بنگلا دیش: ذاتی مشاہدات اور حالیہ ترقی


ممکن ہے کہ سابقہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے میری یہ تحریر قارئین تک 16 دسمبر کے بعد پہنچے کیونکہ ہم سب کے فورم سے مختلف موضوعات پر لکھنے والے بے شمار افراد ہیں اور یہ آواز اٹھانے کا سلسلہ ہم سب کی انتظامیہ کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ بہر حال مقصد 16 دسمبر کے اس المناک سانحے کی یاد کو تازہ کرنا ہے جس نے مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا کر دیا اور ایک نیا ملک بنگلہ دیش کے نام سے وجود میں آ گیا۔
بنگالی قوم سے ہمدردی رکھنے والے ان کے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے والے باشعور افراد اب بھی موجود ہیں، لیکن ریاست حکومتوں اسٹیبلیشمنٹ اور عوام کی اکثریت نے اتنے بڑے تاریخی سانحے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
آج بنگلہ دیش اپنی آزادی کی پچاسویں سالگرہ منا رہا ہے سوچا کہ سابقہ مشرقی پاکستان (حالیہ بنگلہ دیش) میں دسمبر 1971 کے واقعات جو ایک تصویر کی طرح نظروں کے سامنے آتے ہیں کی یادوں کو دہرایا جائے اور حالیہ بنگلہ دیش کی ترقی پر ایک نظر ڈالی جائے۔
جو افراد 1971 کے بعد پیدا ہوئے یا اس وقت بچپن اور نو عمری کے دور سے گزر رہے ہوں گے وہ اب اپنی عمر کی نصف صدی دیکھ چکے ہیں لیکن وہ بنگلہ دیش سے پہلے سابقہ مشرقی پاکستان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں، بنگال پر فوج کشی، قتل و غارت گری بنگالیوں کو برابری کا درجہ نہ دینا ان کو غدار قرار دینا انہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ نہیں دیکھا۔ اس نسل نے جو کچھ سنا اپنے بڑوں سے سنا یا پھر پڑھا تو مسخ شدہ تاریخی نصابی کتابوں سے پڑھا
اب راقم چند جملے چشم دید واقعات کے بیان کردے۔ یہ مئی 1971 کا سال تھا فوجی آمریت کا دور دورہ تھا مشرقی پاکستان کے حالات روز بروز دگرگوں ہوتے جا رہے تھے ایک لاکھ سے زائد فوج بنگالیوں کی آزادی کی جد و جہد کو کچلنے کے لئے بھیجی جا چکی تھی۔ میں پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کی تلاش میں کراچی جا پہنچا بڑی تگ و دو کے بعد یونائیٹڈ بنک میں جونیئر افسر کی ایک جگہ مل گئی اس وقت ملک کے دو بڑے بینکوں یعنی حبیب اور یو بی ایل میں ملازمت حاصل کرنا نہایت مشکل کام تھا۔ بہرحال ملازمت شروع کی۔ ایک سال کی بنیادی بینکنگ کی ٹریننگ ضروری تھی۔
اس وقت بینکنگ ٹریننگ کے لئے پورے ملک سے افسران کراچی آیا کرتے تھے کیونکہ تمام بینکوں کے ہیڈ آفس کراچی میں ہی ہوا کرتے تھے اور کراچی ملک کا معاشی حب بھی تھا۔ یونائیٹڈ بینک نے اپنے ٹرینی افسران کی رہائش کے لئے کشمیر روڈ پی ای سی ایچ سوسائٹی میں بڑے بڑے بنگلے کرائے پر لے رکھے تھے مختلف اوقات میں حسب ضرورت ٹرینی افسران کے بیج بنائے جاتے تھے۔ ایک کمرے میں دو افراد رہائش پذیر ہوتے تھے مجھے بھی ایک کمرہ مل گیا لیکن میرے روم پارٹنر کا کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ حضرت کب آتے تھے میس اور ٹریننگ کلاس میں بھی خال خال نظر آتے تھے کس صوبے اور کس شہر سے تعلق تھا کچھ پتہ نہیں تھا۔

ہمارے گروپ میں تقریباً 50 سے 60 افسران تھے جن میں سے اکثریت کا تعلق پنجاب کے خوشحال گھرانوں سے تھا ان میں نون لیگ کے رہنما خواجہ آصف جن کا تعلق سیالکوٹ سے تھا بھی شامل تھے اور ہمارے برابر والے روم میں قیام پذیر تھے دس افراد ایسے تھے جو کراچی اور اندرون سندھ سے چنے گئے تھے اور صرف دو افراد کا انتخاب ڈھاکہ سے کیا گیا تھا جو بنگالی تھے۔ خیر ایک دن اپنے روم میٹ سے ایک مختصر سی ملاقات ہو گئی۔ ان حضرت کا نام ندیم اختر تھا سندھ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ تھے دانشورانہ گفتگو کرتے تھے۔ سیاست اور بالخصوص سندھ کی سیاست سے گہری دلچسپی تھی اسٹوڈنٹ یونین کے بانی ممبر اور بائیں بازو کی سیاست میں متحرک تھے۔ بینک کی نوکری سے انہیں کیونکہ کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لئے جلد ہی ملازمت چھوڑ کر صحافت جوائن کر لی جو آج تک کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ میری ان سے گہری دوستی ہو گئی جو 50 سال گزرنے کے بعد بھی قائم ہے۔
میری تعلیم اور اسٹوڈنٹ سیاست کیونکہ لاہور کے کالجوں اور یونیورسٹی کی تھی اس لئے میں سندھ کی سیاست اور سیاست دانوں سے ناواقف تھا۔ اس وقت پنجاب کے تعلیمی اداروں کے طلبا جن میں راقم بھی شامل تھا ایوب خان کی فوجی آمریت کے خلاف لڑائی لڑ رہے تھے یہ سال 67۔ 68 کا زمانہ تھا۔
اب کشمیر روڈ کا ہوسٹل ہماری سیاست کا گڑھ بن گیا تھا۔ جیسے کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ ہمارے بیج میں پنجاب سے آئے ہوئے افسران کی اکثریت تھی اس لئے وہ دو بنگالی افسر اکثر ان کی تنقید کی زد میں رہتے تھے کیونکہ بنگالیوں پر فسادی اور غداری کا ٹھپا لگا دیا گیا تھا اس لئے وہ بنگالی افسران ہوسٹل کے اس ماحول کو اپنے لئے غیر محفوظ سمجھتے تھے۔
ندیم اختر اور میری اب بنگالی افسران سے دوستی ہو گئی بہت مہذب اور شریف انسان تھے اکثر ہمارے روم میں آ جایا کرتے تھے سیاسی باتوں سے پرہیز کیا کرتے تھے لیکن پھر بھی اپنی قوم کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور مشرقی پاکستان میں ہونے والے حالات اور واقعات پر رنجیدہ رہتے تھے۔
ہم نے ان کو ڈھارس دلائی کہ ہمارے گروپ کے ہوتے ہوئے جو نہایت ہی مختصر تھا تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ہم اعلی افسران تک جائیں گے۔ چھ ماہ کے دوران ہماری ان بنگالی افسران سے گہری دوستی ہو گئی اور مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائیوں کے حوالے سے کھل کر گفتگو ہونے لگی۔ اس سے قبل بھی پنجاب یونیورسٹی میں ایک این جی او کے حوالے میری کچھ بنگالی دوستوں سے اچھی خاصی واقفیت تھی اس غیر ملکی این جی او کا پاکستانی آفس ڈھاکہ میں تھا۔ نہایت ذہین اور انگریزی زبان پر عبور رکھنے والے دوست تھے۔ انہوں نے کبھی بھی علیحدگی کا نعرہ نہیں لگایا۔
پورا سال گزر گیا ہماری ٹریننگ بھی اختتام پذیر تھی بنگالیوں کی آزادی کی جنگ بھی خون خرابے میں تبدیل ہو گئی مکتی باہنی جیسی شدت پسند تنظیموں نے قتل و غارت گری شروع کر دی۔ ایک دن ہوسٹل میں خبر آئی کہ سقوط ڈھاکہ ہو گیا اور ہندوستانی فوج نے مشرقی پاکستان پر قبضہ کر لیا اور 90 ہزار پاکستانی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ اس کے بعد کے واقعات تو بڑے دل ہلا دینے والے دل خراش اور طویل ہیں۔ بنگالیوں کی مختلف دہشت گرد تنظیموں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بدلہ لے لیا۔ راقم اور اس وقت کی نسل کے لوگ پاکستان کو دو لخت ہونے اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں تبدیل ہونے کے چشم دید گواہ ہیں۔
آئیے اب ذرا بنگلہ دیش کے ماضی، پے در ہے فوجی انقلابات، سیاسی رسہ کشی اور حالیہ تیز رفتار ترقی پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔ بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد اس نوزائیدہ مملکت کو بے شمار مسائل مصائب اور دشواریوں کا سامنا تھا۔ شیخ مجیب الرحمان ملک کے وزیر اعظم بن چکے تھے۔ امن و امان کی بحالی اور جنگجو تنظیموں کو اسلحہ سے پاک کرنا ایک بڑا مرحلہ تھا۔ مجیب الرحمان ان تمام مسائل سے نمٹنے میں ناکام رہے اور نتیجتاً نوجوان فوجیوں کے ایک گروپ نے فوجی انقلاب برپا کر کے وزیر اعظم کو 15 اگست 1975 کو پورے خاندان سمیت ہلاک کر دیا۔ سوائے ایک بیٹی حسینہ واجد کے جو آج کل ملک کی وزیر اعظم ہیں۔ اس کے بعد عرصہ دراز تک ملک میں فوجی آمریت رہی جیسا کہ ہر پس ماندہ اور غریب ملک کی روایت ہے۔ غربت، بے روزگاری، بڑھتی ہوئی آبادی، قدرتی آفات، کرپشن سب کچھ وہی تھیں جو پاکستان سے علیحدگی سے پہلے تھیں۔
نومبر 1975 میں ایک اور فوجی انقلاب آیا اور میجر جنرل ضیا الرحمان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ ضیا الرحمان ملک کے حالات میں کچھ بہتری لایا ترقیاتی کام کیے معاشی حالات بہتر کیے، امن و امان کی صورت حال کو کنٹرول کیا لیکن 30 مئی 1981 کو کچھ فوجی افسران نے جنرل ضیا الرحمان کو بھی قتل کر دیا۔ اس کے بعد ملک کی باگ ڈور جنرل حسین محمد ارشاد کے ہاتھوں میں آ گئی۔ ان فوجی جرنیلوں نے کچھ نام نہاد الیکشنز بھی کروائے، نیشنل سیکیورٹی کونسلز بھی بنوائیں لیکن بنگلادیش ان ہی فوجیوں کے ہاتھوں میں کھیلتا رہا۔
اس وقت بنگلہ دیش میں دو بڑی سیاسی جماعتیں تھیں۔ عوامی لیگ جس کی سربراہ شیخ حسینہ واجد تھیں مجیب الرحمان کی بڑی صاحبزادی اور دوسری بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی جس کو بیگم خالدہ ضیا چلا رہی تھیں جو جنرل ضیا الرحمان کی بیوہ تھیں۔ دونوں خواتین میں سیاسی رسہ کشی اپنے عروج پر تھی اور آج تک ہے۔
سیاسی جماعتوں کے دباؤ اور ملک کے بگڑتے ہوئے حالات دیکھ کر دسمبر 1990 میں جنرل ارشاد کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور ایک عبوری حکومت بنا دی گئی۔ پاکستان سے علیحدگی کے بعد بنگلہ دیش میں جتنی عبوری حکومتیں بنیں شاید ہی کسی اور ملک میں بنی ہوں گی۔ 1990 سے لے کر 2009 تک بنگلہ دیش ایک سیاسی اور معاشی ابتری کے دور سے گزر رہا تھا۔ اقتدار کی رسہ کشی جاری تھی۔ دونوں خواتین یعنی شیخ حسینہ واجد اور بیگم خالدہ ضیا دو دو مرتبہ اقتدار میں آئیں وزیراعظم بنیں لیکن ملک میں ترقی کے آثار دور دور تک نظر نہیں آ رہے تھے۔ 2014 میں ملک میں پھر الیکشن ہوئے لیکن ہمیشہ کی طرح متنازع، مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے ووٹ چوری کے اور دھاندلی کے الزامات جو ہر الیکشن میں پاکستان میں ہوتے آئے ہیں۔
عوامی لیگ 2017 کے الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی اور بیگم حسینہ واجد ابھی تک وزارت عظمی کی کرسی پر براجمان ہیں۔ یہ تھی بنگلہ دیش کی 4 دہائیوں کی سیاسی اتھل پتھل کی داستان۔
گو کہ اس وقت بنگلہ دیش میں لولی لنگڑی جمہوریت ہے حسینہ واجد ایک ڈکٹیٹر کی طرح حکومت چلا رہی ہیں۔ کرپشن بھی ہے، انسانی حقوق کی بے تحاشا خلاف ورزیاں بھی ہو رہی ہیں، غربت بھی ہے لیکن انہوں نے دو ایسے کام کیے جس کی بدولت آج بنگلہ دیش ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا۔
اول یہ کہ فوج کو بیرکوں میں ڈھکیل دیا گیا تاکہ آئے دن کی فوجی مداخلت سے ہمیشہ کے لیے جان چھوٹ جائے اور فوجی انقلاب کا راستہ بند ہو جائے۔ دوئم مولویوں کو مسجد تک محدود کر کے مذہبی شدت پسندی کا بڑی حد تک خاتمہ کر دیا گیا۔
یہ دونوں عناصر بنگلہ دیش کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔
آج کل بنگلہ دیش کی تیز رفتار ترقی کا بڑا چرچا ہے اور تمام معاشی اور اقتصادی اشاریے اس کی تصدیق کر رہے ہیں اور یہ ساری معاشی اور معاشرتی ترقی صرف ایک دہائی میں ہوئی ہے پانچ دہائیوں میں نہیں۔ کیونکہ بنگلہ دیشیوں نے اپنی کامیابیوں کا حل تلاش کر لیا ہے۔
عالمی بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کو اب ایک مڈل انکم ملک کے طور پر شمار کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں اس کی معاشی ترقی اور غربت میں کمی کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔ تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں بنگلہ دیش کا دوسرا نمبر ہے۔ ورلڈ بنک کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش نے تین بڑے کام کیے ہیں۔ اول غربت میں کمی 1991 میں غربت کی شرح 44.2 فی صد تھی جب کہ 2016۔ 17 میں یہ کم ہو کر 14.8 فی صد پر آ گئی۔ دوئم شرح خواندگی میں اضافہ، سویم طویل عمری اور خوراک کے محفوظ ذخائر۔
اس وقت بنگلہ دیش کی جی ڈی پی 409 ارب امریکی ڈالرز ہے جبکہ عالمی معیشت میں اس کا نمبر 33 واں ہے۔ سال 2021 میں بنگلہ دیش کی جی ڈی پی گروتھ 6.8 فی صد تھی جبکہ سال 19۔ 18 میں یہ 8.2 فی صد تک پہنچ گئی تھی۔
بنگلہ دیش کے زرمبادلہ کے ذخائر اگست 2021 میں 48 بلین ڈالرز تھے پاکستان سے دو گنا زیادہ جب کہ 2008 میں یہ ذخائر صرف 7 ارب ڈالرز تھے۔ 2020۔ 21 میں بنگلہ دیش کی برآمدات 45.39 ارب امریکی ڈالرز تھیں جبکہ پاکستانی برآمدات گزشتہ دو دہائیوں سے 25۔ 20 بلین ڈالرز کے درمیان گھوم رہی ہیں۔
بنگلہ دیش کے غیر ملکی قرضے 44 ارب ڈالرز ہیں جبکہ پاکستان کے 116 ارب ڈالرز۔
عالمی اداروں کے تصدیق شدہ معاشی اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ بنگلہ دیشی عوام نے اب ترقی کرنے اور ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
بنگلہ دیشی حکومت اور عوام نے اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا اور اس کو سدھارا ہے۔ بار بار کی فوجی مداخلت اور مذہبی شدت پسندی پر قابو پا کر بنگلہ دیش نے پاکستان کو ترقی کا ایک راستہ دکھایا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments