نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان اختلافات کا ”پس منظر“
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے درمیان اختلافات کا آغاز کب ہوا اس بارے میں کوئی بات حتمی طور نہیں کہی جا سکتی 34 سالہ ”دوستی“ میں میاں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان کئی بار اونچ نیچ آئی لیکن دونوں کے درمیان دوستی قائم رہی لیکن 5 سال قبل دونوں کے درمیان کیا ہوا کہ نہ صرف ”سپیکنگ ٹرمز“ ختم ہو گئے بلکہ دونوں کے سیاسی راستے جدا ہو گئے۔
میں پچھلے 5 سال سے میاں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان ”دوریوں اور فاصلوں“ بارے اصل حقائق کی تلاش میں ہوں تاحال میں تہ تک نہیں پہنچ سکا میری میاں نواز شریف سے ”دوستی“ اتنی ہی پرانی ہے جتنی چوہدری نثار علی خان سے لیکن جب تک دونوں کے درمیان گہری قربت تھی مجھے کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی لیکن جب سے دونوں کے درمیان دوریاں گہری ہو گئیں میرے لئے دونوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لندن مقیم میاں نواز شریف اور جاتی امرا کی مکین مریم نواز مجھے چوہدری نثار علی خان کیمپ میں تصور کرتے ہیں جب کہ چوہدری نثار علی خان ہر ملاقات میں مجھے نواز شریف کی ”محبت“ کا طعنہ دیتے ہیں میں نے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں میاں نواز شریف سے ملاقات کے دوران ان سے چوہدری نثار علی خان کے ساتھ ”کٹی“ کی وجہ دریافت کی تو ان کی آنکھوں میں اداسی چھلکنے لگی وہ صرف اتنا ہی کہہ سکے ”نواز رضا صاحب! زندگی نے مہلت دی تو پھر اس موضوع پر بات کروں گا“
میں نے بار ہا یہی سوال چوہدری نثار علی خان سے مسلم لیگی رہنما شاہین خان کی رہائش گاہ ”گولڑہ ہاؤس“ میں کھانے کی میز پر کیا لیکن وہ بھی مٹھی کھولنے کے لئے تیا ر نہیں تاہم انہوں نے ایک بار کہا کہ ”اوہ ایہہ سمجھدے ہیں میں انہاں (فوج) پے آں“ (نواز شریف یہ سمجھتے ہیں میرا جھکاؤ فوج کی طرف ہے ) انہوں نے مجھے بڑی دردمندی سے کہا کہ ”میں نے 34 سال ایک شخص سے وفاداری نبھائی آج مجھ سے میری وفاداری بارے میں سوال کرنے کا کوئی جواز نہیں۔“ انہوں نے کہا کہ مجھ پر نواز شریف کے ”سیاسی“ قرض کی بات کی جاتی ہے لیکن جب حساب کتاب کیا جائے گا تو میرا پلڑا ”بھاری“ ہو گا۔ پچھلے دنوں میاں نواز شریف نے میری والدہ محترمہ کی وفات پر تعزیت کے لئے فون کیا تو بھی میں نے ان کو مشورہ دیا کہ ”آپ چوہدری نثار علی خان سے تعلقات کیوں استوار نہیں کر لیتے یہ صلح آپ اور آپ کی پارٹی کے لئے سود مند ہو گا“ چند لمحوں کے لئے ہمارے درمیان خاموشی طاری رہی کچھ توقف کے بعد انہوں نے صرف اتنا کہہ کر ”رب العزت ہی بہتر کرے گا“ بات ختم کر دی۔
پچھلے دنوں چوہدری نثار علی خان کے سیاسی حریف راجہ قمر الاسلام نے میاں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان ”ناراضی“ کی اصل وجہ یہ بتائی کہ ”مسلم لیگ (ن) کے گھر ڈاکا پڑ گیا تو کنڈی کھولنے والے چوہدری نثار علی خان تھے“ میں نے ان کے استدلال سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ ”کیا چوہدری نثار علی خان نے نواز شریف کو فوج سے سینگ لڑانے کا کہا تھا“ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان آخری وقت تک نواز شریف کی فوج سے لڑائی کو موخر کراتے رہے چوہدری نثار علی خان نے ہمیشہ مشکل وقت میں میاں نواز شریف کے راستے کے کانٹے چنے ہیں دونوں جانب ”پر اسرار خاموشی“ سے عقدہ حل نہیں ہو پا رہا ان کی یہ خاموشی میرے لئے تعلقات کا توازن قائم رکھنے میں حائل ہے میرے ”مرشد خاص“ مجاہد ختم نبوت آغا شورش کاشمیریؒ اکثر کہا کرتے تھے کہ ”سیاست دان کے ہاتھ میں رحم کی لکیر نہیں ہوا کرتی“ یہ ان کی طویل سیاسی زندگی کا نچوڑ تھا آج کے سیاسی دوست کل کے دشمن ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کی سیاست میں میاں نواز شریف نے عروج و زوال دیکھا ہے تیسری بار وزیر اعظم بننے کا اعزاز بھی صرف نواز شریف کو حاصل ہوا ہے میں بھی نصف صدی کی سیاست کا طالبعلم ہوں پچھلے تین عشروں سے زائد میاں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے ”قربت اور فاصلوں“ کا عینی شاہد ہوں ان کے درمیان ہونے والی ”ناراضیوں“ اور ”صلح صفائی“ کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں جب میاں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان فاصلے بڑھ گئے تو میاں نواز شریف کے قریبی حلقوں نے انہیں ”اقتدار انجوائے“ کرنے کا طعنہ دیا ”ناراضی“ اور ”خوشی غمی“ کا تعلق ختم ہونے کے باوجود دونوں نے کبھی ایسی بات نہیں کہی جس سے دونوں کے درمیان ”راز داری“ کا بھرم ختم ہو گیا ہو۔
میاں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان اس قدر گہری دوستی تھی کہ مسلم لیگ (ن) کے 80 فیصد فیصلے چوہدری نثار علی خان کی مرضی سے ہوا کرتے تھے لہذا مسلم لیگ (ن) میں میاں نواز شریف کی آشیر باد حاصل کرنے کے چوہدری نثار علی خان کی ”گڈ بک“ میں ہونا ضروری ہوتا تھا میاں نواز شریف کے اقتدار کو زوال آنے کے بعد تیزی دونوں کے درمیان تعلقات کار میں اس حد تک کشیدگی پیدا ہو گئی کہ میاں نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاسوں کے شرکاء کی فہرست سے اچانک چوہدری نثار علی خان کا نام خارج کر دیا گیا میاں نواز شریف کے سپریم کورٹ سے نا اہل قرار دیے جانے کے بعد چوہدری نثار علی خان وزیر اعظم ہاؤس میں میاں نواز شریف کے پاس گئے کہا کہ میں آج اپنا دل صاف کر کے آپ کے پاس آیا ہوں میں آپ کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔
چوہدری نثار علی خان پنجاب ہاؤس میں میاں نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاسوں میں شرکت بھی کرتے رہے ان کی موجودگی میں میاں نواز شریف نے جی ٹی روڈ کی بجائے موٹر وے کے ذریعے لاہور جانے کے پروگرام کو حتمی شکل دی گئی اور یہ طے پایا کہ جب میاں نواز شریف چکری پہنچیں گے تو چوہدری نثار علی خان لاہور تک خود ان کی گاڑی ڈرائیو کر کے لے جائیں گے لیکن چوہدری نثار علی خان کے اٹھ کر جانے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ”ہارڈ لائنرز“ نے لاہور جانے والے جلوس کا روٹ تبدیل کرا دیا۔ میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان سیکیورٹی کے پیش نظر جی ٹی روڈ کی بجائے موٹر وے کے ذریعے لاہور جانے پر مصر تھے یہ کوئی ایسا اختلاف نہیں تھا جو ختم نہ کیا جا سکتا ہو پھر جب میاں نواز شریف کا جلوس فیض آباد کے راستے مری روڈ سے گزرا تو چوہدری نثار علی خان نے ان کا استقبال کیا اور نہ ان کے قافلے کا حصہ بنے پارٹی کے اندر چوہدری نثار علی خان کے مخالفین اس معاملہ کو ”کیش“ کرایا اس کے باوجود کچھ زیادہ نہیں بگڑا تھا جاتی امراء میں میاں نواز شریف ”مہمان خاص“ (چوہدری نثار علی خان ) کا انتظار تھا ایک دو روز قبل میاں نواز شریف کی جانب سے چیدہ چیدہ صحافیوں کے اعزاز میں دی جانے والی ضیافت میں ایک اخبار نویس کے سوال کے جواب میں غالباً پرویز رشید نے چوہدری نثار علی خان کے بارے میں کچھ ایسے ریمارکس دیے جس کے بعد چوہدری نثار علی خان نے جاتی امراء میں میاں نواز شریف سے ملاقات کا پروگرام ہی منسوخ کر دیا۔
چوہدری نثار علی خان ان ہی قدموں سے لاہور سے واپس اسلام آباد آ گئے جن قدموں پر چل کر وہ لاہور گئے تھے یہی وہ ”ٹرننگ پوائنٹ“ ہے جب میاں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان اختلافات میں میں شدت کا باعث بنا وہ کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی کا آغاز میاں نواز شریف کرتے تھے لیکن سمیٹنا مجھے پڑتی تھی انہوں نے دو ایسے واقعات کا ذکر بھی کیا کہ ایک بار انہوں نے کوئی ایسا کام کر دکھایا جس کا شکریہ ادا کرنے میاں شریف اپنی فیملی کے ہمراہ فیض آباد آ گئے تو میں نے ناراضی کا اظہار کیا کہ مجھے حکم کرتے تو میں خود حاضر ہو جاتا تو انہوں نے کہا کہ ”نثار جو کام تم نے کر دکھایا ہے اس کا شکریہ ادا کرنے تمہارے گھر آنا ضروری سمجھتا تھا“ ۔
دوسری بار جب سعودی عرب میں جلاوطنی کے ایام میں میاں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان سرور پیلس میں صلح ہوئی تو میاں شریف نے اپنے دو معاونین کی مدد سے وہیل چیئر سے اٹھ کر جب تک انہیں گلے نہیں لگا لیا اس وقت انہیں آگے قدم نہیں اٹھانے دیا چوہدری نثار علی خان اکثر کہا کرتے ہیں کہ ”میرے ساتھ جو کچھ بھی ہوا اس ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب ہم میں میاں شریف نہیں رہے وہ زندہ ہوتے تو نواز شریف کو میرے ساتھ اس قسم کا رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہ دیتے۔
جب اسلام آباد کی ممتاز شخصیت حاجی نواز کھوکھر کی رہائش گاہ پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی بنیاد رکھی گئی تو اس وقت اسلام آباد میں کوئی ہوٹل یا کوئی شخص مسلم لیگ (ن) کا کنونشن منعقد کرنے کے لئے جگہ دینے کے لئے تیار نہ تھا حاجی نواز کھوکھر کی رہائش گاہ پر 15، 16 مسلم لیگی رہنماؤں میں سے میاں نواز شریف کے مسلم لیگ (ن) کی صدارت کا تاج سجانے کے لئے راہ ہموار کرنے والوں میں چوہدری نثار علی خان پیش پیش تھے
میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز جب چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کرتی تھیں تو وہ ان کو اپنا آئیڈیل قرار دیتی تھیں پھر چچا اور بھتیجی کے درمیان ”قیادت“ کے ایشو پر ایسا اختلاف پیدا ہوا کہ چوہدری نثار علی خان میاں نواز شریف سے بہت دور ہو گئے کیوں کہ انہوں نے ٹیکسلا میں ایک پریس کانفرنس میں مریم نواز کو پارٹی کے صدر کے طور پر قبول نہ کرنے کا اعلان کر کے ان کے پارٹی صدر بننے کی راہ میں رکاوٹ ڈال دی تھی
مسلم لیگ (ن) میں میاں شہباز شریف ہی واحد شخصیت رہ گئے تھے جو نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان صلح کرا سکتے ہیں لیکن وہ بھی ناکام رہے نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان صلح کرانے کا آخری موقع بیگم کلثوم نواز اور بیگم شریف کی وفات پر فاتحہ خوانی اور میاں نواز شریف کی عیادت تھا لیکن چوہدری نثار علی خان میڈیکل چیک اپ کے لئے لندن بھی گئے لیکن میاں نواز شریف کی عیادت نہیں کی میرے پاس میاں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان ”قربتوں اور دوریوں“ کے بارے میں بہت کچھ ہے دیوان لکھے جا سکتے ہیں۔

