آدھے گنجم آدھے بالم

جیسے حج ہر صاحب استطاعت پر فرض ہوتا ہے ویسے ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں گنجا ہونا ہم پر واجب تھا۔
اماں ابا ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں پکڑ کر گنجا کروا دیتے تھے۔ اور اس کے پیچھے ان کے پاس پوری ایک فلاسفی موجود تھی جو اس قدر متنوع تھی کہ اس میں شعبہ طب سے لے کر سوشل سائنسز تک اور اخلاقیات سے لے کر مذاہب عالم تک کے مضامین آتے تھے۔
بڑے بالوں والے لونڈے کو آوارہ مزاج اور بگڑا ہوا تصور کیا جاتا تھا۔ ایک بار ہمیں یاد ہے کہ ہم چوتھی جماعت میں پڑھتے تھے جب ہمارے جوئیں پڑ گئیں۔ یہی دسمبر کا مہینہ چل رہا تھا۔ اس دن چاند رات تھی۔ اماں نے اس قدر ڈرایا کہ ہمیں لگا کہ اگر ابھی اور اسی وقت گنجے نہ ہوئے تو جوئیں سر کی جلد کو سد سکندری سمجھ کر چاٹ جائیں گی اور ہمارا سارا دماغ بالکل ویسے کھا جائیں گی جیسے ہم لوگوں کا کھاتے ہیں۔ لیکن اگلی صبح عید تھی۔ ہمارا دل اتنی بڑی قربانی پر تیار نہ تھا۔ اماں نے آخری پتہ پھینکا کہ اگر ابھی گنجے ہوآتے ہو تو پورے پانچ روپیے دوں گی۔
ہم آناً فاناً باریک مشین پھروا آئے۔ اگلے دن ٹھنڈ میں سر پر ٹوپا چڑھائے پھرے۔ سکول کی استانی کے گھر صبح صبح سویاں دینے گئے تو خوب ہنسی اور کہنے لگی کہ جویں اگر اتنی زیادہ ہوگئیں تھیں تو جہاں اتنے دن انتظار کیا ایک عید کا دن بھی کاٹ لیتے۔ اس دن ہمیں سمجھ آیا کہ لالچ واقعی کتنی بری بلا ہے۔
چھٹی،ساتویں،آٹھویں حتی کہ میٹرک میں بھی گرمیوں کی چھٹیاں آئیں تو ابا نے گنجا کروا دیا۔ اس دن ہم بہت روئے۔ ابا چونکہ جگری دوست ہے تو اس سے بہت لڑے بھی۔ گلے شکوے کئے کہ جوان بیٹے کو گنجا کروا دیا۔ دراصل نویں جماعت میں آتے ہی جب سے ہم نے اجے دیوگن کی دل جلے فلم دیکھی تھی ہمیں لگتا تھا کہ ہم اب جوان ہوگئے ہیں۔ اوپر سے کسی نے کہہ دیا کہ تمہارا ہیئر اسٹائل پف اور شکل اجے سے ملتی ہے۔ اب لگتا ہے کہ اس ظالم نے جلد کا رنگ اور ہمارے دانت دیکھ کر یہ بات کہی تھی۔ بس جب ہم پف ماتھے پر ڈال کر چلتے تو بیک گراؤنڈ سے خوامخواہ "شاکا شاکا” کی آوازیں آتی تھیں۔ یہ تو تھے ہمارے بانک پن اور اس پر ہمیں کروا دیا گیا گنجا۔ احتجاج تو بنتا تھا۔ ابا نے پھر چپ کروایا۔ منایا۔ اور کہا یار تیری بھلائی کے لئے کروایا ہے۔ بال مضبوط ہوجائیں گے۔ ورنہ اگر گر گئے اور سر ہتھیلی ایسا ہوگیا تو کیا کرے گا؟ یہ والے تو آ بھی جائیں گے۔ اڑ گئے تو کیسے آئیں گے؟
ساتھ ہی کہا تم اتنا روئے ہو آئندہ نہیں کرائیں گے تم کو گنجا۔ گرمی میں تھوڑی ہوا لگ جاتی ہے سر کو۔ خیر تمہاری مرضی۔
بس جی پھر نویں کے بعد آج تک گنجے نہ ہوئے۔ خدا نے بال دیے تھے بہت خوبصورت اور گھنے۔ وہ جو شعرا نے محبوب کی زلفوں کو کالی گھٹا سے تشبیہہ دی ہے بالکل ویسے۔ اتنے گھنے کہ کنگھی نہ پھرتی تھی۔ ہمیں ہمیشہ سے یہ ڈر رہا کہ ابا کی پیش گوئی پوری نہ ہوجائے اور سر ہتھیلی نہ ہو جائے۔ لہذا اب تک جی بھر کر ہر قسم کا ہیئر اسٹائل رکھا۔
سنجے دت والی لمبی زلفوں سے لے کر ٹام کروز جیسے سپائکس تک بنائے۔ ایک وقت میں پونی بھی ڈالی۔ اجے والا سٹائل تو خیر تھا ہی اپنا ٹریڈ مارک۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ دھڑکا ہمیشہ لگا رہا کہ بال گر رہے ہیں۔ اور تیزی سے گر رہے ہیں۔ لہذا دنیا بھر کے خواتین و حضرات میں جس قدر ٹونے ٹوٹکے رائج ہیں سب کے سب اس درویش نے اپنی کھوپڑی پر آزمائے ہیں۔ صرف ایک گوبر رہ گیا جو نہیں لگایا ورنہ نہ جانے کن کن دواؤں کا لیپ کیا ہے، ہر سہ ماہی یا ششماہی باقاعدہ دھی انڈے سے دھویا ہے، جب جدید دور آیا تو پروٹین واش کرایا ہے۔ کوئی تیل نہیں چھوڑا۔ جس تیل کی خبر ملی کہ یہ بال گھنے اور مضبوط کرتا ہے اسی کی مالش کی۔ کوئی دیسی دوا، سیکاکائی،ریٹھا آملہ پیاز کا جوس۔ ۔ ۔ ۔ کیا ہے جو ان بالوں کی حفاظت کے لئے مستعمل نہ رہا۔ کالا کولا ہیئر ٹانک تو اب تک لگاتے ہیں۔
پر افسوس صد افسوس اب لگتا ہے کہ ابا حضور کی پیش گوئی پوری ہونے کا وقت آیا چاہتا ہے۔ گو کہ ابھی مشتاق یوسفی صاحب کی طرح یہ عالم تو نہیں آیا کہ معلوم ہی نہ ہو پیشانی کہاں ختم ہوئی اور سر کہاں سے شروع ہوا لیکن اتنا ضرور ہے کہ آگے کے بالوں میں مانگ نکالنے کے بعد سائیڈیں جو پہلے خالی خالی سی نظر آتی تھیں اور ہم اسے مردانہ وجاہت سے تعبیر کر لیا کرتے تھے اب گنجی گنجی سی نظر آنا شروع ہوئیں۔ ہم گبھرا گئے۔ فوراً مانگ کا رخ تبدیل کیا۔ اور دوسری طرف سے نکالنا شروع کی۔ اس سے دو چار مہینے عافیت میں گزرے تھے کہ اس طرف کا بھی وہی حال ہوا۔
اب بہت پریشان ہوئے۔ نائی کو پرانی تصویر دکھا کر کہا ایسے بال کاٹو۔ کیا ہوگیا ہے تمہیں؟
کہنے لگا سوہنیو ! مینوں نئیں تواڈے والاں نوں کجھ ہوگیا اے۔
مجبوراً اب اس ڈھب سے بالوں کو کنگھی کرتا ہوں کہ کسی طرح گنج نظر نہ آئے۔ مگر کہاں تک۔ ہر گذرتے دن کے ساتھ جلد زیادہ نظر آنا شروع ہورہی ہے اور وہ دن قریب ہیں کہ آدھے گنجم آدھے بالم۔
لوگ کہتے ہیں کہ بال گرتے ہیں تو دولت آتی ہے۔ وہ بھی نہیں آرہی۔
بات یہ ہے کہ اس مسئلے پر جتنی ریسرچ ہم نے کی ہے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں رائج زمانہ تمام ڈھکوسلے اور ماہرانہ آرا جو بال بچانے کے واسطے دی جاتی ہیں سب کی سب بکواس ہیں۔ آپ گرتے ہوئے بالوں کو نہیں روک سکتے۔ جب شریف برادران نہیں روک سکے تو کیا آپ کے پاس ان سے زیادہ وسائل ہیں جو آپ روک لیں گے؟جس کے گرنے ہیں اس کے لازمی گریں گے۔ جس کے نہیں گرنے اس کے بڑھاپے میں بھی نہیں گریں گے۔ ابھی تک اس کو روکا نہیں جا سکا ہاں مستقبل قریب میں قوی امکانات ہیں کہ جین تھیراپی کی مدد سے اس کو ختم کردیا جائے گا ۔ سب جینز کا کھیل ہے۔ اس میں ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کا بھی بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ جو کہ مردوں میں زیادہ مقدار میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے آج تک کوئی خاتون گنجی نہ دیکھی ہوگی۔
خاکم بدہن میں نے مگر دیکھی ہے۔ اہل فرنگ کی فلموں میں دیکھی ہے۔ آپ بھی کہیں گے مُڑ پھِر کر یہ اسی ٹاپک پر آجاتا ہے ۔ یا اللہ میرے صغیرہ کبیرہ معاف فرما۔
Facebook Comments HS

