سلمان خان کا ریاض میں کنسرٹ اور پاکستانی مسلمانوں کی برہمی


سعودی عرب کے شہر ریاض میں منعقدہ سلمان خان کے شو میں تقریباً 80 ہزار کے قریب لوگ شریک ہوئے۔ یہ شو اور اس قسم کے تمام میوزیکل پروگرام سعودی عرب کے وژن 2030 کا حصہ ہیں جہاں وہ تیل اور پیٹرول کی معیشت سے نکل کر سیاحت کی معیشت طرف مائل ہیں۔

حالیہ دنوں میں حجاب اور عبایہ پر بھی پابندی اٹھا لی گئی ہے اور اس کا اختیار خواتین کو دے دیا ہے کہ اگر وہ پردہ کرنا چاہتی ہیں تو کریں ورنہ کوئی پابندی نہیں ہے۔

تبوک صوبے میں بحیرہ احمر میں ایک جزیرہ میں نیوم سٹی بن رہی ہے جو نیو یارک سٹی سے 33 گنا بڑی ہو گی۔ جہاں روبوٹس آپ کو سارے کام کرتے نظر آئیں گے۔ یہاں تفریح و طبع کا ایسا انتظام ہو گا کہ آپ دبئی ، بحرین اور بنکاگ کو بھول جائیں گے۔ جی ہاں! یہ وہیں ہو گا جہاں سے کچھ فاصلے پر حج اور عمرہ کے طواف بھی ہو رہے ہوں گے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستانی جنتی مسلمانوں کو یہ بات کچھ پسند نہیں آ رہی۔ پاکستانی لوگوں میں اور میڈیا میں ایک اشتعال سا برپا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ خدا کے احکامات کی خلاف ورزی ہے اور اسلام ان سب چیزوں کی اجازت نہیں دیتا۔

ہاں البتہ ہم پاکستانی جنتی مسلمان جعلی دوائیاں بنانے، اس کی استعمال کرنے کی تاریخ کو دو دو سال آگے بڑھانے، دودھ کے نام پر اپنے بچوں کو کیمیکل پلانے، چھ چھ سال کی بچیوں اور بچوں سے دست درازی کرنے، 300 لڑکیوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر ان کی عزت لوٹنا اور ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنا اور ناموس رسالت کے نام پر لوگوں کو زندہ جلانے کو عین اسلامی سمجھتے ہیں۔

اگر سعودی عرب والے اگلے 30 برسوں کی سوچتے ہوئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ اپنی عوام کو روزگار، صحت، تعلیم اور زندگی کی دیگر بنیادی ضروریات فراہم کی جائیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ لیکن ہم لوگوں کو منصوبہ بندی اور عوام کی فلاح سے کیا لینا دینا۔ ہمارے حکمران تو اس فکر میں ہیں کہ کسی طرح اگلے چھ مہینے نکل جائیں۔ ہم تو کونسلر تک کو اس کے اختیارات دینے کو تیار نہیں ہیں۔ کوئی توشہ خانہ کے تحائف بیچ رہا ہے تو کوئی کوویڈ ویکسین پر 40 ارب بنا لیتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی غریب خاندان سے تعلق نہیں رکھتا۔ انہوں نے کبھی اپنا گھر نہیں چلایا تو ملک کیسے چلائیں گے۔ کارل مارکس کا کہنا ہے ” وہ جنہوں نے گرمی سردی کھڑکیوں سے دیکھی ہو اور بھوک صرف کتابوں میں پڑھی ہو، وہ عام آدمی کی قیادت نہیں کر سکتے”۔

منٹو نےانسانی نفسیات اور معیشت پر کیا خوب کہا تھا کہ "خالی پیٹ کا مذہب صرف روٹی ہوتا ہے، صاحب”!۔ ہمیں تو اپنی عوام کی کوئی فکر نہیں اور اگر سعودی حکومت مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اقدامات کرے تو ہمارا اسلام خطرے میں پڑ جاتا ہے حالانکہ اسلام کو سب سے زیادہ خطرہ خود مسلمانوں سے ہے۔

ہاں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کرونا وبا کی وجہ سے آج کل حرم میں جہاں وقت لے کر عمرہ اور نماز پڑھنے کی اجازت ہے اور آپ ایک مخصوص اوقات میں ہی کعبہ کا طواف اور عمرہ کر سکتے ہیں، وہاں 80 ہزار لوگ سلمان خان کے کنسرٹ میں کیسے اکٹھے ہو گئے۔

اس کا جواب بہت ہی سادہ ہے اور وہ یہ کہ سعودی حکومت کی ترجیحات اب مختلف ہیں اور وہ اپنے ملک کو مستقبل میں ایک معتدل مزاج، لبرل اور سیکولر دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں کئی ایسے کام کئے ہیں جن پر وہ شرمندہ ہیں لیکن اب وہ دنیا میں اپنی تصویر بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے تو اذان کے وقت کاروبار بھی بند کرنا ختم کر دیا ہے۔ وہ ہلکے ہلکے مذہب اور مسجد کو سیاست اور ریاست سے دور کر رہے ہیں جو یورپ اور امریکہ نے کیا ہے اور جہاں صرف اتوار کو ہی چرچ جایا جاتا ہے۔ لیکن اخلاقی طور پر وہ کافر معاشرے عین اسلامی اصولوں کے مطابق اپنی عوام کو سہولیات میسر کر رہے ہیں۔

ہمیں اس بارے آگ بگولہ ہونے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ ہماری منزل کیا ہے؟ تحریک لبیک پاکستان؟ تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات؟ ناموس رسالت پر لوگوں کو زندہ جلانا؟

جامعات اور کالجوں میں ph.d ڈاکٹرز کی بجائے جب مولوی حضرات خطبہ دینے لگ جائیں، تو پھر ماتم نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے؟ جس ملک کے کتابوں کے فیسٹیول میں لاکھوں روپے کا کھانا بک جائے اور کتابیں صرف سولہ بکیں، وہاں میں نوحہ نہ لکھوں تو کیا کروں؟

Facebook Comments HS

One thought on “سلمان خان کا ریاض میں کنسرٹ اور پاکستانی مسلمانوں کی برہمی

  • 16/12/2021 at 2:13 شام
    Permalink

    بہت خوب۔ آپ نے واقعی کمال لکھا ہے۔

Comments are closed.