احساس کا رشتہ

سنگلاخ پہاڑوں کے بیچ بہت سے قلعوں اور ایک جنگل کے پڑوس میں گذرے دو دن میری زندگی میں کچھ ہی ماہ قبل آئے تین لوگوں کے ساتھ بیتے کہ جب میں نے اپنی زندگی کے کچھ ادھورے معنی مکمل کیے اور بہت کچھ سیکھا کہ سیکھنے کو اک عمر بھی ناکافی پڑ جاتی ہے اور کبھی کچھ لمحے زندگی کے کئی سبق ذہن نشین کرجاتے ہیں.
کوئی کبھی براہ راست تو کبھی بالواسطہ آپ کی زندگی کو ایک مجسمے کی طرح تراش سا دیتا ہے اور آپ اک نئے روپ یا انداز سے جینے لگتے ہیں.
اب پتھر کی اپنی خاصیت کسی فن کار مجسمہ گر کے ہاتھوں تراش کے بعد نکل کر سامنے آتی ہے اور نئی سی شکل میں بدل جاتی ہے.
ہوا، موسم، مقام،منظر بہت اہم اور کارآمد ہیں مگر صحبت کا نمک ان کے اثر، سحر اور ذائقے کو دوبالا کردیتا ہے.
کہنا، سننا، سمجھنا، دیکھنا، سوچنا، سیکھنا اور بدلنا گویا اک نظام (سسٹم) کی سیڑھیاں (اسٹیپس) ہیں کہ جن پہ چڑھ کر اک فرد بلندی فکر اور شخصیت کی تکمیل کے کسی مرحلے تک پہنچتا ہے مگر سیڑھیوں سے قبل اک دروازہ ہے جو نہ کھلے تو کچھ نہیں ہوپاتا. میرے تینوں دوست مرے لیے وہ کھلنے والا دروازہ بنے.
دریا میں پانی اور فضا میں ہوا کی لہریں بہتی رہتی ہیں. کسی بھی مقام پر ہم صرف اک ہی دفعہ جاسکتے ہیں کہ گر دوبارہ جاؤ بھی تو کچھ بھی وہ نہیں ہوتا جو پہلے تھا.
رنی کوٹ جو میں نے دیکھا اور محسوس کیا اب کبھی نہیں ہوگا کہ جب بھی میں وہاں جاؤں گا تو اک پرانی یاد کی تلاش مجھے موازنہ کرنے پر اکسائے گی اور نہ ہوا وہ ہو گی نہ میری آنکھوں میں پہلی دفعہ دریافت کی جستجو. سب کچھ بدل جاتا ہے اور وقت ہاتھ سے گرتی ریت کی طرح پھسل جاتا ہے.
کچھ جذبے، کچھ رشتے اور کچھ احساس اپنی نوعیت میں بہت انوکھے سے ہوتے ہیں کہ آپ کے پاس ان کے لیے کوئی عنوان نہیں ہوتا مگر ایک احساس ہوتا ہے تو ان پر بات کرنا مشکل مگر سوچنا آسان ہوتا ہے.
ہاں اجنبی ماحول، منظر آپ کو دلچسپ لگتا ہے مگر اس میں کشش کے لیے آپ کو کچھ ایسے لوگ درکار ہوتے ہیں جو نہ ہوں تو بہت سے منظر اور ماحول بے معنی سے ہونے لگتے ہیں اور خوبصورتی سراب میں بدلنے لگتی ہے.
زندگی بسا اوقات آپ کو نواز سا دیتی ہے اور آپ خوش نصیبوں کی فہرست کا حصہ بن جاتے ہیں. شاید احساس کا رشتہ اپنی نوعیت میں اک الگ سی دنیا کی طرح ہے جو اپنے رنگ. منظر اور ماحول میں منفرد ہے.
رنی کوٹ میرے لیے بہت سے مقامات میں سے بس ایک مقام ہوتا اگر وہ تین مرے ساتھ نہ ہوتے اور میری زندگی کے نقشے میں اپنی موجودگی سے کچھ حصوں کو مکمل نہ کرتے.
میں نے اپنی اور کیمرے کی آنکھوں سے گذرے ہوئے دو دنوں کے بہت سے پل محفوظ کر لیے ایسے جگنوؤں کی طرح جو اندھیری رات میں اک دم روشنی کردیتے ہیں.
Facebook Comments HS

