخ اکمل میں یدھ پڑے گا، برادریوں کا تعصب بروئے کار آئے گا۔ تبدیلی کا طلسم نہیں، خانیوال میں برادری کا جادو چلے گا
خانیوال کے صوبائی 206 حلقے میں ‘تبدیلی’ آچکی ہے نون لیگ اور تحریک انصاف نے ضمنی انتخاب میں اپنے امیدوار ادل بدل لئے ہیں البتہ تحریک لبیک نئے عامل کے طور پر میدان عمل میں للکار رہی ہے جوان سال سعد رضوی ایک ایک ووٹ پر پہرہ دینے کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ ان کے لئے دیہی ووٹر کو اپنے لئے متحرک کرنا کسی معجزے سے کم نہیں ہو گا، بظاہر جس کے امکانات معدوم ہیں۔
تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی رہائی کے بعد جیل سے سیدھے خانیوال کے معرکے میں کود پڑے ہیں۔ اب ان کی عزت سادات داؤ پر لگی ہوئی ہے کہ انہیں جیتنا ہوگا یا پھر کم از کم خاطر خواہ ووٹ لینا ہوں گے کہ ان کی جماعت کی مقبولیت کا بھرم قائم رہ سکے
نون لیگ کی تمام تر مقبولیت کے باوجود رانا سلیم کی کامیابی جان جوکھوں کا دشوار مرحلہ ہو گا کہ وہ مہاجر راجپوت ہیں جنہیں اب بھی ضلع خانیوال اور پنجاب کے دیہی علاقے میں “پناہی” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے
مرحوم نشاط ڈاھا کی بیوہ نورین ڈاھا اگرچہ حکمران تحریک انصاف کی امیدوار ہیں لیکن ان کا بنیادی آسرا ڈاھا قبیلے اور دیگر مقامی برادریوں کے متعصب ووٹ پر ہو گا ۔
تحریک لبیک شہری علاقوں میں جوہر دکھا سکتی ہے جبکہ یپلز پارٹی کا امیدوار اپنی ضمانت بچا لے گیا تو اس کی یہی “فتح” ہو گی۔
حلقے میں امیدواروں کی تبدیلی نے صورتِ حال کو دلچسپ بنا دیا ہے اور عام سے ضمنی انتخاب کو خاصا اہم بنا دیا ہے ۔ یہ نشست نون لیگی رکن پنجاب اسمبلی نشاط خان ڈاھا کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ 2018ء کے عام انتخاب میں پی ٹی آئی کےامیدوار رانا محمد سلیم اب نون لیگی امیدوار ہیں۔ 2018 میں نون لیگ کے رکن پنجاب اسمبلی نشاط احمد ڈاھا کی بیوہ نورین نشاط ڈاھا اب پی ٹی آئی کی امیدوار ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کے بلند و بانگ اخلاقی دعوے اور تبدیلی کے نعرے خانیوال کے معمولی انتخابی معرکے کی نذر ہو چکے ہیں۔ سارے کارکنوں کو پس پشت ڈال کر نون لیگی رکن پنجاب اسمبلی کی بیوہ نورین نشاط ڈاھا تحریک انصاف کی امیدوار ہیں۔ سیاسی اخلاقیات کا جنازہ نکل رہا ہے۔ خوش کن تبدیلی کا نوحہ پڑھا جا رہا ہے۔



Very good analysis, best article. Thank you Aslam Khan