بتاوُ تمہیں کیا سزا دی جائے؟


حسب معمول کام کے سلسلے میں،  میں دوسری کمپنی گیا،  تو جس بندے سے کام تھا اس نے کہا کہ میں بریک پر باہر جا رہا ہوں، کیا تم میرا تھوڑی دیر انتظار کرو گے ؟ میں پندرہ منٹ تک واپس آ جاؤں گا۔ تو پھر بیٹھ کر کام نمٹاتے ہیں۔ میں تھوڑا چونکا، کیوں کہ ایک سال سے اُس کے ساتھ کام کر رہا تھا مگر پہلے اُس نے ایسا کبھی نہیں کہا،   میں نے مسکراتے ہوئے کہا، ” ہاں کیوں نہیں میں انتظار کر لوں گا”۔  جب وہ باہر جانے لگا تو میں نے اس سے سرسری اور حسب معمول اس کی خیریت اور دن کے بارے میں پوچھا، تو اس نے کہا کہ دن ابھی تک اچھا جا رہا ہے۔ آج یہاں میرا آخری دن ھے۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا وہ کیوں؟ تو  کہنے لگا کہ کمپنی نے مجھے نکال دیا ہے۔ میری حیرت اس کی ہر بات کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھی۔  کیونکہ وہ یہاں کا ایک بہترین ورکر تھا،  اور ایک دم سے نکالا جانا کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، کہ مجھے اس لیے نکالا جا رہا ہے کیونکہ میں نے ویکسینیشن نہیں کروائی۔  مجھے اس کی بہادری کا احساس ہوا. چاہے جو بھی وجہ تھی کہ اس نے ویکسینیشن نہیں کروائی لیکن اپنے طے کردہ لاحہ عمل کے لئے قربانی دینا اس کے لیے نوکری کو خیرباد کہہ دینا  بہرحال ایک حوصلہ مند انسان کی نشانی ہے. میں نے اس کو کہا کہ یہ تو ظلم ہے، تمہارا خاندان ؟ اور پھر تمہارے پاس نوکری کا کوئی دوسرا بندوبست بھی نہیں ہوگا۔ اس نے کہا یہ تو ہے۔ جب تمہاری ملاقات میرے منیجر سے ہوئی تو تم بھی اس بات کی نشاندہی کرنا۔ میں نے کہا، ہاں ضرور اور وہ کمرے سے باہر چلا گیا.

تھوڑی دیر بعد اس کا مینیجر بھی وہاں سے گزرا اور شیشے میں مجھے دیکھ کر اندر آ گیا۔ تھوڑی علیک سلیک کے بعد میں نے کہا کہ یہ Max (فرضی نام) کیا کہہ رہا تھا، کہ آج اس کا آخری دن ہے، تو کہنے لگا ہاں اس نے ویکسینیشن نہیں کرائی اور یہاں کے اصول کے مطابق اسے جانا پڑے گا. میں نے کہا یہ تو اس کا ذاتی فیصلہ ہونا چاہیے نہ کہ اس کو مجبور کیا جاے اور نوکری سے فارغ کر دے، تو اس نے کہا تمہاری بات کسی حد تک ٹھیک ہے،لیکن یہاں پر کام کرنے والے باقی افراد اس کی وجہ سے خطرے میں ہوں گے اور اگر کسی کو کچھ ہوگیا, تو وہ خود اور اگر وہ زندہ نہ ہوا تو اس کے خاندان کا کوئی بندہ ہمیں عدالت لے جا سکتا ہے اور جج جب ہم سے یہ پوچھے گا کہ کیا آپ نے اپنی کمپنی کو اس حد تک محفوظ بنایا جس حد تک انسانی طور پر بنایا جا سکتا تھا؟  تو Max کی وجہ سے ہم اس بات کا نفی میں جواب دیں گے۔ اور  Max بھی قصوروار سمجھا جائے گا کہ وہ بھی خود کو اور دوسروں کو اپنے ایک عمل  سے محفوظ بنا سکتا تھا، لیکن اس نے نہیں بنایا اور وہ مجرمانہ غفلت کا مرتکب ہوا. اس نے اپنی بات مکمل کی اور میں خاموشی سے اسے دیکھتا رہا اس کی بات میں بھی وزن تھا۔
لیکن اس کی بات مجھے کسی اور ہی دنیا میں لے گی کہ ہم ساری زندگی مختلف عمل کرتے ہیں،کچھ   میں کامیاب اور کچھ میں ناکام رہتے ہیں،  ہم اپنے اردگرد موجود لوگوں کو تو باتیں بنا کر، بہانہ تراش کر خاموش کروا دیتے ہیں، کیا ہم اپنے ضمیر اور خدا کی عدالت میں سرخرو ہو جائیں گے؟   کہ جب یہ سوال ہوگا کہ تمام وسائل اور نعمتوں کو بروئے کار لاکر تم عقلِ اِنسانی کی معراج تک پہنچ سکتے تھے لیکن تم نے غفلت اور فضول کے کاموں میں وقت ضائع کردیا، بتاوَ تمہیں کیا سزا دی جائے ؟
Facebook Comments HS