ایمانداری کا فقدان


Dr Shahid M shahid
مال و دولت کی بڑھتی ہوئی حرص و ہوس نے انسان کی نفسیات کو ایک ایسے زاویے پر موڑ دیا ہے یہاں ایمانداری کی سمت  ٹیڑھی اور رنگت زنگ آلود نظر آتی ہے ۔اگر لفظ ایمانداری کو الہیاتی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ روح القدس کا میٹھا پھل ہے جو ایک ایماندار کی فطرت کو لگتا ہے۔جس  کی تاثیر اور خوشبو اپنے لاجواب اوصاف کی بدولت دلوں کو موہ لیتی ہے ۔اگرچہ یہ ایک عالمگیر سچائی و طاقت کی زنجیر  ہے جو لوگ اسے اپنے گلے کا طوق بناتے ہیں ۔ وہ اس کی افادیت  وکرامات کو  اپنے ایمان و عمل کی بدولت  عالمگیر تاثیر کا کینوس پھیلانے میں سرگرم نظر آتے ہیں ۔
جس کی خوشبو اور راج سخت اور غیر ہموار زمین سے بھی  محسوس ہونے لگتا ہے  ۔اس مقصد کے لیے فقط آنکھوں میں بصارت ہونی چاہیے تاکہ وہ دور کی چیزوں کو بھی مشاہداتی تجربات سے  دیکھ سکے ۔ہر چیز کی استعداد قبولیت اور اثرپذیری ہوتی ہے ۔البتہ اوصاف کاری شخصیت کے خدوخال نمایاں کر دیتی ہے تاکہ جانچ پڑتال میں کھرے اور کھوٹے کی پہچان ہو سکے ۔کیونکہ اوصاف اپنے روپ میں اجنبی نہیں ہوتے بلکہ دوستی کے پر پھیلاکر دوسروں کو سایہ فراہم کرتے ہیں تاکہ ہر ذی کو اس بات کا احساس ہو کہ اوصاف کی حاکمیت کس قدر کشش و تاثیر  کی حامل ہے ۔جن اذہان و قلوب میں مثبت سرگرمیوں کا گوشوارہ جمع ہوتا ہے وہاں سے یہ وقتافوقتا باہر آتے رہتے ہیں ۔
البتہ جن لوگوں کی زندگیاں ایمان و عمل سے خالی ہوتی ہیں انہیں بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،خاص طور پر وہ ذہنی اور نفسیاتی امراض میں گر جاتے ہیں ۔ہر وقت الجھنیں اور پریشانیاں ان کا تعاقب کرتی ہے ۔ان کی طبیعت میں بے چینی کا عنصر نمایاں ہوتا ہے ۔وہ آرام و سکون کے لئے ادویاتی سہارا لیتے ہیں ۔نا انہیں گھر میں چین اور نا باہر ۔انہیں اکثر عجیب و غریب وسوسے تنگ کرتے ہیں ۔ان  سے صبر و اطمینان چھن جاتا ہے ۔وہ طرح طرح کے بحرانوں میں گر جاتے ہیں ۔چہرے پر ہر وقت اداسی کی کیفیت طاری رہتی ہے ۔زندگی سے ایثار وفا کا جذبہ ناپید ہو جاتا ہے ۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے ہمارے معاشرے سے ایمانداری کا فقدان کیوں پیدا ہو رہا ہے۔آخر وہ کون سے محرکات ہیں جو دیمک بن کر ہماری ان بنیادی صفات کو  چاٹ رہے ہیں اور ہماری نفسیات کا رخ ایک ایسے زاویے پر موڑ رہے ہیں جن پر بدنظمی ، بداخلاقی اور بد تہذیبی کی  مثلث بنتی ہے ۔جب کوئی بھی معاشرہ ایسی راہ پر محو سفر ہوتا ہےجہاں کانٹے اور اونٹ کٹارے آگے ہوتے ہیں جو سفر کو دشوار اور زندگی کو جرائم کے خاکہ  سے بھر دیتے ہیں ۔جو بڑھتے بڑھتے اتنی اونچی دیوار بنا لیتے ہیں جنہیں عبور کرنا بھی  ناممکن ہو جاتا ہے ۔جب ہماری زندگی میں ایسے آثار و کیفیات پیدا ہو جائیں تو سب سے پہلے ہماری اپنی شخصیت مسخ ہوتی ہے ۔ہمارے چہرے پر ندامت کی سلوٹیں پڑ جاتی ہیں ۔ہم کسی کا سامنا نہیں کر سکتے بلکہ اپنے آپ کو چھپاتےاور کوستے ہیں ۔جس کا پہلا نقصان ہم خدا سے دور ہو جاتے ہیں اور دوسرا بڑا نقصان لوگ ہم سے بدظن ہوجاتے ہیں ۔
اگر اس بات کا فطری تجزیہ کیا جائے تو یہ کائنات اس کی تخلیق کا منہ بولتا ثبوت ہے جس میں حقائق کی  پرتیں موجود ہیں جو ہمیں اس بات کا احساس فراہم کرتی ہیں کہ
اے بنی آدم ! اپنے اندر شعور ،علم،  پاکیزگی اور روحانیت پیدا کر تاکہ تو ان صفا ت سے واقف ہو جائے جو ہر بشر کی بنیادی ضرورت ہے ۔کاش!
 تو ریاضت کے ذریعے ان گناہوں اور علتوں کو چھوڑ سکے جس نے تیری زندگی سے ان صفات کو چھینا ہے ۔اگر تیرے ضمیر کی عدالت تیرے دل کے دروازہ پر دستک دیتی ہے تو اسے سننے میں دیر نہ کر بلکہ تیرے کان ان صفات کو سن کر انہیں فوری طور پر دل و دماغ تک منتقل کر دیں تاکہ تو بہت سی قباحتوں اور برائیوں سے بچ سکے ۔
پھر  تیرے دل میں نئے سرے سے ایمانداری کا جنم ہو اور تو اس صفت کی پرورش کر کے اسے  قد آور بنا تاکہ دوسرے اسے دیکھ کر اپنائیت کا لباس پہن سکیں ۔یہ سب کچھ تیرے کرنے سے ہوگا ۔ اس مقصد کے لئے تجھے تجربات و مشاہدات کے میدان میں اترنا پڑے گا ۔یاد رکھ اگر تو دلچسپی کی پرکار گمھائے گا تو تیری ایمانداری کا لٹو خوب  گھومے گا ۔تیرے اندر حرکت آئے گی اور وہ تجھے توانائی فراہم کرے گی ۔تیرے ارادوں کو جذبات کی گرمائش مل جائے گی ۔تو آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا ۔نا تیرے پاؤں کو ٹھیس لگے گی اور نا تو گرنے  پائے گا ۔تیرے نصیب کے کھیت میں ہریالی نظر آئے گی اور تو خوشی سے اپنی فصل کاٹے گا ۔تجھے کسی چیز کی کمی نہ ہوگی بلکہ تیرا ہاتھ بابرکت ہوگا وہ بہتوں کے لیے برکات و فضائل کا باعث بنے گا ۔تجھے خوشی و خرمی  ملے گی ۔تجھے اپنے مقدر کا ستارہ نظر آئے گا اور وہ تیری پل پل رہنمائی کرے گا ۔
تجھے تیری اس خوبی کے باعث وہ برکت ملے گی جس کا وعدہ قوموں کے ساتھ ہے ۔لوگ تجھے رشک و تحسین کی نگاہ سے دیکھیں گے وہ اپنے لبوں سے تیرے نام و کردار کی تعریف و توصیف کریں گے ۔تیری جوانی عقاب کی طرح ہو جائے گی ۔تیرے اعصاب اور پروں میں وہ  مخفی قوت پیدا ہوجائے گی جو تجھے اڑنے کی قوت دے گی  اور تیرے جسم و روح میں تھکاوٹ کا احساس بھی پیدا نہیں ہونے دے گی ۔ یہ ایک فطری عمل ہے اگر تو اس کی پیروی کرے گا تو کامیابی تیرے  قدم چومے گی ۔تجھے گرانے والے خود گر جائیں گے ۔ان کے منفی جذبات ناکام ہو جائیں گے ۔وہ تنہائی اور ذلت کا شکار ہوں گے لیکن تو خوش قسمت ہو گا تجھے وہ اجر ملے گا جس کی بابت تو نے سوچا بھی نا ہوگا ۔ ہاں اگر تجھے یاد آئے یہ سب کچھ تیرے ایک فیصلے کی تقدیر نے کیا ہے ۔تیری سوچ آسمان و زمین کی وسعتوں میں پرواز کرے گی کیونکہ تو نے گناہ سے نفرت اور خدا کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کیا ہے ۔
اے میرے بیٹے تو نے اس راز کو پا لیا ہے ۔تو نے اپنے ایمان کی حفاظت کی ہے ۔تو  نے اپنے جسم وروح سے اس گندگی کو دھویا ہے جو تیرے ماتھے کا جھومر بننے والی تھی ۔تو نے اپنی زندگی میں عین وقت پر اس فیصلے کو مسلط کیا جہاں تیری دنیا اور آخرت سنورتی ہے ۔تو نے گناہ کا دروازہ بند کر کے میٹھے پانی کا چشمہ کھودا ہے ۔جہاں ہر پیاسا آ کر اپنی پیاس بجھائے گا ۔کاش ہماری سمت درست ہو تاکہ ہم اپنی منزل پر پہنچ جائیں اور راستے میں حائل ان رکاوٹوں کو ہٹا تے جائیں  جو تاخیر کا سبب بنتے اور آگے بڑھنے سے روکتی ہیں ۔
میں نے رویا میں ان تمام باتوں کو دیکھا جس میں فوائد و نقصانات کا الگ چارٹ تھا ۔جس نے میری رشد و رہنمائی کرکے مجھے برباد ہونے سے بچا لیا ۔میرے ذہن و قلب کے بند دروازے کھل گئے ۔مجھے شعور و آگاہی مل گئی تھی ۔مجھے سچ اور باطل کا پتہ چل گیا تھا ۔اب میرے منفی رجحانات و تصورات  جل کر راکھ ہو گئے تھے۔اب میری سوچ میں ایک قوت پیدا ہو چکی ہے جو مجھے منفی قوتوں کا مقابلہ کرنا سکھاتی ہے ۔کیونکہ آج میں ایک آزمائش پر غالب آیا ہوں ۔میں اسی طرح اپنی ایک ایک  آزمائش کو چننا چاہتا ہوں اگر اسی طرح اس مشق کو جاری رکھوں گا تو غلبہ میرے مقدر کا ستارہ ہوگا ۔میرے اندر سے مثبت تحریک کے چشمے جاری ہوں گے جن سے بہتیرے فیض پائیں گے۔
میں اس حقیقت کو اپنے تک محدود رکھنا نہیں چاہتا ۔بلکہ میں اسے  معاشرتی فلاح و بہبود کے لئے عام کرنا چاہتا ہوں ۔تاکہ ایک شمع سے دوسری روشن ہو کر اپنا حدود اربعہ وسیع کرتی جائے ۔اگر آج میری آنکھوں میں بصارت ہے تو میں چاہتا ہوں کہ وہ  دوسروں کے پاس بھی ہو ۔اسی طرح میں اپنے تخیلات کو بھی دوسروں کے لئے منظور نظر کرنا چاہتا ہوں ۔اپنے قلبی احساسات کو اپنی ذات تک محدود رکھنے کی بجائے انہیں اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھ کر پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ ان کی چمک اور وراثت دوسروں کو منتقل ہو سکے ۔یقینا صحت بخش تصورات دوسروں کی ہڈیوں کے لیے تروتازگی کا باعث بنتے ہیں ۔البتہ سوچ اپنی اپنی ، مشاہدہ اپنا اپنا ، استعداد قبولیت اپنی اپنی ، منشور اپنا اپنا ، تعلیم و تربیت اپنی اپنی ، ترجیحات و مفادات اپنے اپنے ۔اگرچہ ہر چیز کا چناؤ ہر انسان کی فطرت پر منحصر ہوتا ہے ۔
آج ان باتوں کے پس پردہ ہمیں اس بات کا کھوج لگانا ہوگا اور نئے سرے سے اپنی زندگی کا تجزیہ کرنا ہوگا ۔کیا  میری زندگی میں ایمانداری کا پھل ہے جس کی خوشبو اور راحت  دوسروں کے دلوں کو بھاتی ہے ؟ صرف ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عملی میدان میں اتر کر اس بات کا زندہ ثبوت فراہم کریں کہ ہم ان اعلی صفات کو اپنا کر زندگی کو خوبصورت بنائیں گے ۔اسے سنواریں گے ۔ا سے بچائیں گے ۔اپنے اندر تحریک سے ان معجزات کو پائیں گے شاید جن کے بارے میں ہم نے کبھی سوچا بھی نہ ہو ۔تو پھر آئیں  اپنے سارے عذر اور بہانے چھوڑ کر ایمانداری کی طرف قدم بڑھائیں تاکہ ہم جیسے جیسے اس کے قریب جائیں ہم قوت ارادی سے لبریز ہوتے جائے تاکہ ہمارا مستقبل ایسا درخشاں ہو جائے تاکہ ہمیں دنیا اور آخرت میں شرمندگی نہ اٹھانی پڑے ۔
Facebook Comments HS