ابلیس لعین مکار اعظم (حصہ دوم)


ابن آدم دن رات 3 طرح کے امتحان سے گزرتا ہے لیکن ان میں سے کسی کو بھی ہدایت کا ذریعہ نہیں بناتا نہ اس سے نصیحت حاصل کرتا ہے، پہلا یہ کہ حضرت انسان کی عمر روزانہ کم ہو رہی ہے مگر وہ ان سانسوں کی آمد و شد کو آخری مہلت سے پہلے نہ غنیمت جانتا ہے اور نہ اس کی پرواہ کرتا ہے، انسان کی فطرت عجیب ہے وہ ایسے کہ دنیا میں ایسے رہتا ہے جیسے ہمیشہ رہے گا مگر مر اس طرح جاتا ہے جیسے کبھی تھا ہی نہیں، جب کبھی اس کے مال میں کوئی کمی واقع ہوتی ہے تو اسی پریشانی و بے چینی میں اس کی بھوک اور پیاس اڑ جاتی ہے اور نیند پلکوں کی چلمن سے روٹھ جاتی ہے، مگر عمر رائگاں کے زیاں کا اسے نہ کوئی افسوس ہوتا ہے اور نہ کوئی ملال۔ جبکہ مال و دولت کا حصول دوبارہ بھی ممکن ہو سکتا ہے مگر عمر رفتہ کی ہر گھڑی انمول ہے اور ہر گزرتا لمحہ آپ کے حساب میں سے منفی ہوتا جا رہا ہے جس کا ادراک کوئی بھی نہیں کرنا چاہتا۔ دوسرا ہر روز اللہ تبارک و تعالی کا عطاء کردہ رزق کھاتا ہے مگر اس کے تقاضوں سے غفلت برتتا ہے، وہ ایسے کہ اگر مال کو کسب حلال سے کمایا تو اس کا بھی حساب دینا ہو گا اور اگر خدا نخواستہ لقمہ حرام دانستہ یا سہوا شامل کر لیا اور اس کا تسلسل برقرار رکھا تو موجب سزا کا خدشہ ہے مگر حضرت انسان اس طرف دھیان دینا اپنے وقت کا ضیاع سمجھتا ہے، تیسرا ہر گزرتا دن انسان کو آخرت کے قریب کرتا جاتا ہے مگر وہ اندیشہ فردا کی فکر سے مفر اختیار کر کے صرف فانی دنیا کے حصول میں مگن اور سر گرداں ہے جب کہ ارضی نعمتوں کا حساب بھی ہو گا اور ان کو تا دیر دوام بھی نہیں جب کہ اصولاً تو یہ ہو کہ جب لمبا سفر درپیش ہو تو زاد سفر بھی اسی حساب سے رکھنا چاہیے تاکہ راستے کی صعوبتیں سفر کی منزل کو کھوٹا نہ کر دیں، کیونکہ یہ صرف ستار العیوب ہی جانتا ہے کہ راہی ملک عدم کا ٹھکانہ بہشت بریں ہے یا واصل فی النار والسقر، سوائے رحمت الہی کے بیڑا پار لگنا ممکن نہیں، ہاں مگر اس ذات پاک کا فضل شامل حال تو کھوٹا بھی کھرا ہو سکتا ہے، الغرض کہ دنیا میں سے بھلے جی بھر کر سمیٹ لیا جائے تو کیا، فانی دنیا سے تو سکندر ذوالقرنین بھی خالی ہاتھ گیا تھا جس نے دریافت دنیا پر ایک وقت حکومت کی تھی، ساتھ دنیاوی مال و متاع نہیں جائے گا تیرا وہ ہے جو تو نے کھا لیا اور پہن لیا یا اعمال صالحہ کر کے زاد راہ بنا لیا باقی جو جوڑ گیا وہ ان وارثان کا ہے جن کے پاس تجھے یاد کرنے کی فرصت بھی بھلے ہوگی کہ نہیں، اگر اولاد کی اچھی تربیت کر دی یا خیر العمال کرلئے جو صدقہ جاریہ یا توشہ آخرت بن کر تیری روح کی طمانیت کا موجب بنیں تو یہ تیری خوش نصیبی ہوگی۔ جب کہ قارئین کی سماعتوں کی نذر حضرت یوسف ؑ کی دعا کرتا چلوں جب آپ ؑ نے فرمایا تھا ”اے رب کریم مجھے فوت کرنا اس حال میں کہ میں مسلم و فرمانبردار ہوں اور مجھے صالحین کا ساتھ دے دے“ یہ دنیا دار العمل ہے اور اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، ریاکاری کی عبادت مکر و فریب سے بنے ہوئے جالے سے بڑھ کر کچھ نہیں، اگر اس دنیا کی حقیقت جاننا چاہیں تو اس کو مچھر کا پر اور دھوکے کا گھر قرار دیا گیا ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ باطنی بصارت کے در وا کیے جائیں، اس تمہید کے بعد میں اپنے آج کے موضوع کی طرف آتا ہوں جو کہ شیطان لعین کی مکاریوں، تاریخ اور حالات سے اپنے قارئین کو کماحقہ آگاہی دینے کی سعی کرنا ہے۔ اس خیر اور شر کی جنگ کی بناء حسد سے پڑی تھی، جب ایک ناری مخلوق (جو کہ نسل جنات سے تھا ) کے دل میں یہ خیال وارد ہوا کہ میں جو کہ اتنی بڑی فضیلتوں کا حامل جس نے قریہ قریہ اور چپہ چپہ خالق کائنات کی تقدیس و تسبیح میں لاکھوں سال گزار دیے، جو کہ اس درجہ کاملیت کا حامل ہوا کہ معلم الملکوت کے بلند مقام پر متمکن ہوا، اس ہستی کا تعارف میں اپنے گزشتہ کالم میں کروا چکا ہوں کہ اس کو عزازیل بھی کہا گیا مگر جب اپنے حسد کی آگ میں جل بھن کر اس کو ابو البشر سے عناد پیدا ہواء اور اسی دشمنی کے سبب رب العزت و عظمت کے حکم کی سرتابی کی جسارت کی تو اس کو راندہ درگاہ قرار دے کر ابلیس ملعون کے لقب سے ملقب کر دیا گیا، یعنی لعنت اخروی کا طوق اس کے گلے میں پہنا کر مطعون کر دیا گیا، جب تمام نوری مخلوق کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ سب حضرت آدم ؑ کو سجدہ کریں، کیوں کہ میں ان کو اپنا نائب مقرر کرتا ہوں اور یہ اشرف المخلوقات کے درجہ عظیم پر فائز ہوں گے، تو اس سجدہ تعظیمی کی اصل حکمت تو خلاق العلیم و لبصیر کو ہی معلوم تھی مگر میرے ناقص علم کے مطابق ایک مقصد کھوٹے اور کھرے میں امتیاز پیدا بھی کرنا تھا۔ عزازیل یا معلم الملکوت کا نام لوح محفوظ پر ازل سے ہی ابلیس لعین لکھا ہوا تھا کیونکہ خالق کل جہاں کو معلوم تھا کہ یہ رزیل رزالت سے باز نہیں آئے گا۔ چونکہ ابلیس نسل جنات میں سے تھا جو کہ خالق کائنات کی پیدا کردہ مخلوقات میں سے ہے جس کے بارے میں قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالی ہے۔

( اور جنوں کو اس سے بھی پہلے بے دھوئیں کی آگ سے پیدا کیا تھا (Surah Hijr Ayat 27 ) )

قرآن کریم مزید ارشاد فرماتا ہے ( اور ہم نے جن اور انسان کو نہیں پیدا کیا مگر صرف اپنی عبادت کے لئے ) ۔ اب چونکہ اللہ جل شانہ نے جنات اور انسان دونوں کی پیدائش کا مقصد بیان فرما کر حجت ہی تمام کردی۔ ارشاد ربانی ہے۔ ( اور ہم نے جن اور انسانوں کو نہیں پیدا کیا مگر صرف اپنی عبادت کے لئے )

اب کچھ باتیں قارئین کے گوش گزار کرنا از حد ضروری ہیں۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالی تمام مخلوقات کے خالق ہیں اسی طرح نبی کریم ﷺ کو بھی قیامت تک کے زمانے کے لئے ہادی برحق رسول بنا کر بھیجا گیا، اسی طرح قرآن کریم بھی جنوں اور انسانوں دونوں کے لئے منبع ہدایت ہے۔ اللہ تعالی کی یہ اپنی حکمت ہے کہ جنات اور شیاطین کو انسانوں سے پوشیدہ رکھا گیا، حالانکہ جنات اور شیاطین کی تعداد انسانوں کی تعداد سے بہت ہی زیادہ ہے۔ پوشیدہ رکھنے میں ایک رمز یہ بھی تھی شاید کہ ایک مخلوق کو دوسری مخلوق سے کوئی حرج نہ ہو۔ مگر سبحان اللہ روز قیامت معاملہ بالکل مختلف ہو گا۔ جب انسان اور جنات جنت میں جائیں گے تو انسان تو جنات کو دیکھ سکیں گے مگر جن انسانوں کو نہیں دیکھ سکیں گے اور یہ وصف ہی شرف انسانی یا اشرف المخلوقات ہونے کی دلیل ہے کہ دنیا میں تو جنوں کو دیکھے بغیر تسلی سے اپنی عبادت کریں اور جنت میں جنات کو بھی دیکھ سکیں، فرشتوں کو بھی اور رب العالمین کو بھی جب کہ جنات کو اتنی قدرت اور فضیلت حاصل نہیں۔ اب رہا سوال کہ ان کو جن کیوں کہا جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ مخفی رہتے ہیں یعنی چھپے ہوئے یا جن کو رات نے ڈھانپ لیا یا جو عام انسانی آنکھ سے اوجھل ہوں۔ حضرت ابن عباس کے مطابق جب اللہ پاک نے ابو الجنات کو سموم یعنی بے دھوئیں کی آگ سے پیدا فرمایا تو اس سے پوچھا گیا کہ تمہاری کوئی تمنا یا التجاء ہو تو بتاو۔ اس نے درخواست کی کہ ہم تو دیکھیں مگر ہم کو کوئی نہ دیکھے، دوسرا ہم زمین میں چھپ کر رہ سکیں، تیسرا ہمارا بوڑھا بھی جوان ہو کر مرے۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب جنات 100 سال کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں تو اللہ کے حکم سے 40 سال کے جوان کی حالت میں آ جاتے ہیں۔ تو جیسا جنوں کے باپ نے اللہ تعالی سے التجاء کی تھی اللہ نے اس کی درخواست کو شرف قبولیت بخشا۔ اب وہ خود تو دیکھتے ہیں مگر دوسروں سے مخفی رہتے ہیں، جب مرتے ہیں تو زمین میں غائب ہو جاتے ہیں اور ان کا بوڑھا بھی جوان ہو کر مرتا ہے۔ یعنی حالت شباب پر لوٹا دیا جاتا ہے پھر موت اس کو آ لیتی ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں انسانوں سے پہلے جنات زمین پر اور فرشتے آسمان پر رہتے تھے اور وہی آسمان اور زمین کی آبادی تھے، ہر آسمان کے الگ فرشتے تھے اور ہر آسمان کی نماز، تسبیح اور دعا مقرر تھی، اور ہر اوپر کے آسمان والے اپنے نیچے کے آسمان والوں سے زیادہ دعا کرنے والے تھے، زیادہ نماز اور تسبیح کرنے والے تھے، پس آسمان کے آباد کندگان فرشتے تھے اور زمین کے جنات۔ جنات کے کئی درجے اور قسمیں ہیں جیسا کہ حضرت جوہری (ابراہیم بن سعید ابو اسحاق محدث عظیم بغدادی) فرماتے ہیں ابو الجن کو جان بھی کہا جاتا ہے، حضرت ابو عمر الزاہد فرماتے ہیں صرف جن جب لفظ بولا جائے گا تو یہ جنات کے کتے اور گھٹیا درجے کے جنات اس سے مراد ہو گا، علامہ ابن عقیل فرماتے ہیں کہ شیاطین جنات کی وہ قسم ہیں جو کہ اللہ پاک کے نافرمان ہیں اور یہ ابلیس لعین کی اولاد میں سے ہیں۔ علامہ ابن عقیل فرماتے ہیں مروۃ انتہائی سرکش اور گمراہ قسم کے جنات کی قسم ہے، جو جن انسانوں کے ساتھ سکونت رکھتے ہیں ان کو عامر کہا جاتا ہے جس کی جمع عمار ہے، اگر سامنے آ جانے والے جن کے بارے میں بات کی جائے گی تو ان کے لئے ارواح کا لفظ استعمال ہو گا اور جس طرح شریر اور سرکش کو شیاطین کہا جاتا ہے اگر اس سے بھی خطرناک جن ہوں تو ان کے لئے عفریت کا لفظ بولا جائے گا۔ حضرت جویر اور عثمان اپنی سند میں روایت فرماتے ہیں جب اللہ تعالی نے جنات کو پیدا فرمایا تو حکم ربی ملا جاو زمین کو جا کر آباد کرو۔ تو یہ اللہ تعالی کی عبادت میں مصروف ہو گئے، عرصہ دراز کی عبادت گزاری کے بعد انہوں نے سرکشی پکڑی اور رب کائنات کی نافرمانی میں لگ گئے، یہ خونریزی میں مصروف ہو گئے اور نا شکرگزاری میں اس حد تک بڑھ گئے کہ ان کا ایک بادشاہ تھا جس کا نام یوسف تھا، اس کو انہوں نے مار ڈالا تو حکم ربی کے بموجب دوسرے آسمان کے فرشتوں کا ایک لشکر ان کی گوشمالی کرنے کے لئے بھیجا گیا، اس لشکر کو جن کہا جاتا تھا، اس میں ابلیس بھی تھا جو کہ 4 ہزار کے لشکر کا سردار تھا، یاد رہے کہ ابلیس اس وقت تک عزازیل تھا اور ابھی سرکشی اختیار نہیں کی تھی اس نے، الغرض کہ کہ یہ فرشتوں کا لشکر زمین پر اترا اور بہت زیادہ اولاد جن کو زمین پر تباہ کیا، بہت سوں کو مار ڈالا، کچھ کو جلا وطن کر کے سمندر کے جزیروں کی طرف مار بھگایا، ابلیس اور اس کے لشکریوں نے زمین کو بہت پسند کیا اور زمین میں بود و باش اختیار کرلی۔ ابلیس نے حضرت آدم ؑ کی پیدائش سے بہت پہلے زمین میں اقامت اختیار کی تھی۔

(جاری ہے )

Facebook Comments HS