سانحہ اے پی ایس کی یاد میں

سال کا آخری مہینہ
اس کا دوسرا آدھ
اس کا پہلا دن
ان کے بچوں پہ ، ان کی قسمت پہ
بہت بھاری تھا
جواں سالی میں سر کے بال سفید کر کے
خدا پہ فیصلہ چھوڑے بیٹھے ہیں
خون ان کا خولتا بھی ہوگا
نوالہ کوئی حلق سے اترتا نہیں ہوگا
دل موٹر کار کی طرح دھڑکتا ہوگا
جینا عزاب لگنا
آنکھیں نم ہونا
اپنے آپ سے خفا ہونا
یہ سب تو معمول ہوگا
ہاں مگر
ان کا ضمیر زندہ ہے وہ زندہ ہیں
ان کے ننھے آج بھی سکول جاتے ہوں گے
مگر کیا یہ سب آسان ہے
مائیں گھروں میں چین سے ہوں گی ۔۔۔نہیں
ان کی سلامتی کی دعا خاطر
سر بسجود رہتی ہیں
یا خدا !
اب انسانیت انسانوں میں ڈال دی جائے
ظالموں کی خبر لی جائے
ظلم پہ خامشی اختیار کرنے والے
رسوا ہوں برباد ہوں
ان ماؤں کے لال لوٹ آئیں
Facebook Comments HS

