سینگار نوناری کا جرم کیا تھا؟


چھبّیس جولائی سنہ دو ہزار اکیس کی نصیر آباد، سندھ کی رات کتنی اندھیری اور خاموش تھی لیکن اتنی ہی پر سکون بھی۔ دن بھر کی بھاگ دوڑ اور تھکن کے بعد سینگار نوناری اس کی بیوی اوربچے خوابوں کی دنیا میں کھوئے ہوئے تھے۔ اچانک ایسے لگا کہ صور پھونک دیا گیا ہے، کوئی سفید کپڑوں میں ملبوس خلائی مخلوق دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو چکی تھی، چیزوں کو ادھر ادھر پھینک رہی تھی اور گھر کے پورے سامان کی تلاشی لے رہی تھی۔ جب انہیں کچھ نہ ملا تو انہوں نے سینگار کی آنکھوں پہ پٹی باندھی اور ساتھ لے گئی۔ بیوی شور مچاتی رہ گئی کہ اس کا جرم کیا ہے، بچے بلبلاتے رہ گئے لیکن کوئی جواب نہیں ملا اور نہ ہی کوئی چارج شیٹ دی۔ اس سانحہ کے باوجود سینگار نوناری خوش قسمت تھا کہ اس کو کئی اوروں کی طرح ہمیشہ کے لئے غائب نہیں کیا گیا۔ عوامی ورکرز پارٹی اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے اپنے تئیں سینگار کی بازیابی کے لئے بھر پور مہم چلائی اور آخر کار سینگار نوناری کو یکم اگست کو رہا کر دیا گیا۔

نامعلوم افراد، نا معلوم جگہ، نا معلوم مستقبل! آخر سینگار کا جرم کیا تھا؟

ایک غریب کسان کا بیٹا جو کچھ پڑھ لکھ گیا تھا، جس نے اس کے ارد گرد بنائی ہوئی ذہنی دیواروں کو توڑ کر سوچنا شروع کر دیا تھا، پھر وہ غریبوں کا ہمدرد بن گیا خیرات کی حد تک نہیں بلکہ ایک مزدوروں اور کسانوں کی پارٹی کے پلیٹ فارم پہ انہیں ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے منظم کرنے لگ گیا۔ اہلِ اقتدار دیکھ رہے تھے کہ یہ کون ہے جو ہماری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ رہا ہے، جو نا انصافیوں کو قسمت کا دیا ہوا سمجھ کر قبول نہیں کر رہا، جو ناصح کی اس بات پہ عمل نہیں کرتا کہ یہاں چپ چاپ غربت اور افلاس کی زندگی گزار لو گے تو اگلی دنیا میں بہشت پا لو گے، جو ہمارے آگے جھک کر نہیں چلتا، اور ایسا ڈھیٹ کہ اپنے ضمیر کو نہیں بیچتا، ایسا بے وقوف جو متاعِ غرور کا سودا نہیں کرتا۔ جب ایک بہت مشہور و معروف شخصیت نے اس کے علاقے کی زمینوں پہ قبضہ کرنا چاہا تو اس چھوٹے سے شخص نے اس قبضہ گیری کے خلاف مہم شروع کردی، جھکی ہوئی گردنوں والے کسانوں کو ورغلانا شروع کر دیا، سوئے ہوئے انسانوں کو جھنجھوڑنا شروع کر دیا، بند زبانوں کو بولنے سے آگاہ کر دیا، بے نور آنکھوں کو بصیرت کی کرنوں سے متعارف کروادیا۔ ایسا انسان جس کے جرائم کی فہرست اتنی لمبی ہو اس کو اٹھا کر غائب نہیں کرایا جائے گا تو اور کیا ہو گا! شاید اس لوٹ کھسوٹ کے ٹولے کو یہ نہیں پتا کہ ایک دن، کبھی نہ کبھی ایک دن

یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی

Facebook Comments HS

One thought on “سینگار نوناری کا جرم کیا تھا؟

  • 18/12/2021 at 8:41 شام
    Permalink

    REVOLUTIONARY ARTICLE WITH STRONG POLITICAL MESSAGE

Comments are closed.