سیالکوٹ نے ہمارے سر جھکا دیے


کچھ دن قبل سیالکوٹ کے ایک کمپنی میں سری لنکن شہری پر مبینہ طور پر توہین مذہب کا الزام لگایا۔ سری لنکن شہری تحریر نہیں جانتا تھا کیونکہ ان کو اردو کی سمجھ نہیں تھی کہ کیا لکھا ہے پھر بھی کمپنی میں کچھ لوگوں نے ان کو مارنے کی کوشش کی لیکن مارنے کے بعد بھی مذہبی جنونیت ان لوگوں پر اتنی سوار تھی کہ اسلام کے دائرے سے نکل کر کمپنی کے باہر سڑک پر ان کو قتل کیا یہ ایک دلخراش اور اندہناک واقعہ تھا ایک شہری ایسا بھی تھا جس نے سری لنکن شہری کو بچانے کی کوشش کی لیکن وہ بھی ناکام رہا ان کا نام "ملک عدنان” ہے عمران خان نے ان کی کوشش کی تعریف کی اور پرائم منسٹر ہاوس میں ان کو بلایا لیکن یہ اسی دوران ایک ہی شہری تھا۔
آج اسی ماں کو جن کے بیٹے کو یہاں جلایا گیا اس کے ماں آج چلا رہی تھی آنکھوں میں کوئی ایک بھی حصہ نہیں تھا جو خشک تھی آج اسی ماں کی قصوروار اور ذمہ دار ہم ہی ہے مجھے تو شرم محسوس ہوتی ہے اس طرح کے انتہا پسندی اور رجعت پسندی پر کہ اس میں ایک ماں کو بیٹے سے محروم کیا جاتا ہے وہ ماں کتنی بدعائیں دیگی مجھے ڈر لگتا ہے کہیں ان کے بد دعاوں سے ہمارے پیارے وطن کو کچھ نہ ہو جائے اسلام زبردستی کا دین تو نہیں ہے یہ تو امن پسند دین ہے جو لوگوں کو جینے کا طریقہ سمجھاتا ہے جو انسانیت کے قدر کرنے کا درس دیتا ہے
ماں جی کے آنکھوں میں آنسو دیکھ کر میں تو بے چین ہو گیا ہوں بلکہ آج تو مجھے نیند نہیں آئیگی اللہ نہ کریں اگر میرے اور آپ کے ساتھ کسی اور ملک میں ہوجائے تو ہمارے ماووں کی حالت دیکھنے کی نہیں ہوگی ؟ ہم نے آج انسانیت کا قتل کیا ہے کوئی ایک انسان کا نہیں کیا دنیا میں اب کوئی چاہے گا کہ پاکستان میں نوکری کرنے جائے ؟
کل ایک لڑکی سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے ایک سوال عوام پر چھوڑا کہ اخبارات میں لپیٹ کر سموسے اور پکوڑے کھانا اور پھر اسی کاغذ کو پھینک دینے سے آپ کو اسلام یاد نہیں آتا اس نے کہا اسلام تو ہمیں سیکھاتا ہے کہ جنگ میں بھی بچوں کا خیال رکھو ایک اور لڑکے سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے کہا کہ آج اس واقعے نے ہمارے دلوں اور اعضاء کو ہلا کر رکھ دیا اس نے کہا اب ہم ان کی ماں کو کیسے سمجھائیں گے کہ دین اسلام تو امن کا دین ہے اس میں تو راستے سے پتھر اٹھانے کا حکم ہے اس نے کہا ہم پاکستانی ہے لیکن ہماری اپنی زندگی خطرے میں ہے کیونکہ یہاں مذہب کے نام پر قتل عام ہو رہا ہے
 بگڑے ہوئے پاکستان میں اس طرح کے دردناک اور المناک واقعات دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں سری لنکن شہری نے کوئی توہین نہیں کی تھی بلکہ اپنے فرض شناسی کی وجہ سے ان پر کوئی بدبخت مسلمان برہم تھے اور اپنے فرض کو نبھانے کا درس تو ہمارے دین نے ہمیں سیکھایا ہے لیکن حسد اور بغض بھی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا
آج میں شرم کی وجہ سے سر نہیں اٹھا پاونگا بلکہ اس سوچ میں مبتلا ہو گیا ہے کہ ہم آخر کس طرح مسلمان ہے کہ قتل عام مذہب کے نام پر کرتے ہیں اسی پر فخر کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے نئے پاکستان میں بھی یہ المناک واقعات نہیں رکتے ملک عدنان نے اچھا کردار ادا کیا ہے لیکن ریاست کیا کریگی ایک سوال آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں اس کا جواب آپ ہی دینگے کہ کیا ریاست کہیں اپنی نااہلی کو چھپانا تو نہیں چاہتی ؟
Facebook Comments HS