دسمبر اور سقوط ڈھاکہ کی یاد
دسمبر سال کا آخری مہینہ ہے اس ماہ میں گزرے ہوئے پورے سال کی تلخیاں ذہن میں تازہ ہوکر ٹیس دینے لگ جاتی ہیں۔ اس ماہ کا ایک اور تکیلف دہ پہلو سقوط ڈھاکہ کی یاد ہے اور ہر سال دسمبر کا درمیانی عشرہ نہایت کرب اور بے چینی میں گزرتا ہے۔ ہر سال ان دنوں سقوط ڈھاکہ کے موضوع پر میسر کتابیں پڑھتا ہوں جن میں سر فہرست گھر کے بھیدی بریگیڈیئر صدیق سالک کی کتاب میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ ماضی کی یادیں سینے سے لگا کر اور پچھتاووں میں رہ کر زندگی گزارنا اچھی بات نہیں لیکن ماضی کو مکمل فراموش کردینا بھی درست نہیں۔ دانشمندی یہ ہے کہ ماضی کے تجربات مدنظر رکھ قدم اٹھایا جائے تاکہ مستقبل میں زیاں کا امکان کم سے کم کیا جا سکے۔ میرے خیال میں ہمارے ہاں سقوط ڈھاکہ کی وجوہات پر کھل کر بات ہونی چاہیے اور نئی نسل کو بتانا ضروری ہے کہ انتھک محنت اور بے مثال قربانیوں سے حاصل کیا گیا وطن اپنے قیام کے کچھ ہی عرصہ بعد کیوں دولخت ہو گیا تھا۔ اس بحث کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اس سانحے کو بنگالیوں کی بیوفائی اور اغیار کی سازش سمجھ کر فراموش نہیں کرنا بلکہ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہے۔ نئی نسل کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ خطہ بنگال ہی تھا جس کے فرزندوں نے 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی،اور بعدازاں اسی پلیٹ فارم سے حکیم الاُمت علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا۔ اور قائد ِاعظم کی قیادت میں منٹو پارک میں جو قراردادِ لاہور منظور کی گئی،یہ بنگال کے وزیرِاعظم مولوی فضل الحق نے پیش کی تھی۔ 1945-46ء کے انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ نے مرکز اور صوبوں میں 90 فیصد مسلم نشستیں جیت لیں۔ ان منتخب نمائندوں کا کنونشن اپریل 1946ء میں دہلی میں طلب ہوا، جس میں بنگال کے وزیرِاعظم حسین شہید سہروردی نے ریاستوں کے بجائے صرف ریاست پاکستان کے قیام کی قرارداد منظور کی تھی جس کی بنیاد پر برطانوی حکومت کو ہندوستان کی تقسیم کے منصوبے میں تشکیل ِپاکستان کا مطالبہ منظور کرنا پڑا۔ یہ باتیں ذہن میں رکھتے ہوئے اس امر پر غور ہونا چاہیے کہ صرف ربع صدی بعد اسی خطے میں متحدہ پاکستان کے خلاف بغاوت کیوں پنپی اور مسلم قومیت پر بنگلہ قومیت کیسے حاوی ہو گئی؟نئی نسل کو یہ ضرور بتائیں کہ دونوں بازوئوں کے درمیان کینہ پرور دشمن حائل تھا،جس کے دل میں اتحاد و یگانگت کانٹا بن کر چبھ رہی تھی۔ انصاف سے کام لیتے ہوئے لیکن یہ بھی ماننا پڑے گا کہ یہ واحد عامل نہیں گھر کے اندر اعتماد ہوتا تمام باسیوں کو یکسانیت محسوس ہوتی تو محظ لگائی بجھائی سے دشمن اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکتا تھا۔
ہمارے ہاں عام طور پر مشرقی پاکستان کے سقوط کی وجوہات میں مذہبی،علاقائی اور بین الاقوامی عناصر کا عمل دخل بیان کیا جاتا ہے۔ یہ وجوہات اپنی جگہ درست ہیں تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاسی،سماجی اور معاشی سطح پر ملک کے دونوں حصوں میں انصاف سے کام لیا گیا ہوتا تو نوبت بٹوارے تک نہیں پہنچنی تھی۔ ملک کے دونوں حصوں میں بد اعتمادی کا آغاز قیام پاکستان کے فورا بعد قائداعظم کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا جب اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا۔ اس فیصلے پر احتجاج کو مگر زیادہ اہمیت نہیں دی گئی الٹا کچھ عرصہ بعد مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے سیاستدان خواجہ ناظم الدین کو بھی اقتدار سے علیحدہ کرکے ایک بیوروکریٹ کو بٹھا دیا گیا۔ سول ملٹری بیوروکریسی میں بنگالیوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ نچلے درجے کی ملازمتوں پر اکثر بنگالی تعینات تھے اور ہر وہ کام جو معیوب سمجھا جا سکتا ہے وہ ان سے لیا جاتا تھا۔ مشرقی پاکستان کے تقریبا تمام اضلاع میں بیوروکریٹس مغربی حصے سے تعلق رکھنے والے تھے۔ ان میں سے بیشتر افسران کا طرز عمل مقامی ماتحت عملے سے انتہائی حقارت پر مبنی تھا۔
1956ء میں پہلا آئین بنا تو بنگالی بہت خوش ہوئے اور انہیں کسی قدر تحفظ کا احساس پیدا ہونا شروع ہوا،لیکن 1958ء کے مارشل لاء نے سے ایک بار پھر شدت سے مایوسی کی لہر دوڑا دی۔ ملک کے مشرقی حصے کی آبادی اس وقت 56% جبکہ مغربی حصے کی 54% تھی۔ ملٹری ڈکٹیٹر ایوب خان نے ون یونٹ کے قیام کا اعلان کر کے جب آبادی کے تناسب کے فرق کے باوجود دونوں حصوں کی نمائندگی یکساں کی تو باہم اعتماد کی رہی سہی کسر بھی نکل گئی۔ پھر 65ء کی جنگ میں یہ جواز بتاکر کہ مشرقی حصے کا دفاع مغرب سے جارحانہ حکمت عملی اپنا کر کیا جائے گا بنگالیوں کے دلوں میں موجود بیگانگی کے احساس کو یقین میں بدل دیا۔ بہت کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہوگی کہ مشرقی پاکستان اور بھارت کی سرحد 2700 کلو میٹر طویل تھی۔ اس طویل سرحد کے دفاع کے لیے مشرقی پاکستان میں صرف 25 ہزار فوجی تعینات تھے۔ اس دوران معاشی طور پر ملک کے دونوں حصوں میں عدم مساوات بھی عروج پر تھی۔ اسی سبب مشرقی پاکستان کے عوام کی شکایات بتدریج بڑھتی گئیں جنہیں بنیاد بنا کر شیخ مجیب الرحمن نے چھ نکات پیش کر دیے اور مقبولیت حاصل کر لی۔ اس مسئلے کا منصفانہ سیاسی حل نکالنے کے بجائے چھ نکات کا جواب غداری کے الزامات سے دیا گیا تو شیخ مجیب کی مقبولیت عصبیت میں بدل گئی۔ 1970ء کے انتخابات میں اسی عصبیت کو بروئے کار لاکر مجیب کی جماعت عوامی لیگ نے مشرقی حصے میں تقریبا کلین سوئپ کرکے حکومت سازی کے لیے واضح اکثریت حاصل کرلی۔ اصولی طور پر اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کا حق حاصل تھا لیکن مغربی پاکستان کی اکثریتی جماعت کے سربراہ ذوالفقار بھٹو نے اس وقت کی ہیئت مقتدرہ کی آشیرباد سے پہلے اجلاس میں شرکت سے انکار کیا،بعدازاں پارلیمنٹ کا اجلاس ہی منسوخ کر دیا گیا۔ اسی پر بس نہیں بلکہ ڈھاکہ جانے والوں کو ٹانگیں توڑنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ رد عمل میں ابھرنے والی تحریک کو تشدد سے دبانے کی سعی ہوئی اور حالات قابو سے باہر ہوئے جس کے بعد دشمن کو بھی مرضی کے رنگ بھرنے کا مل موقع مل گیا اور شیخ مجیب نے بھی کھل کر علیحدگی کا مطالبہ کر دیا۔ اس کے بعد جو خونچکاں داستاں گزری،جس اذیت و قیامت سے گزرنا پڑا،جتنی جگ ہنسائی ہوئی،ذلت و رسوائی کے جو جو داغ لگے وہ دہرانے کی ہمت نہیں۔ ہر چیز تاریخ میں رقم ہے۔
تاریخ سبق سیکھنے کی خاطر محفوظ کی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارا مجموعی المیہ ہے کہ ہم تاریخ فراموش کر دیتے ہیں کہ اصلاح کی کوشش نہ کرنی پڑے۔ نہایت دکھ سے کہنا پڑتا ہے حالات آج بھی نہیں بدلے۔ وہی احساسات وہی شکایات اور وہی انداز برقرار ہیں۔ اتنی بڑی قیامت سے گزرنے کے بعد بھی سیاسی سماجی اور معاشی سطح پر نا انصافی اور دہرے معیار میں ہم کمی نہیں لائے۔ نظام مضبوط بنانے کے بجائے شخصیات پر انحصار میں کمی نہیں آئی۔ جمہوریت کو اسی ڈھب پر چلانے پر اصرار اب بھی ہے جس کے ہولناک نتائج سے ہم نا آشنا نہیں۔ اب بھی ریت پر صورتیں بنانے اور مٹانے کا سلسلہ جاری ہے۔ مخصوص سیاستدانوں کو عتاب کا نشانہ اور راندہ درگاہ بنانے کی ریت آج بھی نہیں بدلی۔ آج تک ہم فیصلہ نہیں کر سکے کہ محب وطن کون ہے اور غدار کون۔ اختلاف کرنے والی زبانوں پر قفل ڈالنے اور بتائے گئے راستے سے ہٹ کر چلنے والوں کو پابہ زنجیر کرنے کی نت نئی ترکیبیں اب بھی ایجاد ہوتی ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی باتیں بدقستمی سے آج بھی الزام نہیں حقیقت ہیں۔ شبہ نہیں کہ سقوط ڈھاکہ میں پڑوس میں بیٹھا دشمن ملوث تھا آج بھی وہ ہمیں نقصان پہنچانے کے درپے ہے اور ہمیشہ وہ اس تاک میں رہے گا۔ ہم لیکن ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر جمہوری اقدار مظبوط بنالیں ایک دوسرے کا وجود برداشت کرنے کی عادت ڈال کر معاشی میدان میں مضبوط ہو جائیں تو کسی دشمن کی سازش ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔


