کیا محدود اوورز کے میچز کرکٹ ہیں؟
کسی زمانے میں کرکٹ کا کھیل صرف ٹسٹ میچوں تک ہی محدود ہوا کرتا تھا۔ ہر ٹسٹ میچ 5 روزہ ہونے کے باوجود بھی شائقین کیلئے اتنی کشش رکھتا تھا کہ اسٹیڈیم تماشائیوں سے اس بری طرح بھرجاتا تھا کہ شائقین نشستیں پُر ہوجانے کے بعد باؤنڈری لائن تک آکر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ اسٹیڈیم کی ارد گرد کی ایسی عمارتیں جہاں سے میچ دیکھا جا سکتا تھا، دیکھنے والے ان کی چھتوں اور بالکونیوں سے میچ کا نظارہ کیا کرتے تھے۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ 5 روزہ کرکٹ کے اس مقابلے کو "ٹسٹ” کیوں کہا جاتا تھا؟۔ گزرے زمانے میں ٹسٹ کرکٹ کے زیادہ تر مقابلے "بڑے” دنوں یا باالفاظِ دیگر سخت گرمیوں کے زمانے میں ہی کھیلے جاتے تھے۔ یہ محض اس لئے ہوتا تھا کہ کھیل سورج کی پوری روشنی سے شروع ہو کر پوری روشنی ہی میں اختتام پذیر ہو۔ ایک جانب گرمیوں کی پوری دھوپ اور دوسری جانب سخت لو میں کھلاڑیوں کو میدان میں پورے چھے گھنٹے گزارنا، ہر کھلاڑی کا پہلا "ٹسٹ” یعنی آزمائش ہوا کرتی تھی کہ وہ موسم کے یہ سخت گرم گھنٹے کیسے گزارتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانے کے کرکٹرز جسمانی لحاظ سے آج کل کے کھلاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ توانا ہوا کرتے تھے۔ یہ تو اس کی جسمانی آزمائش ہوا کرتی تھی لیکن وہ آزمائشیں یا جانچ جو کرکٹ کے ہنر کہلایا کرتی ہیں، اس سے بھی زیادہ سخت ہوا کرتی تھیں۔ گیند بازوں کا ایک ہی دن میں بیس بیس اوورز کرانا، فیلڈنگ کرنے والوں کا سارا سارا دن گیندوں کے تعاقب میں دوڑیں لگانا۔ وکٹ کیپر کا سارا دن چاق و چوبند رہنا۔ کسی بھی کھلاڑی پر تھکن سوار نہ ہونا۔ ہر گیند کو اس کے مطلوبہ معیار کے مطابق کھیلنا۔ کوئی بھی غیر روایتی شاٹ نہ کھیلنا۔ اکثر وقت کے تقاضوں مطابق کریز میں وقت گزارنا۔ کبھی معمول سے زیادہ تیز رفتاری کا مظاہرہ کرنا اور کبھی سارا سارا دن 100 دوڑیں بھی نہ بنانا جیسے سارے ہنر کی آزمائش کا نام ٹسٹ یا باالفاظِ دیگر "کرکٹ” کہلایا کرتی تھی۔ کیونکہ ہر ملک کا کھلاڑی کرکٹ کے ان سارے رموز کو نہ صرف جانتا تھا بلکہ اسے اپنے ملک کی عزت و غیرت سمجھتا تھا اس لئے دنیائے کرکٹ کی ہر ٹیم اس وقت کی بہر لحاظ ایک مضبوط ٹیم ہوا کرتی تھی۔ ہر ٹیم اور ٹیموں کا ہر کھلاڑی کیونکہ کرکٹ کو "پٹھو گرم” یا ” گلی ڈنڈے” کی طرح نہیں کھلا کرتے تھے اس لئے زیادہ تر میچ اپنے حتمی فیصلوں تک پہنچنے سے قبل ہی اختتام پذیر ہو جایا کرتے تھے۔ ٹیموں کا ایک دو نہیں، پورے پانچ دن میدان میں گزارنے کے باوجود بھی اپنے مقررہ وقت میں غیر فیصلہ کن میچ کھیلنا اس بات کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ ہر کھلاڑی کرکٹ کو کتنی سنجیدگی کے ساتھ لیتا ہوگا اور ثابت کرتا ہوگا کہ ٹسٹ کرکٹ واقعی اس کے کرکٹر ہونے کی کتنی پڑی آزمائش ہے۔ ٹسٹ میچوں کے غیر فیصلہ کن میچوں کی وجہ سے دنیائے کرکٹ کے جتنے بھی ذمہ داران ہیں انھوں نے یہ سوچنا شروع کردیا تھا کہ کیوں نہ ٹسٹ میچوں کے دنوں میں اضافہ کر دیا جائے۔ ایسا تو نہ ہو سکا لیکن کرکٹ کو ایک نئی شکل ضرور دے دی گئی۔ اول اول "ون ڈے” کرکٹ کا نام دے کر اس کو 50 اوورز تک محدود کر دیا گیا۔ دیکھا جائے تو یہی وہ موڑ تھا جہاں کرکٹ اور کرکٹ کے کھلاڑیوں، دونوں کے زوال کا سفر شروع ہوا اور کرکٹ "لگ گیا تو تیر نہیں تو تکا” میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی۔ اس پر مزید زوال اس وقت آیا جب ٹی ٹونٹی کرکٹ کا آغاز ہوا۔ پچاس اوورز کے کھیل تک جو کرکٹر آدھے "گلی ڈنڈے” والے بن چکے تھے، ٹی ٹونٹی نے ان کو "پٹھو گرم” والا بنا کر رکھ دیا۔
غور کریں کہاں پانچ دن چھے چھے گھنٹے، وہ بھی سخت دھوپ میں فیلڈ میں موجود رہنے والا کھلاڑی، چند گھنٹے میدان میں رہنے کا عادی ہو جائے، وہ بھی دن کی گرمی سے زیادہ رات کے خوشگوار ماحول میں، جس کو صرف چند اوورز پھینکنے ہوں یا چند گیندوں کا سامنا کرنا ہو تو اس میں کیا کرکٹ رہ جائے گی اور کیا اس کی توانائیاں قائم رہیں گی۔ ان محدود اوورز میں وہ تیروں کے نشانوں کا نہیں تکوں کی بے تکیوں کے مظاہروں کے علاوہ اور کیا ہنر دکھا سکے گا۔
ففٹی ففٹی میں تو پھر بھی ہر بالر کو دس اوورز مل جاتے ہیں جس کی وجہ سے اس کے پاس اپنا ہنر دکھانے کا موقع مل جاتا ہے۔ بلے باز بھی اگر سلیقے سے کھیلے تو وہ کافی زیادہ گیندیں کھیل سکتا ہے لیکن ٹی ٹونٹی میں گیند باز اپنے 4 اوورز میں صرف اپنے آپ کو خراب کرنے کے علاوہ اور کیا کر سکتا ہے۔ اسے جتنی بھی وکٹیں حاصل ہوتی ہیں وہ مخالف کھلاڑی کے تکے کو تیر بنانے کی کوشش میں ملتی ہیں ورنہ پانچ دس اوورز کسی عام سے کرکٹر کیلئے گزار جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔
ففٹی ففٹی ہو یا ٹی ٹونٹی، ان دونوں میں سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ بہت ہی کم ایسا ہوتا ہے کہ ٹیم کے ہر کھلاڑی کو بیٹنگ کا موقع میسر آئے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ابتدائی کھلاڑی ہی وقت پورا کردیا کرتے ہیں۔ وہ کھلاڑی جو مڈل آرڈر کھلاڑی کہلاتے ہیں ان کا ریکارڈ بڑے بڑے ٹورنامنٹوں میں صفر رہ جاتا ہے۔ ان کے ریکارڈ کا اس طرح صفر تک محدود رہ جانا اور کچھ کا نہایت شاندار بن جانا کیا کرکٹ کا مثبت پہلو کہلایا جا سکتا ہے؟۔
محدود اووروں کی اس کھیل کو اگر پٹھو گرم یا گلی ڈنڈے کا کھیل بننے سے بچانا ہے تو اس کا نام کرکٹ کی بجائے کچھ اور رکھنا ہوگا نیز یہ کہ اگر گیند بازوں پر 4 یا 10 اووز کی قدغن لگانا قانون بنا دیا گیا ہے تو 50 اور 20 اوورز کے کھیل میں بلے بازوں پر بھی اسی قانون کے مطابق علی الترتیب 30 اور 12 بالیں کھیلنے کی قید لگانی چاہیے تاکہ ہر ٹیم کے سارے بلے بازوں کو یکساں موقع مل سکے۔


