دی ہیومن لائبریری
ایک وقت تھا بلکہ دور کیوں جائے بیس پچیس سال پہلے کراچی کے ہر ٹاون میں ایک لائبریری ہوا کرتی تھی ـ اور یہ لائبریری باقاعدہ کسی ادبی شخصیت کے نام سے منسوب ہوا کرتی تھی ـ جیسے غالب لائبریری، جگر مراد ابادی لائبریری، یا شاہ لطیف لائبریری، لیکن اہستہ اہستہ یہ لائبریریاں سمیٹتی گئی اور پھر ختم ہوتی گئی ـ بلکہ ان کی زیادہ تر کتابیں اب اتوار کو ریگل میں لگی ہوئی پرانی کتابوں کے سٹالز بلکہ فٹ پاتھز پر پڑی ہوئی مل رہی ہوتی ہیں ـ یہی حال وطن عزیز کے دیگر شہروں کا بھی ہوگا اور یقیناً ہے ـ لوگ ان لائبریریوں میں جاکر نہ صرف ادھر پڑھتے تھے بلکہ پڑھنے والی متعلقہ کتابوں کو لائبریری کے شرائط پر رلیز بھی کیا کرتے تھے اور جن مواد کی ضرورت ان کو ہوتی تھی اس مواد کی فوٹو کاپیاں کرانے کی سہولت بھی ادھر موجود ہوتی تھی ـ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کمپوٹر، نٹ اور ویب لائبریریوں کی وجہ سے ہمارے ملک میں ان لائبریریوں کی اہمیت میں کمی اتی گئی ـ اور ہماری یہ اجتماعی عادت ہے کہ کسی بھی نئی چیز میں اس قدر مشغول ہوجاتے ہیں کہ پرانی چیزوں طریقوں یا اطوار کو پس پشت ڈال دیتے ہیں ـ
هم هر چیز کو سوشل میڈیا کے یلغار کی نذر کر دیتے ہیں ـ اور کتابوں میں کم دلچسپی کی وجہ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے بہاؤ کو گردانتے ہیں ـ لیکن یہ کبھی موازنہ نہیں کیا کہ یہ یلغار جدھر سے ائی ہے ادھر تو لوگ اسی طرح کتابوں سے جڑے ہوئے ہیں، وہاں تو لوگ اسی طرح لائبریریوں سے اشنا اور لنک میں ہیں ـ وہاں تو سوشل میڈیا کتاب کی اہمیت کو کم نہ کر سکا بلکہ ہر چوک، ہر پارک اور ہر عوامی جگہ پر بھی اپ کو لائبریری ملے گی یہاں تک کہ بعض ریسٹورنٹس اور انتظار گاہوں پر بھی چھوٹی چھوٹی لائبریریاں موجود ہوتی ہیں لیکن ایک ہم ہیں کہ کتابوں سے جی چرانے کی وجہ سے یہ بہانے تراشتے ہیں ـ یا بقول زمبابوے کے سابقہ صدر موگابے کے کہ اس معاشرے میں اپ کیسے کسی کو اس بات پر امادہ کریں گے کہ تعلیم یا مطالعہ اچھی چیز ہے جہاں بے تعلیم یا کم تعلیم یافتہ افراد صرف پیسے کے بل بوتے پر لگژری گاڑیوں، پوش علاقوں، پرتعیش زیست اور اعلی سٹیٹس یا مدارج کی زندگی گزارتے ہوں ـ یقیناً یہ بات ہمارے معاشرے پر نہ صرف منطبق ہے بلکہ روز روشن کی طرح نمایا بھی ہیں ـ جبکہ دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اقوام جہاں سے یہ سوشل میڈیا ایا ہے وہ نہ صرف کتابوں یا مطالعے کے کلچر کو زندہ رکھے ہوئے ہیں بلکی اس میں مزید ندرت، چاشنی، حسن اور جدت لا رہے ہیں ـ کتابوں کی اڈیو ویڈیو تو معمول کی بات ہے ـ موبائل لائبریریاں تو روزمرہ یا روٹین بن چکے ہیں ـ بسوں اور ٹیوبز میں مطالعہ تو ان کی عادے نہیں فطرت کا حصہ بن چکی ہے ـ استاذ اور ٹیوٹر کی تو قدر وہاں ایک مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے ـ لیکن نئی اورر جدید یا لوگوں کے سہولت کی خاطر جو طریقہ ڈنمارک نے شورع کیا ہے وہ اپنی مثال اپ ہے اور وہ اس طرح کہ ڈنمارک میں ایک لائبریری ہے اسکی دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں آپ ایک کتاب کے بجائے کسی شخص کو ادھار لے سکتے ہیں اسکی زندگی کی کہانی سننے کے لیے وہ تیس منٹ تک آپکو اپنی لائف سٹوری سناتا ہے.


