چاچے رکشے والے کے واقعات


جیسے زمین و آسمان کے بیچ درمیان آئیڈیاز موجود ہیں ویسے ہی سوچ کو کریدنے والی کہانیاں بھی گردو نواح میں موجود ہوتی ہیں مجھے بھی چند
کہانیاں یوں چلتے پھرتے مل جاتی ہیں میں عمومی طور پر پبلک ٹرانسپورٹ کم ہی استعمال کرتا ہوں لیکن آج کا سارا دن تقریبا پبلک ٹرانسپورٹ میں گزرا دفتر سے واپسی پر میں سپیڈو بس کامنتظر تھا اور ایک خوش باش رکشے والے نےمیرے سامنے بریک لگائی کہنے لگے کہاں جانا ہے میں نے کہا اکبر چوک کہتے اُس سے آگے کہاں؟ میں نے بتایا کالج روڑ کہتے وہاں کہاں میں نے احتیاطا پوچھا کہ کرایہ کیا لیں گے کہتے "یا علی مدد” بیٹھیں بس چھوڑیں اس بات کو میں بھی بیٹھ گیا انکل کا باتیں کرنے کا موڈ تھا اسی اثنا میں شادی ہالز کے پاس سے گزر ہوا کہتے ” سر جی یہ لوگ دیکھیں شادیوں پر آئے ہیں رکشوں پر رکشہ دور روک کر پیدل جا رہے ہیں کہ لگے گاڑی پر آئے ہیں مجھے ایسا کام بالکل نہیں پسند جب نہیں ہے نہیں ہے جب مالک دے گا تو آجائے گی” خیر یہ بات آئی گئی ہو گئی ساتھ ہی انکل نے واقعات سنانے شروع کیے
کہتے صاحب جی مجھے میرے بیٹے کے لیے کسی نے ایک رشتہ بتایا کہ اچھے لوگ ہیں میں نے یہ چیک کرنے کے لیے بالکل پرانے کپڑے پہنے سائیکل لی اور رشتہ دیکھنے چلا گیا کہتے میرا دل تھا چیک کروں کہ واقعی اچھے ہیں یا بس!!!!!
جاتے ساتھ ہی میں نے بتایا کہ میرے پاس کوئی جمع پونجی جائیدادیں نہیں ہیں ہاں البتہ آپکی بیٹی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اس بات پر لڑکی کی دادی نے کہا آپکو بتاتے ہیں جب کہ دادا جی نے کہا
آپکو بتاتے ہیں کچھ دنوں تک(اس کا مطلب بھی تقریبا جواب ہی ہوتا ہے) اور دادا جی نے ہاں کر دی آج تو انہوں نے کہا مٹھائی منگوا لیں تو میں نے جب پانچ ہزار کا نوٹ نکال کر دیا تو وہ بہت حیران ہوئے میں نے کہا اب میں چیک کر چکا ہوں کہ آپ لوگ اچھے ہیں خیر ساتھ ہی کہنے لگے مجھے بھوک لگی تھی اور کھانا میں گھر سے ہی کھاتا ہوں جو بھی ہو جائے( جس انداز سے وہ جا رہے تھے اندازہ بھی یہی ہو رہا تھا)  اسی دوران ایک خاتون نے اشارہ کیا اور بہت جھجک کر پوچھا لنک روڑ جانا ہے بھائی انکی آواز بہت مشکل سے ہی میرے کان تک پہنچی بیٹھتے ہی انہوں نے کہا بھائی میرے پاس پیسے نہیں ہیں ڈرائیور نے کہا باجی ” اللہ پتہ نہیں کیہڑے کماں وچ راضی اے”آپ بے فکر ہوجائیں اب ایک واقعہ انکل انکو سنائے بغیر کیسے رہتے؟ جب انکا ارادہ بنا مجھے میرا ایک شاعر دوست( جو بعدازاں شاعر ہونے سے بھاگ گیا) یاد آگیا وہ مجھے ڈی ایچ اے بلاتا تھا کھانا کھلا کر اپنی تین تین صفحات پر مشتمل غزلیں و نظمیں سناتا تھا خیر انکل نے کہا باجی اے اللہ دیاں مرضیاں نیں اسی کو ایں؟ کہتے میں سواری کی تلاش میں تھا اڈے پر ایک لڑکی مجھے بہت پریشان نظر آرہی تھی پوچھنے پر پتہ چلا کہ اسکا پرس کسی نے چھین لیا ہے(پرس اور موبائل ان دنوں بھی کھینچے جا رہے ہیں یا پولیس جم متحرک ہے یا چور زیادہ متحرک) میں نے اس سے پوچھا کوئی رشتے دار یہاں رہتا ہے اُس کے بتانے پرجہاں اسکو چھوڑا تھا وہیں ایک لڑکی آئی انکل مجھے فورا سے ائیرپورٹ چھوڑ دیں میں آپکو تھوسنڈ روپے دوں گی کہتے مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ پروردگار نے سواری بھیجی ہے اورپیسے پوری کر دیے ہیں  اشارے پر بہت رش تھا کہتے اور ہم ائیر پورٹ کے قریب تھے لڑکی کہنے لگی جتنے منٹ وقت سے پہلے پہنچائیں گے میں ایک منٹ کا سو روپیہ دوں گی اس طرح اُس سواری نے مجھے دو ہزار روپیہ دیا اور یہ شاید پورے دن کی کمائی کے برابر تھا اور مجھے پکا یقین ہے کہ یہ سبب اللہ نے بنایا تھا یہ واقعہ اس لیے سنایا ہے اللہ اپنے بندوں کام لے رہا ہوتا ہے یہ کہتے ہیں مجھے کہتے ہاں جی اب آپ کو تھوڑا سا سفر کرنا پڑے گا میں باجی کو لنک روڑ اتار لوں اس طرح میں اکبر چوک پر اتر گیا انکو سو روپیہ دیا بقایا دینے لگے میں نے کہا آپ رکھ لیں وہ بھی مسکرائے میں بھی مسکرایا اور ہم چل دیے مجھے پکا یقین ہے لنک روڑ تک پہنچنے سے پہلے انکل نے سواری کو ایک واقعہ اور ضرور سنایا ہو گا
قارئین ہم محبت و خدمت سے سرشار قوم ہیں اور خدمت کا نام یہ نہیں کہ آپ کے پاس لاکھوں روپے ہوں آپکی ایک مسکان یا چھوٹا سا عمل بھی خدمت کے سارے تقاضے پورے کر سکتا ہے
Facebook Comments HS