راشد منہاس پاک فضائیہ کا وہ بہادر سپوت ہے جس پر قومیں فخر کیا کرتی ہیں۔جن کے نام کی مالا جپتی ہیں۔جنہیں چراغ بنایا جاتا ہے اور جن کے کارناموں کو مثال بنا کر نوجوانوں میں وطن کی آن پر مرمٹنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔راشد منہاس نوجواں فلائیٹ افسر جو ابھی ٹرینگ کے مراحل میں تھا اور ابھی پختہ کار نہ ہواتھا،جس کی عمر ابھی بیس سال تھی اور نوکری شروع ہوئے بمشکل چھ ماہ ہوئے تھے وطن پر قربان ہو کر امر ہو گیا۔وہ اپنی پہلی سولو فلائیٹ کے لئے اڑان بھرنے والا تھا ،جب اسی کے انسٹرکٹر مطیع الرحمان نے طیارہ ہائجیک کرکے انڈیا لے جانے کی کوشش کی۔جس میں وہ کامیاب نہ ہوا۔دونوں کی جان گئی۔طیارہ پاکستانی حدود میں کریش ہوا اور راشد منہاس امر ہو گیا۔اس کو نشان حیدر دیا گیا۔وہ پاکستان کا نشان حیدر پانے والا کم عمر ترین فوجی اور پاکستان ایر فورس کا پہلا افسر تھا۔
یہ اگست 1971 کی بات ہے۔ مطیع الرحمان پاکستان ایر فورس کا بنگالی افسر دو ماہ کی چھٹیاں ڈھاکہ میں گزار کر آیا تھا۔وہ چھٹیوں کے دوران اپنے گاوں میں بنگلہ لبریشن فرنٹ کے لوگوں کو تربئیت دیتا رہا تھا۔چھٹیوں کے اختتام پر کراچی واپس آیا ،جہاں اس کی پوسٹنگ تھی۔وہ یہ جہاز ہائی جیک کرکے انڈیا لے جانا چاہتا تھا ۔مطیع الرحمان کو پاکستان کا غدار قرار دیا گیا۔
دسمبر 1971مشرقی پاکستان پر انڈیا کے حملے کے بعد ڈھاکہ کا محاصرہ جاری تھا۔کوئی ایک لاکھ فوج وطن کا دفاع کر رہی تھی۔فتح یا شکست کسی بھی جنگ کا انجام ہوتی ہے جس کے لئے ہر سپاہی ذہنی اور جسمانی طور پر ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔اس کی تربئیت ہی یوں ہوتی ہے کہ مرنا ہے یا مارنا ہے ۔فتح ہے یا شکست۔ڈھاکہ میں مگر اس تربئیت کے برعکس مرنے مارنے سے فوجی قیادت نے پرہیز کیا اور ہتھیار ڈال دئیے۔اتنی بڑی فوج کے ساتھ ہتھیار ڈالنے کا واقعہ شائد پہلی بار ہوا تھا۔جنرل نیازی نے یہ ذلت برداشت کی۔
بنگلہ دیش بن گیا۔بنگلہ دیش بنے کا عمل آزادی کی تحریک قرار پایا۔مطیع الرحمان جو پاکستانی ہیرو راشدمنہاس سے لڑتا ہوا مارا گیا تھا اپنے وطن کا ہیرو قرار پایا۔اور بنگلہ دیش نے اسے سب سے بڑے ملٹری اعزاز "بیرسرشتو” سے نوازا۔جیسور کا ایر بیس مطیع الرحمان کے نام سے منسوب ہے۔مطیع الرمان کے نام سے فلائنگ ٹرینگ ایوارڈ ،فلائنگ میں اعلیٰ ٹریننگ کرنے والوں کو دیا جاتا ہے۔ایر فورس کے بہت سارے ڈائننگ ہال مطیع الرحان کے نام ہیں۔اس کے نام اور کام پر بنگلہ دیش میں فلمیں بنائی گئی ہیں۔ 2006 میں ایک طویل مذاکرات کے نتیجے میں مطیعالرحمان کی ڈیڈ باڈی پاکستان سے بنگلہ دیش لے جائی اور سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کی گئی
راشد منہاس کو نشان حیدر سے نوازا گیا۔پاکستان کامرہ ایربیس کو راشد منہاس ایر بیس کا نام دیا گیا۔راشد منہاس کے نام سے ڈاک کے ٹکٹ جاری کئے گئے۔کراچی میں بچوں کا ایک سکول راشد منہاس کے نام پر ہے گوکہ اس کی حالت پاکستان کے عام سکولوں کی طرح بدتر ہے۔ڈھائی سو بچوں کے لئے دو استاد ہیں مگر بچے پھر بھر بھی پڑھ کر راشد منہاس بننا چاہتے ہیں۔قومیں اپنے ہیروز کی عزت کرتی ہیں۔یہ ہیرو وطن کو آزاد رکھنے کے لئے اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کیا کرتے۔ راشد منہاس نوجوان تھا۔پاک ایرفورس کا سب سے چھوٹا افسر تھا۔جہاز میں نہتا تھا۔اس کے پاس اسلحہ نہیں تھا۔اس کا دشمن چالاک،تربئیت یافتہ اور شاطر تھا مگر وطن کی محبت اور وطن کی آن پر قربانی کا جزبہ غالب تھا،مر کر ہمیشہ کی زندگی پا گیا۔ جنرل نیازی کے پاس ابھی کافی اسلحہ تھا،نوے ہزار فوجی جوان جو اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار تھے۔مگر جنرل نیازی میں جان قربان کرنے کا جزبہ ناپید تھا ۔پاکستان میں راشد منہاس کے نام بہادری اور عزت کی علامت جبکہ جنرل نیازی کے نام پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔