فنکار گل بہار بانو کا فن اور پاگل پن


مجھے ایک وڈیو نے جتنا سکھی کیا دوسرے وڈیو نے اتنا ہی دکھی کر دیا۔ ایک وڈیو میں فن کی کہانی پوشیدہ تھی اور دوسری وڈیو میں پاگل پن کی کہانی مخفی تھی۔ آج میں آپ کو دونوں کہانیاں سنانے آیا ہوں۔

جب میں نے پہلی دفعہ گل بہار بانو کی وڈیو دیکھی تو میں ان کے ہنستے مسکراتے کھلکھلاتے چہرے اور گانے کے دل نشیں انداز سے بہت متاثر ہوا۔ ان کے لہجے میں شگفتگی بھی تھی اور شادابی بھی۔ مجھے ان کے سراپا میں وہی خود اعتمادی دکھائی دی جو مجھے عابدہ پروین ’نیرہ نور اور پٹھانے خان کے انداز میں دکھائی دیتی تھی۔ چنانچہ میں نے گل بہار کو بھی اپنے پسندیدہ فنکاروں کی فہرست میں شامل کر لیا۔

گل بہار کی جس غزل کی وڈیو دیکھ کر میں ان کا مداح بنا تھا وہ غزل حاضر خدمت ہے

https://www.youtube.com/watch?v=qNY4xBXQTqU

چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری
لوگوں کا کیا سمجھانے دو ان کی اپنی مجبوری
میں نے دل کی بات رکھی اور تو نے دنیا والوں کی
میری عرض بھی مجبوری تھی ان کا حکم بھی مجبوری
روک سکو تو پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو
کچی مٹی تو مہکے گی ہے مٹی کی مجبوری
جب تک ہنستا گاتا موسم اپنا ہے سب اپنے ہیں
وقت پڑے تو یاد آ جاتی ہے مصنوعی مجبوری
مدت گزری اک وعدے پر آج بھی قائم ہیں محسنؔ
ہم نے ساری عمر نباہی اپنی پہلی مجبوری
میں نے غزل کا مقطع اور تخلص سنا تو اپنے آپ سے پوچھا
یہ کس محسن کی غزل ہے؟
محسن احسان کی ہے محسن نقوی کی ہے یا محسن بھوپالی کی۔
جب میں نے انٹرنیٹ اور یو ٹیوب پر تحقیق کی تو دو نئی باتوں کا پتہ چلا

پہلی بات یہ کہ اس غزل کو گل بہار کے علاوہ منی بیگم نے بھی گایا ہے۔ اس غزل کو سننے سے پہلے میں منی بیگم کی گائیکی سے کچھ زیادہ متاثر نہیں تھا لیکن یہ غزل انہوں نے بہت اچھی گائی ہے یہ علیحدہ بات کہ انہوں نے بوجوہ مقطع نہیں گایا۔ اگر میں نے منی بیگم کی غزل پہلے سنی ہوتی تو میری غزل کے خالق تک رسائی نہ ہوتی۔

دوسری بات یہ پتہ چلی کہ یہ غزل محسن بھوپالی کی ہے۔ جب میں نے غزل ان کی زبانی سنی تو پتہ چلا کہ اس غزل میں ایک اور شعر بھی ہے جو گل بہار بانو نے بھی نہیں گایا۔ وہ شعر ہے

ذات کدے میں پہروں باتیں اور ملیں تو مہر بلب
جبر وقت نے بخشی ہم کو اب کے کیسی مجبوری

گل بہار نے شاید سوچا ہو کہ یہ شعر قدرے ثقیل ہے اور بہت سے سننے والوں کو شاید آسانی سے ہضم نہ ہو اور سمجھ نہ آئے۔

گل بہار نے چند سالوں میں ہی مقبولیت اور شہرت کے بہت سے زینے طے کیے اور پاکستان کی صف اول کی فنکاروں میں شامل ہو گئیں۔ انہیں عوام و خواص میں ہی مقبولیت نہ ملی بلکہ ان کی سرکاری سطح پر بھی پذیرائی ہوئی اور انہیں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

لیکن پھر یوں ہوا کہ وہ پراسرار طریقے سے ریڈیو ’ٹی وی کی محفلوں اور سب کی نظروں سے اوجھل ہو گئیں۔

میں جوں جوں ان کی دوسری غزلیں سنتا رہا میری ان کے فن ’حالات زندگی اور ان کی شخصیت میں دلچسپی بڑھتی گئی۔

یہاں تک کی کہانی مجھے سکھی کرتی رہی اور میں مسلسل ایک فنکار کے فن کو سراہتا رہا۔
لیکن پھر میری ملاقات دوسری وڈیو سے ہوئی جس نے مجھے دکھی کر دیا۔

اس وڈیو میں ایک نوجوان جرنلسٹ نے بتایا کہ گل بہار بہاولپور میں اپنے استاد موسیقار افضل حسین سے موسیقی کے راز سیکھتی رہیں اور ڈائرکٹر عرفان علی نے نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کی بلکہ ان کا عوام و خواص سے تعارف بھی کروایا۔

گل بہار کی شہرت بڑھنے لگی تو اپنے فن کو مزید جلا دینے کے لیے وہ کراچی تشریف لے آئیں۔ یہاں وہ محبت میں گرفتار ہوئیں اور اپنے محبوب شوہر کی محبت میں سرشار زندگی گزارنے لگیں۔

گل بہار کی زندگی اور فن کا عروج اس وقت زوال کی طرف گامزن ہوا جب 2009 میں ان کے محبوب شوہر کراچی کے گلشن اقبال میں فوت ہو گئے۔ گل بہار اپنے شوہر سے ٹوٹ کر محبت کرتی تھیں اور ان کی وفات کے بعد وہ ٹوٹ کر بکھر گئیں۔ انہوں نے نہ صرف فن کا الوداع کہا بلکہ وہ مکمل طور پر گوشہ نشین ہو گئیں۔

ان کی زندگی میں ایسا دور بھی آیا جب ان پر بقول کسے پاگل پن کے دورے پڑنے لگے اور وہ اضطراری کیفیت میں کراچی کی سڑکوں پر دیوانوں کی سی حالت میں پھرنے لگیں۔

وڈیو میں بتایا گیا کہ وہ ذہنی بیماری سکزوفرینیا کی شکار ہو گئیں۔ دھیرے دھیرے گل بہار کے فن کے سنہرے خواب پاگل پن کے ڈراؤنے خواب بن گئے۔

چونکہ گل بہار کے پاس اپنی مقبولیت اور شہرت کی وجہ دولت بھی آ گئی تھی اس لیے ان کے بعض رشتہ داروں کے دلوں میں گل بہار سے ہمدردی سے زیادہ دولت کی ہوس نے جگہ بنا لی اور وہ ان کا سماجی اور معاشی استحصال کرنے لگے۔

2018 میں خانقاہ شریف کی پولیس کو جب پتہ چلا کہ ان کے سوتیلے بھائی نے انہیں قید کر رکھا ہے تو پولیس نے اس شخص کر گرفتار کیا اور عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ گل بہار کو ان کی مرضی کے مطابق ایک اور رشتہ دار کے گھر میں منتقل کیا جائے۔

گل بہار کی وڈیو دیکھ کر میں بہت دکھی ہوا اور میرے ذہن میں ایک ماہر نفسیات ہونے کے حوالے سے چند خیالات آئے جو میں پیش کیے دیتا ہوں۔

پہلا خیال یہ تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ گل بہار سکزوفرینیا کی مریض ہیں کیونکہ سکزوفرینیا کا مرض زیادہ تر جوانی میں ہوتا ہے اور ان لوگوں کو ہوتا ہے جو بہت ہی کم گو شرمیلے اور گوشہ نشین ہوتے ہیں۔ گل بہار جوانی میں بہت ہنستی کھیلتی زندگی گزار رہی تھیں۔ میرا خیال ہے کہ شوہر کی وفات کے بعد وہ ڈپریشن کا شکار ہو گئیں اور چونکہ ان کا بروقت علاج نہ ہوا اس لیے ان کا ڈپریشن شدید سے شدید تر ہوتا گیا۔ میں ایسی بہت سی خواتین سے مل چکا ہوں جنہوں نے اپنے شوہر اور محبوب کو اتنی شدت سے چاہا کہ جب وہ محبت بھرا رشتہ موت یا طلاق سے ختم ہوا تو وہ نفسیاتی طور پر بکھر گئیں۔

ڈپریشن جہاں ایک نہایت تکلیف دہ نفسیاتی عارضہ ہے وہیں وہ ایسا عارضہ بھی ہے جس کا تھراپی اور ادویہ سے کامیاب علاج ہو سکتا ہے۔ میں نے ’ہم سب‘ پر ایک کالم لکھا تھا جس میں میں نے ایک بزرگ مریضہ کہ کہانی لکھی تھی جو اپنے شوہر کی جدائی کے بعد سنگین ڈپریشن کا شکار ہو گئی تھیں لیکن علاج کے بعد وہ نہ صرف صحتمند ہو گئیں بلکہ اپنے فن کی طرف بھی لوٹ آئیں۔

میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ اگر گل بہار کی ڈپریشن کا علاج کیا جائے تو وہ صحتمند ہو سکتی ہیں۔

اس کالم لکھنے کا ایک مقصد یہ ہے کہا گر ہم سب کے بہاولپور ’خانقاہ شریف اور کراچی کے باسی جانتے ہیں کہ گل بہار کہاں ہیں تو وہ کسی ماہر نفسیات سے ان کا علاج کروا سکتے ہیں۔

میری نگاہ میں کسی بھی قوم کے ادیب اور شاعر ’فنکار اور دانشور اس قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اور یہ ہم سب کی اجتماعی سماجی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے فنکاروں کی خاص خیال رکھیں۔ جو قوم ایسا نہیں کرتی وہ فن کی روشنی سے جہالت کی تاریکی کی طرف سفر کرنا شروع کر دیتی ہے۔

ساقی فاروقی فرماتے ہیں
یہ کہہ کے ہمیں چھوڑ گئی روشنی اک رات
تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے
گل بہار بھی ایک فن کا چراغ ہیں جس کی حفاظت ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

اگر حکومت کسی فنکار کو صدارتی انعام دیتی ہے تو اس کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس فنکار کا اس وقت بھی خیال رکھے جب وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو۔

چاہے وہ میر تقی میر ہوں یا جون ایلیا ’منیر نیازی ہوں یا سارا شگفتہ وہ اپنی حساس طبیعت اور سماجی تضادات کی وجہ سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوئے اور ہم نے ان کا ایسا خیال نہیں رکھا جس کے وہ مستحق تھے۔ وہ سب تو اس دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن گل بہار ابھی زندہ ہیں اور ہم ان کا خیال رکھ سکتے ہیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اور ان کا دل پکار اٹھے

ڈھل گئی رات بہت دیر لگا دی جاناں
اب تو ملنے کی بھی امید مٹا دی جاناں

گل بہار بانو کی دوسری وڈیو دیکھنے کے بعد جب میں نے ان کی پرانی غزلوں کے وڈیو دوبارہ دیکھے تو مجھے ان کے اشعار میں نئے معنی دکھائی دیے۔ اب میں ان کا یہ شعر سنتا ہوں تو دل کی کیفیت بدل جاتی ہے اور میں سکھی ہونے کی بجائے دکھی ہو جاتا ہوں۔

جب تک ہنستا گاتا موسم اپنا ہے سب اپنے ہیں
وقت پڑے تو یاد آ جاتی ہے مصنوعی مجبوری

اور میں سوچنے لگتا ہوں کہ پاکستان کے سرکاری ’نیم سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی وہ کیا مصنوعی مجبوریاں ہیں کہ وہ اپنے قیمتی سرمائے اپنے ادیبوں شاعروں فنکاروں اور دانشوروں کا خیال نہیں رکھتے۔

۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

2 thoughts on “فنکار گل بہار بانو کا فن اور پاگل پن

  • 24/12/2021 at 10:10 شام
    Permalink

    واہ.. کیا حساس تحریر ہے!
    مکمل متفق

    • 11/01/2022 at 9:48 صبح
      Permalink

      thanks for your appreciation and inspiration

Comments are closed.